طبی سہولیات اور اصلاحات پر ایم ایس ڈاکٹر نصراللہ سے گفتگو
قومی اداروں کی فعالیت کے لیے ہر محب وطن اور باشعور شہری کو اپنی ہمت و توفیق کے مطابق کردار ادا کرنا چاہیے۔ لیکن جو عوام سے ووٹ اور اداروں سے تنخواہیں لیتے ہیں ان پر زیادہ زمہ داری عائد ہوتی ہے۔
اداروں کی ترقی کے لیے پروفیشنل ہونے کے ساتھ ساتھ ویژنری ہونا بھی ضروری یے۔ ایک کمزور پروفیشنل آدمی اکثر انسٹیٹیوشن کا حصہ بن کر برین واش ہو جاتاہے جبکہ ویژنری اور اپنے ادارے سے مخلص افسر وقت کی ضرورتوں کے مطابق ادارے کے اندر مثبت تبدیلیاں لاتا ہے۔ سیاسی سماجی کارکنوں اور قلمکاروں کا فرض ہے کہ وہ صرف تنقید نہ کریں بلکہ جہاں اچھا کام ہو رہا ہو وہاں اس کی تعریف بھی کریں۔ اور حکومت کو بھی چاہیے کہ وہ کام کے ماحول اور سرگرمیوں کا خیال رکھے تاکہ اچھے کام کرنے والوں کی حوصلہ افزائی ہو۔ اسی جذبے کے تحت میں نے ڈسٹرکٹ ہیڈکوارٹر ہسپتال کوٹلی کے میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر سردار نصراللہ خان صاحب سے ملاقات کی۔
انہوں نے مجھے ہسپتال کے مختلف شعبوں کا وزٹ کروایا۔ انہوں نے کہا کسی بھی قسم کی مثبت تبدیل کے لیے ایک ٹیم بنانا پڑتی ہے ورنہ فرد واحد کچھ نہیں کر سکتا ۔ انہوں نے کہا وہ جنوری 2019 میں کوٹلی آئے اور تب سے ہر لحاظ سے ڈسٹرکٹ ہیڈ کوارٹر ہسپتال کوٹلی کا معیار بہتر بنانے کی کوشش میں لگے ہوئے ہیں جس میں انہیں کسی حد تک کامیابی بھی حاصل ہے۔ ڈاکٹر نصراللہ خان کا تعلق نکیال سے ہے ۔ انہوں نے آرمی میڈیکل کالج راولپنڈی سے ایم بی بی ایس کی ڈگری حاصل کر کے لاہور سے چائلڈ سپیشلائزیشن اور قائد اعظم یونیورسٹی سے پبلک ہیلتھ کا کورس کیا۔ اس میں ادارے کی ایڈمنسٹریشن کی تربیت شامل ہوتی ہے۔ شاید اسی تربیت کا نتیجہ ہے کہ ان کے اندر ہسپتال کی اصلاحات کی سوچ پیدا ہوئی ورنہ سیاسی بنیادوں پر پہلے بھی تعیناتیاں ہوتی رہی ہیں مگر کوئی خاص تبدیلی نظر نہ ائی۔
اب جب کچھ مثبت تبدیلیاں دیکھنے میں آئی ہیں تو ضروری ہے کہ جہاں ماضی میں ہم نے تنقید کی وہاں آج اچھے نظر آنے والے کام کی تعریف بھی کریں۔ کچھ تبدیلیوں کے لیے فنڈز نہیں بلکہ صرف صلاحیت، فرض شناسی اور احساس زمہ داری کی ضرورت ہوتی ہے۔ مثال کے طور پر مینجمنٹ ، انتظامی معاملات اور سٹاف کے رویے۔ ہمارے تجربے اور مشاہدے کے مطابق یہ چیزیں اکثر اداروں کی طرح کوٹلی ہسپتال کا بھی مسئلہ تھیں۔ آج میں نے انتظامی اور سٹاف کی ڈیوٹی کے حوالے سے کافی مثبت تبدیلیاں دیکھیں ۔ مردانہ اور زنانہ پرچی کاؤنٹر، او پی ڈی اور لیٹرین الگ الگ اور ماضی کی نسبت بہت صاف ہیں لیکن صفائی کے حوالے سے مریضوں اور ورثا کو بھی اپنی ذمہ داری کا خیال رکھنا چاہیے۔
میں جنرل او پی ڈی کی لیٹرین چیک کرنے گیا تو ایک ٹائلٹ میں پیمپر پڑا ہوا تھا جبکہ بلدیہ کے ڈسٹ بن ہونے کے باوجود کچھ لوگ کچرا ادھر ادھر پھینک رہے تھے۔ چند سال قبل میں ایک وارڈ میں گیا تھا تو نرسیں ٹیکے لگا کر سرینجیں فرش پر پھینک رہی تھیں۔ مریضوں کے بیٹھنے کے لیے جگہ ناکافی تھی مگر آج ایسی حالت نہ تھی۔ ہر شعبے کا اپنا ویٹنگ روم ہونے کی وجہ سے ماضی کی طرح بھگدڑ نظر نہیں ائی۔ ہسپتال میں تمام شعبوں کے ماہرین موجود ہیں۔ ان کے رویے بھی مناسب ہیں۔ ماضی میں کمپیوٹرز اور ملازم تو تھے لیکن کمپیوٹر آپریٹرز نے باہر اپنی دکانیں کھول رکھی تھی۔ آج میں نے ایک کمپیوٹر روم میں ملازم کام کرتے دیکھے مگر ان کے ساتھ کوئی بات چیت نہیں ہوئی۔ بعض پوائنٹس پر گائیڈ بھی دیکھے گئے۔ ایمرجنسی بھی قدرے بہتر ہے مگر بعض جگہوں پر مریض اپنی باری کی خلاف ورزی کرتے بھی دیکھے گئے مگر سٹاف نے انہیں روک دیا۔ چلڈرن وارڈ پہلے کی نسبت بہتر ہیں مگر مجموعی طور ہر گائنی وارڈ توجہ طلب ہے۔ دوسرے وارڈز بھی بہت تنگ ہیں جس کی شاید ایک وجہ یہ ہے کہ یہ ہسپتال 1984 میں تعمیر ہوا تھا۔ اس وقت اور آج کی ضروریات میں بہت فرق ہے ۔ اب علاقے کی آبادی میں اضافہ ہونے کے باعث ہسپتال ہر بوجھ بڑھ گیا ہے لیکن ابادی کے لحاظ سے سٹاف میں اضافہ نہیں ہوا۔
اس وقت بھی یہاں صرف دو سرجن اور ایک میڈیکل سپیشلسٹ ہے۔ ویسٹ مینجمنٹ پر توجہ کی ضرورت ہے جس کی وجہ سے ماحول میں آلودگی پھیل رہی ہے۔ بلدیہ کو مؤثر کردار ادا کرنے کی ضرورت یے۔ میڈیکل سپرنٹینڈنٹ ڈاکٹر نصراللہ نے بتایا کہ ہسپتال کی توسیع کا کام عنقریب شروع ہونے والا یے۔ اس سے 200 بستروں کا اضافہ ہو جائے گا اس کی منظور ی ن لیگ کی سابق حکومت نے دی تھی جس نے ہسپتالوں کے اندر ادویات کے کوٹہ میں بھی اصافہ کیا مگر جو مسئلہ مستقبل قریب میں حل ہوتا ہوا نظر نہیں آتا وہ ہارٹ کی بیماریوں سے متعلق سہولیات اور بڑے حادثات کے شکار مریضوں کی فوری مدد ہے۔ جس کے لیے اکثر مریض راولپنڈی بھیجے جاتے ہیں جہاں اخراجات کا بوجھ تو اپنی جگہ کئی مریض اس طویل سفر میں جان سے بھی ہاتھ دھو بیٹھتے ہیں۔
ماہرین کے مطابق راولپنڈی جیسی سہولیات کے لیے آزاد کشمیر میں ایسا ہسپتال درکار ہے جہاں میڈیکل کالج بھی ہو۔ آزاد کشمیر میں میڈیکل کالجز میرپور، راولاکوٹ اور مظفرآباد میں ہیں۔ اگر آزاد کشمیر کے تینوں ڈویژن میں ایک ایک ہسپتال ہو جائے تو بھی راولپنڈی کے نسبت بہتر ہے۔ یہ ایک ایسا مسئلہ ہے جو حکومت کو حل کرنا ہے۔ اس بارے چند روز قبل میں نے کالم لکھا تھا جس کے رد عمل میں وزیر صحت کے ایک نمائندہ نے مجھے بتایا کہ وزیر صحت ان تجاویز کو اگلے اجلاس میں زیر بحث لائیں گے لیکن میرا خیال ہے کہ آزاد کشمیر کے کچھ حقوق ایسے ہیں جن کے لیے سیاسی جماعتوں کو سیاسی وابستگیوں سے بالا تر ہو کر جد و جہد کرنی ہو گی۔ کیونکہ حکومت پاکستان آزاد کشمیر سے جو فنڈ جنریٹ کرتی ہے اس کا نصف بھی واپس آزاد کشمیر کو نہیں ملتا ۔
آزاد کشمیر حکومتوں کی غفلت اور نااہلی کی وجہ سے عزیز ویلفئیر ہسپتال کھوئی رٹہ جیسی جدید عمارت سردار عزیز کی ناگہانی موت کی وجہ سے بے کار پڑی یے۔ سردار عزیز کے تعزیتی ریفرنس پر سابق وزیراعظم سردار سکندر حیات خان نے انتہائی مایوس کن تقریر کرتے ہوئے کہا تھا کہ وہ سردار عزیز کو منع کرتے رہے کہ اتنا بڑا پروجیکٹ یہاں شروع نہ کریں۔ اب وہ رحلت فرما گئے اور یہ پروجیکٹ ادھورا رہ جائے گا۔ جبکہ سردار سکندر حیات صاحب کو کہنا یہ چائیے تھا کہ اگر سردار عزیز نے اکیلے اتنا بڑا کارنامہ سر انجام دیا ہے تو باقی کام وادی بناہ مل کر مکمل کرے گی۔ آزاد کشمیر میں پیسے کی کمی نہیں ہے۔ صرف ترجیحات درست کرنے کی ضرورت ہے۔
غور کریں کل تک ارب پتی سردار تنویر الیاس کا کسی نے نام تک نہ سنا تھا لیکن آج وہ سیاست پر بے دریغ دولت خرچ کر رہے ہیں۔ سردار عزیز بھی اسمبلی سیٹ خرید سکتے تھے لیکن انہوں نے ثابت کیا کہ وہ ایک کردار تھے اور کردار ہی تاریخ میں زندہ رہتے ہیں۔