پنج شیر میں پاکستان کے طالبان کو مدد فراہم کرنے کے الزامات مضحکہ خیز ہیں: معید یوسف

  • جمعہ 10 / ستمبر / 2021
  • 5410

مشیر قومی سلامتی معید یوسف نے پنج شیر میں پاکستان کی جانب سے طالبان کو مدد فراہم کرنے کے الزامات مسترد کیا ہے۔ ان کا کہنا ہے کہ یہ بھارت جعلی نیوز نیٹ ورک کی گھڑی ہوئی کہانیاں ہیں۔

خیال رہے کہ طالبان کے پنج شیر پر قبضے کے بعد 7 ستمبر کو کابل میں احتجاجی مظاہرے کیے گئے تھے جس میں مظاہرین نے پاکستان کی مبینہ مداخلت کی مذمت کی۔ امریکی نشریاتی ادارے سی این این کے پروگرام ’سی این این کنیکٹ دی ورلڈ‘ میں میزبان بیکی اینڈرسن نے افغانستان میں طالبان مخالف قوتوں اور ایرانی وزارت خارجہ کی جانب سے افغانستان میں غیر ملکی مداخلت کی مذمت کے بارے میں معید یوسف سے سوال کیا۔

شو کی میزبان نے پوچھا کہ کیا پاکستانی فوج نے ڈرونز اور دیگر ہتھیاروں کا استعمال کرتے ہوئے پنج شیر میں طالبان کے مخالفین پر حملوں میں مدد فراہم کی؟ جس کے جواب میں مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ ’میں صرف اتنا ہی کہہ سکتا ہوں کہ یہ مضحکہ خیز ہے‘۔ انہوں نے کہا کہ کابل کی گزشتہ حکومت نے پاکستان پر الزامات کا سلسلہ شروع کیا تھا جس پر بدقمستی سے بین الاقوامی برادری نے بھی یقین کرنا شروع کردیا کیوں کہ وہ اپنی ناکامی پر بات نہیں کرنا چاہتی۔

پاکستان کی جانب سے پنج شیر میں طالبان کی ڈرون سے مدد کے الزامات کے جواب میں مشیر قومی سلامتی نے ایک کاغذ دکھایا جو بھارتی نیوز چیننلز کےاسکرین شاٹس پر مشتمل تھا۔ معید یوسف کا کہنا تھا یہ عناصر پاکستان کے خلاف جعلی خبریں پھیلا رہے ہیں۔

کاغذ پر ایک تصویر کی جانب اشارہ کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ برطانیہ کے علاقے ویلز میں ایک امریکی طیارے کی پرواز ہے جسے بھارت کے مرکزی میڈیا نے ایسا بنا کر پیش کیا کہ جیسے پاکستان پنج شیر میں کچھ کررہا ہے۔ انہوں نے کہا کہ بھارت نے  پاکستان کے خلاف جعلی نیوز نیٹ ورک بنانے میں لاکھوں ڈالرز خرچ کیے ہیں۔

بیکی اینڈرسن نے آئی ایس آئی کے سربراہ کے دورہ کابل کا حوالہ دیتے ہوئے معید یوسف سے افغانستان میں طالبان کی نئی حکومت کی تشکیل میں پاکستان کے کردار کے بارے میں بھی سوال کیا۔ معید یوسف نے کہا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ سے بہت پہلے امریکی خفیہ ایجنسی سی آئی اے کے ڈائریکٹر کیوں افغانستان گئے تھے؟ پاکستان کی سرحد افغانستان سے منسلک ہے اور سرحدوں کی حفاظت یقینی بنانے کے لیے نئی حکومت سے رابطہ کرنا تھا۔ آئی ایس آئی کے سربراہ نے کابل کا دورہ کیا اور وہ دوبارہ بھی کریں گے۔

مشیر قومی سلامتی نے اس بات کا بھی تذکرہ کیا کہ دیگر ممالک نے افغانستان سے انخلا کے لیے پاکستان سے مدد مانگی تھی اور اس معاملہ بھی تعاون درکار تھا۔ کسی سازشی تھیوری میں پاکستان کے ملوث ہونے کی رپورٹس مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ اس کی کوئی منطق نہیں کیوں کہ دورے کے دوران آئی ایس آئی کے سربراہ سے میڈیا نے انٹرویو بھی کیا جو اس بات کی نفی ہے کہ وہ کسی خفیہ مشن پر تھے۔

ان کا کہنا تھا کہ  پاکستان کو اپنےقومی مفاد کے تحفظ  کا حق ہے۔ اس مقصد کے لئے  افغانستان سے رابطہ بھی کیا جائے گا۔ دنیا کو سازشی نظریات سے آگے بڑھنے اور عام افغان کے فائدے کے لیے تعاون کر نے کی ضرورت ہے۔ معید یوسف نے افغانستان میں نئی حکومت کے قیام میں اسلام آباد کے ملوث ہونے کی تردید کرتے ہوئے کہا کہ وہ ایک خودمختار ملک ہے۔

