عالمی برادری افغانستان کی نئی حقیقت کو تسلیم کرے: وزیر خارجہ
- جمعہ 10 / ستمبر / 2021
- 5520
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے عالمی برادری پر زور دیا ہے کہ وہ افغانستان کی نئی حقیقت کو تسلیم کرے اور امن و استحکام کے لئے اس کے ساتھ رابطے میں رہے۔
دفتر خارجہ میں اپنے ہسپانوی ہم منصب جوز مینوئل البرس سے وفود کی سطح پر مذاکرات کے بعد مشترکہ پریس کانفرنس کرتے ہوئے کہا کہ پاکستان اور اسپین کے مقاصد یکساں ہیں اور دونوں ممالک امن کے خواہاں ہیں، افغانستان میں پائیدار امن خطے کے مفاد میں ہے۔ ہمیں افغانستان کو انسانی بحران کی صورتحال سے بچانا ہوگا۔ عالمی برادری وہاں سامنے آنے والی نئی حقیقت کو تسلیم کرے اور اس کی بدلتی صورتحال اور استحکام میں اپنا کردار ادا کرے۔
شاہ محمود قریشی نے کہا کہ میرے خیال میں آگے بڑھنے کا بہترین طریقہ بین الاقوامی تنہائی کے برعکس بین الاقوامی بات چیت ہے۔ کیونکہ بین الاقوامی تنہائی کے ناپسندیدہ نتائج نکلیں گے جو افغانستان کے علاوہ خطے اور دنیا کے لیے کسی طور پر فائدہ مند نہیں ہوں گے۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ ایک نیا نقطہ نظر اپنانے کی ضرورت ہے اور اس حقیقت کو تسلیم کرنے کی ضرورت ہے کہ دھمکی، دباؤ اور جبر نے کام نہیں کیا۔ عالمی برادری اور عالمی ادارے افغانستان کے لیے مختص فنڈز بحال کریں، پاکستان بھی عالمی برادری کے ساتھ مل کر اپنی ذمہ داریاں ادا کرتا رہے گا۔
ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں معاشی بحران کسی کے حق میں نہیں، عالمی برادری کو افغانستان میں معاشی بہتری کے لیے کام کرنا چاہیے۔ انہوں نے جنیوا میں شیڈول کانفرنس کے اقدام کو سراہتے ہوئے کہا کہ اس سے واضح ہوگا کہ عالمی برادری کیسے افغانستان میں انسانی بحران کو ٹالنے اور افغانیوں کے لیے فنڈز اکٹھا کرنے میں کردار ادا کرتی ہے۔
شاہ محمود قریشی نے اس سلسلے میں پاکستان کی کوششوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ جمعرات کی صبح ہی پاک فضائیہ کا طیارہ امدادی سامان لے کر کابل پہنچا ہے۔ ہم زمینی اور فضائی راستوں سے اس سلسلے کو جاری رکھیں گے اور عالمی برادری کو بھی اس حوالے سے اپنا کردار ادا کرنا چاہیے۔
ان کا کہنا تھا کہ وہ پہلے بھی یہ کہہ چکے ہیں افغان فنڈز منجمد کرنے سے فائدہ نہیں ہوگا اور اس فیصلے پر دوبارہ غور کیا جانا چاہیے۔ وزیر خارجہ نے جمعرات کو کابل سے دوحہ روانہ ہونے والی پرواز میں افغانستان سے غیر ملکیوں کا انخلا بحال ہونے کی نشاندہی کرتے ہوئے کہا کہ یہ پیشرفت عالمی برادری کے مطالبات کے عین مطابق ہے۔
اس موقع پر اسپین کے وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ پاکستان کے ساتھ تعلقات مزید مستحکم کرنا چاہتے ہیں۔ اسپین، پاکستان کے ساتھ مضبوط اقتصادی تعلقات کا فروغ چاہتا ہے۔
افغانستان کے حوالے سے انہوں نے کہا کہ ہم بھی افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں، ہم چاہتے ہیں کہ وہاں انسانی امداد پہنچے اور امید ہے کہ شرائط پوری ہونے پر ایسا ممکن ہوگا۔ جوز مینوئل البرس نے کہا کہ اسپین 20 سالوں سے افغان عوام کے قریب رہا ہے اور انہیں تنہا نہیں چھوڑے گا۔