سانپ کے منہ میں چھچھوندر

میں ذاتی طور پر طالبان کا مداح نہیں۔ معروضی حقائق بھی لیکن میری ترجیحات کے مطابق نہیں ہیں۔ صحافیانہ فریضہ نبھاتے ہوئے ان پر نگاہ مرکوز رکھنا لازمی ہے۔ اسی باعث چند روز قبل یہ دعویٰ کرنے کو مجبور ہوا کہ طالبان سے فی الوقت ضرورت سے زیادہ لچک کی توقع نہ رکھی جائے۔

امریکہ کے علاوہ یورپ کے کئی طاقت ور ممالک کی افواج 20 برس تک ان کے ملک پر قابض رہی ہیں۔ غیر ملکی افواج کے پاس جدید ترین ہتھیار موجود تھے۔ اس کے علاوہ جاسوسی کا ایک مربوط نظام بھی میسر تھا۔ رات کے اندھیرے میں سفر کرنے والے مشتبہ افراد کی فضا میں اڑتے ڈرون طیاروں کی بدولت مسلسل نگرانی ہوتی تھی۔ ٹیلی فون پر ہوئی گفتگو کو ریکارڈ کرنے کی سہولتیں بھی وسیع پیمانے پر مو جود تھیں۔ محض منطق پر تکیہ کرتے ہوئے جائزہ لیا جائے تو جدید ترین ہتھیاروں اور وسائل سے مالا مال قابض افواج کو شکست دینا ناممکن نظر آتا تھا۔ حقیقت مگر یہ رہی کہ طالبان نے ناممکن کو ممکن بنا دیا۔ دنیا کی واحد سپر طاقت کہلاتا ملک ان سے مذاکرات کو مجبور ہوا اور بالآخر انتہائی ذلت آمیز انداز میں وہاں سے رخصت ہوا۔

دو دہائیوں کی جان لیوا مزاحمت کی بدولت کامل فاتحین کی طرح کابل لوٹے طالبان سے یہ امید باندھنا خام خیالی تھی کہ وہ اپنی حکومت تشکیل دیتے ہوئے افغانستان کے ان عناصر کو بھی اقتدار میں شامل کریں گے جو ان کی دانست میں غیر ملکی افواج کے سہولت کار رہے ہیں۔ تخت یا تختہ والے معرکوں کے انجام پر ایسی دریا دلی نہیں دکھائی جاتی۔ افغانستان میں سیاسی فریق اسلحہ کے بل بوتے پر اپنے باہمی قضیے نمٹاتے رہے ہیں۔ وہاں کے برعکس پاکستان میں دکھاوے کا مہذب کہلاتا پارلیمانی نظام کم از کم 2008 سے نافذ ہے۔ اس نظام نے بھی لیکن ہمارے معاشرے کو اندھی نفرت و عقیدت میں تقسیم کر رکھا ہے۔ عمران خان صاحب کو وزیر اعظم کا منصب سنبھالے تین برس گزر چکے ہیں۔ اس کے باوجود ان کی نگاہ میں سیاست دانوں کا روپ دھارے چور اور لٹیروں کا ذکر کرتے ہوئے ان کا چہرہ سرخ ہوجاتا ہے۔ وہ اور ان کے وفادار وزرامستقل شکوہ کناں رہتے ہیں کہ احتساب بیورو اور ہمارا عدالتی نظام ماضی کے حکمرانوں کو کماحقہ انداز میں سزائیں نہیں دے سکا۔ لندن میں مقیم ہوئے نواز شریف صاحب بھی موقع ملتے ہی غصے سے مغلوب ہو کر ”مجھے کیوں نکالا؟“ والا سوال دہرانا شروع ہو جاتے ہیں۔

مان لیتے ہیں کہ پاکستان ابھی حقیقی انداز میں جمہوری نہیں ہوا۔ امریکہ مگر جمہوری نظام کی بھرپور علامت تصور ہوتا ہے۔ وہاں کا میڈیا بہت دھانسو اور آزاد ہے۔ عدلیہ اپنی خودمختاری پر ہلکی آنچ بھی برداشت نہیں کرتی۔ انتخابی عمل کو شفاف رکھنے کی روایت بھی وہاں بہت توانا رہی ہے۔ ان تمام حقائق کے باوجود ٹرمپ اور اس کے حامیوں نے ابھی تک جو بائیڈن کو صاف ستھرے انداز میں منتخب ہوا صدر تسلیم نہیں کیا ہے۔ داخلی طور پر اندھی نفرت و محبت میں بٹے امریکہ کی یہ تمنا میرے جھکی ذہن کو احمقانہ محسوس ہو رہی تھی جو یہ تقاضا کر رہی تھی کہ طالبان اپنی حکومت تشکیل دیتے ہوئے اپنے مخالفین کو بھی اقتدار میں شامل کریں گے۔

