افغانستان سے پاکستانی کرنسی میں تجارت، ماہرین کے تبصرے
- تحریر بی بی سی اردو
- ہفتہ 11 / ستمبر / 2021
- 9250
افغانستان میں حکومت کی تبدیلی کے بعد پاکستانی مصنوعات کی طلب میں کئی گنا اضافہ دیکھنے میں آیا ہے۔ ان میں سب سے زیادہ اضافہ اشیائے خوردونوش کی طلب میں ہے۔
بلوچستان سے تعلق رکھنے والے کاروباری شخص اور برآمد کنندہ ناصر خان نے بی بی سی کو بتایا کہ صرف میرے کاروباری ادارے کی جانب سے افغانستان بھیجی جانے والی چیزوں کی طلب میں دو سو فیصد اضافہ ہؤا ہے۔ وہ افغانستان میں خوردنی تیل، چاول اور کھانے پینے کی دوسری چیزوں کی برآمد کے کاروبار سے منسلک ہیں۔
ںاصر خان ملک کے تاجروں اور صنعت کاروں کی سب سے بڑی نمائندہ تنظیم فیڈریشن آف پاکستان چمبرز آف کامرس اینڈ انڈسٹری (ایف پی سی سی آئی) کے نائب صدر بھی ہیں۔ انہوں نے بتایا کہ کابل میں تبدیلی افغانستان میں برآمد کرنے والے کاروباری افراد کے لیے نئے مواقع لائی ہے اور اب افغانستان سے زیادہ برآمدی آرڈرز آ رہے ہیں۔
اگرچہ پاکستانی برآمد کنندگان کو افغانستان سے زیادہ آرڈرز موصول ہو رہے ہیں تاہم دونوں ملکوں کے درمیان باہمی تجارت کا حجم کچھ زیادہ نہیں ہے اور یہ صرف 1.2 ارب ڈالر تک محدود ہے۔ اس باہمی تجارت کے شعبے میں ایک نئی پیشرفت اس وقت ہوئی جب پاکستان کے وزیر خزانہ نے سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کو بتایا کہ دونوں ملک اب باہمی تجارت مقامی کرنسیوں میں کریں گے۔ یہ تجارت مقامی کرنسیوں میں کب شروع ہو گی، اس کے بارے میں وزیر خزانہ نے وضاحت نہیں کی تاہم خطے میں افغاستان کی بدلتی صورتحال کی وجہ سے اسے اہم پیشرفت قرار دیا جا رہا ہے۔
مقامی کرنسیوں میں باہمی تجارت سے پاکستان میں شرح مبادلہ یعنی ڈالر اور روپے کے درمیان باہمی قدر پر کیا اثر پڑے گا، اس پر کرنسی کے کاروبار اور تجارت سے وابستہ افراد سے اسے ایک مثبت قدم قرار دیا ہے۔
تاہم دوسری جانب انڈین میڈیا میں بعض حلقے اس اقدام کو پاکستان کی جانب سے افغانستان کی معیشت کنٹرول کرنے کی کوشش قرار دے رہےہیں۔
IMAGESپاکستان میں ایکسچینج کمپنیز ایسوسی ایشن آف پاکستان کے جنرل سیکرٹری ظفر پراچہ نے بتایا کہ پاکستان سے افغانستان کافی بڑی مقدار میں ڈالر سمگل ہو رہے ہیں۔ کابل میں تبدیلی کے بعد بیرونی دنیا سے ڈالر افغانستان آنا بند ہو چکے ہیں تو اس کا اثر پاکستان پر اس صورت میں پڑا کہ پاکستان سے افغانستان ڈالر سمگل ہونا شروع ہو گئے۔ طالبان کی حکومت آنے سے پہلے ایسی صورتحال نہیں تھی کیونکہ امریکہ اور دوسرے ممالک سے آنے والی امداد اور گرانٹس کی صورت میں بڑی تعداد میں ڈالرز افغانستان آتے تھے۔
’اب صورت حال بدل چکی ہے اور یہی سمگل شدہ ڈالر افغانستان سے پاکستان اس وقت واپس آتے ہیں جب وہاں کے درآمدی شعبے کو پاکستان سے مصنوعات خریدنا ہوں۔ ظفر پراچہ نے بتایا کہ افغانستان کی اپنی کرنسی ہونے کے باوجود وہاں مقامی طور پر ڈالروں کا استعمال زیادہ ہے۔ جیسے کہ اگر آپ مکان کرائے پر دے رہے ہیں تو وہاں ڈالروں میں ادائیگی ہوتی ہے۔
انہوں نے کہا کہ ڈالر اس لیے بھی سمگل ہو رہے ہیں کہ جو افراد افغانستان چھوڑ کر جانا چاہتے ہیں وہ اپنی جمع پونجی ڈالروں میں بدل کر بیرون ملک جانا چاہتے ہیں۔ پراچہ نے بتایا کہ جب مقامی کرنسی میں تجارت ہو گی تو ڈالروں کی افغانستان میں ڈیمانڈ کم ہو گی تو پاکستان سے وہاں سمگلنگ بھی کم ہو گی۔
ماہر معیشت ڈاکٹر فرخ سلیم نے اس بارے میں تبصرہ کرتے ہوئے کہا کہ طالبان کی حکومت آنے سے پہلے گزشتہ حکومت میں چھ سے سات ارب ڈالر امریکہ، 500 ملین ڈالر یوریی یونین اور افغان تعمیر نو فنڈ کے پاس 12 ارب ڈالر تھے اور ان ڈالروں کی فراوانی کی وجہ سے ان کا بہاؤ پاکستان کی جانب رہتا تھا۔ اب یہ رجحان بدل چکا ہے اور اب ڈالروں کا رُخ پاکستان سے افغانستان کی طرف ہو گیا ہے۔
ایف پی سی سی آئی کے صدر ںاصر حیات مگوں نے اس سلسلے میں کہا کہ پاکستان سے افغانستان برآمد ہونے والے مال کی ادائیگی ڈالروں میں ہو رہی تھی کیونکہ یہاں سے ڈالر افغانستان جا رہے ہیں اور وہی دوبارہ برآمدی مال کی ادائیگی کی صورت میں پاکستان واپس آجاتے ہیں۔ مقامی کرنسی میں تجارت سے ڈالر پر سے یہ پریشر ہٹے گا جو ڈالر اور روپے کے شرح مبادلہ کے لیے بہتر ہو گا۔
پاکستان اور افغانستان کے درمیان مقامی کرنسیوں میں تجارت کیا ممکن ہے، اس پر بین الاقوامی تجارت کے امور کے ماہر اقبال تابش نے ہاں میں جواب دیا ہے۔ وہ کہتے ہیں کہ دنیا میں کئی ممالک جن کی سرحدیں آپس میں ملتی ہیں وہاں مقامی کرنسیوں میں پڑوسی ملکوں کے درمیان باہمی تجارت ہوتی ہے۔ مقامی کرنسی کے علاوہ بارٹر سسٹم کے تحت بھی تجارت ہوتی ہے۔ تاہم ان کے مطابق اس کی کچھ حد مقرر ہوتی ہے کہ فلاں فلاں چیز اس نظام کے تحت مقامی کرنسیوں یا بارٹر سسٹم کے تحت ایک دوسرے کے ملک میں آ جا سکتی ہیں۔
ماہر معیشت ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اس سلسلے میں کہا مقامی کرنسیوں میں تجارت کے لیے بہت ساری ادارہ جاتی اور قانونی تبدیلیاں کرنا ہوں گی جن کے بارے میں ابھی حکومت نے کوئی وضاحت نہیں کی کہ وہ یہ کام کیسے کریں گے۔ قیصر بنگالی نے کہا کہ پاکستان نے اس سے پہلے کسی ملک کے ساتھ مقامی کرنسیوں میں باہمی تجارت کا کام نہیں کیا۔ عملی طور پر پاکستان اور افغانستان یہ کیسے کریں گے، اس کا میکینزم ابھی تک واضح نہیں۔
ڈاکٹر فرخ سلیم نے کہا کہ افغانستان کی معیشت کتنی بڑی ہے کہ ہم ان اقدامات سے کچھ فائدہ اٹھا سکیں۔ انہوں نے کہا بظاہر یہ بیان ہی لگتا ہے اور اس کے ساتھ ساتھ یہ انتظام ان ممالک کے درمیان زیادہ سود مند ہوتا ہے جن کے درمیان تجارتی حجم بہت زیادہ ہو۔ ’یہاں لے دے کر وہ ہمیں کچھ انگور اور خشک میوہ جات بھجواتے ہیں اور ہمارے ہاں سے آٹا اور چینی جاتا ہے۔ وہ بھی زیادہ تر سمگلنگ سے افغانستان پہنچتا ہے۔
ڈاکٹر فرخ سلیم کے مطابق پاکستان کی مجموعی بیرونی تجارت میں افغانستان سے تجارت ایک بہت قلیل حصہ ہے۔ ’افغانستان کی معیشت کیا ہے؟ صرف درآمد پر انحصار کرنے والی معیشت جبکہ ان کے پاس بیچنے کو کچھ بھی نہیں ہے۔ افغانستان کی کل برآمدات ڈھائی ارب ڈالر ہیں اور اس کی درآمدات ساڑھے سات ارب ڈالر۔‘
انہوں نے کہا یہ کوئی ایسا اقدام نہیں ہے کہ جس سے پاکستان کی بیرونی تجارت کو بہت بڑا فائدہ پہنچے۔
ڈاکٹر قیصر بنگالی نے بھی کچھ ایسے خیالات کا اظہار کرتے ہوئے کہا کہ اس سے کوئی بڑا فائدہ پاکستان کی بیرونی تجارت کے شعبے میں نہیں آنے والا۔
پاکستان کے وزیر خزانہ کی جانب سے افغانستان کے ساتھ تجارت کو مقامی کرنسی میں کرنے کے بیان پر انڈین میڈیا نے اسے پاکستان کی جانب سے افغانستان کی معیشت پر کنٹرول کا ایک اقدام قرار دیا ہے۔ ڈاکٹر قیصر بنگالی نے اسے انڈین میڈیا کی جانب سے پروپیگنڈا قرار دیتے ہوئے کہا کہ انڈیا کو سٹرٹیجک طور پر جو شکست ہوئی ہے یہ اس کا نتیجہ ہے۔ یہ بات یاد رکھنی چاہیے کہ طالبان نے بیس سال کی جنگ کے بعد حکومت سنبھالی ہے۔ ’وہ پاکستان کیا کسی کو بھی اپنے اوپر حکم نہیں چلانے دیں گے۔‘ سب سے بڑھ کر یہ تلخ حقیقت ہے کہ پاکستان کے پاس وہ صلاحیت، وسائل اور افرادی قوت ہی نہیں ہے کہ جو کسی دوسرے ملک کی معیشت کو اپنے کنٹرول میں کرنے کے قابل ہو۔