قبل ازیں میزبان نے مشیر قومی سلامتی سے سی آئی اے کے ڈائریکٹر کی آرمی چیف جنرل قمر جاوید باجوہ اور آئی ایس آئی کے سربراہ نے ملاقات کے حوالےسے سوال کیا جس کے جواب میں انہوں نے کہا کہ سی آئی کے سربراہ افغانستان کی صورتحال پر تبادلہ خیال کے لیے آئے تھے اور اس طرح کی مشاورت جاری رہے گی۔ ملاقات میں افغانستان میں حالیہ پیش رفت کے بعد دہشت گردی کے خطرے پر بھی تبادلہ خیال کیا گیا جو ایسا معاملہ ہے جسے پاکستان کئی مرتبہ اٹھا چکا ہے۔

معید یوسف نے کہا کہ پاکستان کی افغانستان کے ساتھ ایک طویل سرحد ہے جس کی وجہ سے ملک میں گزشتہ 4 دہائیوں میں عدم استحکام پھیلا۔ 11 ستمبر کے بعد پاکستان میں بے شمار جانوں کا ضیاع ہوا، ملک کی معیشت کا نقصان ہوا اور اندرونِ ملک بے گھر ہوجانے والے افراد کے مسائل کا سامنا کرنا پڑا۔  

گیارہ ستمبر کے بعد پاکستان نے امریکا کی مدد کی تو دہشت گردوں نے یہاں کا رخ کرلیا۔ پاکستان کے لیے افغانستان میں عدم استحکام ایک بنیادی مسئلہ ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اس وجہ سے پاکستان بین الاقوامی برادری پر زور دے رہا ہے کہ افغانستان کے ساتھ رابطے میں رہیں اور معاشی بدحالی نہ ہونے دے۔

میزبان نے سوال کیا کہ کیا پاکستان دہشت گردی کے خلاف جنگ میں مزید تعان کرے گا جس کے جواب میں مشیر قومی سلامتی نے کہا کہ اس سلسلے میں پاکستان نے کب تعاون نہیں کیا ۔ پاکستان، افغانستان میں عدم استحکام اور رابطوں کا فقدان برداشت نہیں کرسکتا لیکن تعاون قانونی فریم ورک کے اندر ہونا چاہیے۔

معید یوسف کا مزید کہنا تھا کہ پاکستان میں کسی دوسرے ملک کی موجودگی نہیں ہے۔ پاکستان اس وقت تک شراکت دار نہیں ہو سکتا جب تک کہ اسے بین الاقوامی قوانین کے تحت لازمی اور منظور نہ کیا جائے۔ گیارہ ستمبر کے بعد جو غلطی کی گئی وہ دہرانی نہیں چاہیے، امریکا اور دوسروں نے کہا کچھ اور کیا کچھ اور۔

مشیر قومی سلامتی نے مزید کہا کہ افغانستان میں متوقع سیکیورٹی خلا اور دیگر مسائل کے بارے میں بات کرنے کے بجائے دنیا کو یہ مسائل دور کرنے پر توجہ دینی چاہیے۔  

ان کا کہنا تھا کہ افغانستان میں حقیقت سے منسلک ہوں، اچھے رویے کی حوصلہ افزائی کریں اور یہ کرکے عام افغان عوام کے لیے ایک حکومتی ماڈل حاصل کریں۔ یہاں سیکیورٹی خلا نہیں ہے کیوں کہ ملک مستحکم ہے۔ پاکستان افغانستان میں استحکام اور امن کے لیے بین الاقوامی برادری کے ساتھ کام کرنے کو تیار ہے۔

افغانستان میں تحریک طالبان پاکستان کو ملنے والی جگہ کے بارے میں پوچھے گئے سوال پر معید یوسف نے تسلیم کیا کہ ان کی جانب سے سیکیورٹی خطرات ہیں اور اسی وجہ سے آئی ایس آئی سربراہ کابل گئے تھے۔ پاکستان کا مؤقف ہے کہ افغان سرزمین دہشت گردی کی کارروائیوں کے لیے استعمال نہیں ہونی چاہیے۔

شو کی میزبان نے ایک مرتبہ پھر مشیر قومی سلامتی سے افغانستان میں پاکستان کے ملوث ہونے کے احتجاج کے بارے میں سوال کیا جس پر انہوں نے جواب دیا کہ ’وہاں 20 برسوں تک ذہنوں میں زہر گھولا گیا ہے۔ سابق افغان رہنماؤں نے پاکستان کو قربانی کا بکرا بنایا۔

انہوں نے کہا کہ کابل میں مظاہرے بہت بڑے نہیں تھے۔ یہ من گھڑت حقیقت تھی۔ افغانستان اور پاکستان کے مشترکہ تعلقات صدیوں پرانے ہیں۔ پاکستان خطے میں سیکیورٹی کو یقینی بنانے کے لیے افغانستان کے ساتھ مل کر کام کرتا رہے گا۔