ہمارے خطے میں فاتح قرار پائے دلاور مقبوضہ علاقوں میں کھوپڑیوں کے مینار تعمیر کیا کرتے تھے تاکہ خوف رعایا کی جبلت میں شامل ہو جائے۔ 1997 میں کابل فتح کرنے کے بعد طالبان نے ماضی کے صدر ڈاکٹر نجیب کو برسرعام سولی پر چڑھایا۔ کئی دنوں تک اس کی لاش وہاں لٹکی رہی۔ حامد کرزئی اور ڈاکٹر عبداللہ مگر ابھی بھی کابل میں موجود ہیں۔ ان کی جاں بخشی کا اعلان ہو چکا ہے۔ میری دانست میں یہ جاں بخشی حیران کن لچک کا اظہار ہے۔ طالبان اس سے مزید آگے نہیں جا سکتے تھے۔طالبان کی جانب سے دو دہائیوں تک جاری رہی مزاحمت کا ہمارے ہاں علمی انداز سے کبھی تجزیہ نہیں ہوا۔ اپنے مداحین کی نگاہ میں طالبان اسلام کے سپاہی ہیں۔ وہ طارق بن زیاد کی اوالعزمی یاد دلا دیتے ہیں۔ شہری متوسط طبقے کی موثر تعداد مگر انہیں پتھر کے زمانے تک محدود ہوا محسوس کرتی ہے۔ طالبان کی جانب سے برپا رہی مزاحمت میں کلیدی کردار ان افراد نے ادا کیا ہے جو افغانستان کے دیہاتوں میں نہایت عزم سے اپنی جڑیں مضبوط کرتے رہے۔

مقامی کمانڈر اس تناظر میں فیصلہ کن قوت کے حامل رہے ہیں جو روایتی فوج کی طرح ہر لمحہ ”کمانڈ اینڈ کنٹرول“ کے مربوط نظام کے تابع نہیں تھے۔ ان کمانڈروں نے 18 سے 30 برس کے ان نوجوانوں کو منظم کیا جن کے گھر اور کنبے قابض افواج کے ہاتھوں تباہ و برباد ہو گئے تھے۔ یہ نوجوان حکومتی تقاضوں سے قطعاً ناآشنا ہیں۔ ملا برادر جیسے کردار ان کی دانست میں محض مذاکرات کار تھے۔ اس کے سوا کچھ نہیں۔ دوحہ مذاکرات کے ذریعے ان کرداروں نے جو حاصل کرنا تھا کر لیا۔اب فیصلے میدان جنگ میں ڈٹے رہے سپہ سالار ہی کریں گے۔ منگل کے روز اپنی عارضی حکومت کا اعلان کرتے ہوئے طالبان نے اپنی نظریاتی اساس کا بھی بھرپور انداز میں ادعا کیا ہے۔ ان کی حکومت میں شامل ہوئے 33 افراد مدرسوں کے تعلیم یافتہ ملا ہیں۔ طالبان تنظیم کے بنیادی اراکین کو بھی اہم عہدے دیے گئے ہیں۔ ان ساتھیوں کو بھی نہیں بھولے جنہیں امریکہ گوانتاناموبے لے گیا تھا۔ یہ بات برحق کہ طالبان کی اعلان کردہ حکومت میں پشتو بولنے والوں کی نمائندگی بھاری بھر کم ہے۔

فقط ایک غیر پشتون یعنی قاری فصیح کو وزارت دفاع سونپی گئی ہے۔ اس کا تعلق بدخشاں سے ہے اور کابل پر قابض ہونے سے قبل ازبک اور تاجک اکثریتی علاقوں کو قاری فصیح کی قیادت ہی میں اطاعت کو مجبور کیا گیا تھا۔ ہزارہ کمیونٹی کو ابھی نمائندگی نہیں ملی ہے۔ مجھے ایک لمحے کو بھی یہ توقع نہیں تھی کہ طالبان حکومت میں کسی خاتون وزیر کو بھی شامل کیا جائے گا۔ اس کی وجوہات بیان کرنے کی ضرورت نہیں۔ طالبان نے جس حکومت کا اعلان کیا ہے اس میں کم از کم چار ایسے افراد بھی شامل ہیں جنہیں اقوام متحدہ نے دہشت گردوں کی فہرست میں ڈال رکھا ہے۔

سراج الدین حقانی اور خلیل حقانی کے سروں کی امریکہ نے قیمت بھی لگا رکھی ہے۔ سوال اٹھتا ہے کہ اقوام متحدہ کی جانب سے مرتب ہوئی دہشت گردوں کی فہرست میں شامل افراد کو وزیر بنانے والی حکومت کو روس اور چین جو عالمی ادارے میں ویٹو کی قوت رکھنے والے ممالک بھی ہیں فوراً تسلیم کریں گے یا نہیں۔ ایران کے رویے پر بھی توجہ دینا ہوگی۔ پاکستان اپنے تئیں طالبان حکومت کو عجلت میں تسلیم کرنا نہیں چاہے گا۔ اس کی خواہش ہوگی کہ کم از کم قطر اور چین بھی اس کے ساتھ مل کر منگل کے روز تشکیل پائی حکومت کو تسلیم کریں۔ طالبان نے نام نہاد عالمی برادری کی جانب سے مطلوب لچک ہرگز نہیں دکھائی ہے۔ انگریزی محاورے والا بال مگر انہوں نے اب عالمی برادری کے کورٹ میں پھینک دیا ہے۔ سانپ کے منہ میں چھچھوندر والا معاملہ ہے۔ دیکھنا ہوگا کہ اسے نگلا جاتا ہے یا نہیں۔

(بشکریہ: روزنامہ نوائے وقت)