آٓئندہ انتخابات نئی مردم شماری کی بنیاد پر ہوں گے: اسد عمر
- ہفتہ 11 / ستمبر / 2021
- 4700
وفاقی وزیر منصوبہ بندی و ترقیات اسد عمر نے کہا ہے کہ ملک میں نئے انتخابات نئی مردم شماری اور نئی حلقہ بندی کی بنیاد پر ہوں گے۔ انہوں نے دعویٰ کیا کہ عمران خان ایک مرتبہ پھر وزیر اعظم منتخب ہوں گے۔
کراچی میں وزیر بحری امور علی زیدی کے ہمراہ پریس کانفرنس کے دوران انہوں نے کہا کہ مشترکہ مفادات کونسل کی منظوری کے بعد مردم شماری 2023 کے اوائل میں مکمل کرنے کا ہدف ہے اور اس کے بعد حلقہ بندی کی جائے گئی۔ انہوں نے کہا کہ اکتوبر کے آخر تک کراچی کا گرین لائن منصوبہ فعال ہوگا۔
کراچی کے ساتھ معاشی مستقبل جڑا ہوا ہے اور معاشی مستقبل سے قومی سلامتی جوڑی ہوئی ہے کیونکہ 50 فیصد ایکسپورٹ اسی صنعتی شہر سے ہورہی ہے۔ انہوں نے وزیر اعظم عمران خان کا حوالہ دیتے ہوئے کہا کہ سابقہ صوبائی حکومتوں نے کراچی میں بڑے کام نہیں کیے اس لیے بڑے منصوبوں پر کام جاری ہے۔
انہوں نے کہا کہ کراچی کا سب بڑا مسئلہ پانی ہے۔ کے فور منصوبہ ایک دہائی سے التوا کا شکار تھا۔ شدید اختلاف کے باوجود ہم نے منصوبہ کی ذمہ داری لی اور 28 اکتوبر تک منصوبے کا ڈیزائن کو حتمی شکل دے دی جائے گی۔ فروری 2022 میں کام دوبارہ شروع ہوگا، منصوبے کو حکومت سندھ سے وفاقی ادارے واپڈا کے پاس منتقل کردیا ہے۔
مردم شماری سے متعلق انہوں نے کہا کہ کراچی میں شفاف مرد شماری کا مطالبہ دیرینہ ہے۔ 2017 میں ہونے والی مردم شمار پر بہت اعتراض سامنے آئے تھے۔ لیکن حکومت سندھ نے مردم شماری کا سارا ڈیٹا جمع کیا اور خودہی احتجاج کیا۔کابینہ کی منظوری کے لیے سمری دی ہے۔ مردم شماری دوبارہ ہوگی جس میں ