الیکشن کمیشن کو دھمکیاں دینے پر وزیر ریلوے کے خلاف کارروائی کی جائے: سعد رفیق
- ہفتہ 11 / ستمبر / 2021
- 4350
مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے الیکشن کمیشن سمیت متعلقہ اداروں اور سول سوسائٹی پر زور دیا کہ وہ وزیر ریلوے اعظم سواتی کی دھمکیوں کا نوٹس لیں اور اس معاملے پر ان کے خلاف کارروائی کریں۔
جمعہ کو اعظم سواتی نے الیکشن کمیشن پر انتخابات میں ہمیشہ دھاندلی کرنے کا الزام لگایا تھا۔ جمعہ کو سینیٹ کی قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کا اجلاس پاکستان پیپلز پارٹی کے تاج حیدر کی زیر سربراہی منعقد ہوا تھا۔ یہ اجلاس الیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کرنے کے لیے بلایا گیا تھا۔ دوران اجلاس وفاقی وزیر نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان جیسے اداروں آگ لگا دینی چاہیے۔ کمیشن پر رشوت لے کر دھاندلی کرنے کا الزام بھی عائد کیا تھا۔
حکومت کی جانب سے تجویز کردہ ان ترامیم کا بنیادی مقصد انتخابات میں الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کا استعمال اور بیرون ملک مقیم افراد کو ووٹ کا حق دینا ہے۔ اعظم سواتی کے اس بیان کو مسلم لیگ(ن) کے رہنما سعد رفیق سمیت اپوزیشن جماعتوں نے شدید تنقید کا نشانہ بنایا ہے۔
لاہور میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے وزیر ریلوے کے بیان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ انہیں اپنی زبان کو لگام دینے کی ضرورت ہے۔ اگلا الیکشن چوری کرنے کے لیے الیکٹرانک ووٹنگ مشین سے وہی کام لیا جانا مقصود ہے جو آر ٹی ایس سسٹم بٹھا کر لیا گیا تھا۔ اپوزیشن بالخصوص ہماری جماعت اور تمام اسٹیک ہولڈرز نے واضح کردیا ہے کہ الیکٹرانک ووٹنگ مشین دنیا کی کوئی بڑی اور جدید جمہوریت استعمال نہیں کررہی۔ تو حکومت کو کیا مسئلہ ہے۔ مسئلہ یہ ہے کہ جادوگر کی جان اب الیکٹرانک ووٹنگ مشین میں ہے۔
ان کا کہنا بے لگام حکومتی وزرا الیکشن کمیشن کو ٹارگٹ کررہے ہیں۔ پہلے وہ سپریم کورٹ اور ہائی کورٹ کو ٹارگٹ کررہے تھے، ان کی زبانیں بہت گندی ہیں اور وہ اپنی زبانوں کو لگام دیں۔ شاید یہ تاریخ میں پہلی بار ہے کہ الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اصولی مؤقف اختیار کیا ہے۔ اس صورت میں یہ سول سوسائٹی، وکلا اور سیاسی جماعتوں کی اجتماعی ذمہ داری بنتی ہے کہ وہ الیکشن کمیشن کو دی گئی دھمکیوں کا نوٹس لیں اور ملکی اداروں کے دفاع اور حفاظت کے لیے اقدامات کریں۔
انہوں نے کہا کہ انتخابی اصلاحات پر الیکشن کمیشن کے اعتراضات کا منطقی جوابات دینے کے بجائے حکمران جماعت نے دھمکیوں کا سہارا لیا۔ پاکستان تحریک انصاف کے انتخابی اصلاحات بل کو نامنظور کرنے کے عزم کا اظہار کرتے ہوئے مسلم لیگ (ن) کے رہنما نے کہا کہ قومی اسمبلی میں اکثریت نہ ہونے کی وجہ سے بل منظور نہیں ہو سکتا۔
انہوں نے مزید کہا کہ پاکستان کی سول سوسائٹی اور انٹیلی جنس سمیت کوئی بھی الیکٹرانک ووٹنگ مشینوں کے ذریعے ہونے والے انتخابات کو قبول نہیں کرے گا۔ قومی اسمبلی میں ان کی اکثریت جعلی ہے اور اگر یہ جعلی پر اسے منظور کرا بھی لیتے ہیں تو ایسی قانون سازی کو کون مانے گا؟۔
مسلم لیگ(ن) کے رہنما نے کہا کہ جب تک اپوزیشن کے ساتھ مذاکرات کیے بغیر کوئی کوئی قانون سازی اور اس کے نتیجے میں کوئی انتخابات ہوئے تو اس کی کوئی قانونی حیثیت نہیں ہو گی، نہ کوئی اسے مانے گا اور نہ کوئی اس اسمبلی کے اندر جائے گا۔
انہوں نے کہا کہ پاکستان کو آتش فشاں کے دہانی پر نہ بٹھائیں، مدت چوری کرنے کے لیے آپ پوری قوم کے ساتھ فراڈ کرنا چاہتے ہیں، یہ فراڈ قوم کے ساتھ پہلے ہو چکا ہے اور اس کے نتیجے میں ملک دو لخت ہو گیا تھا۔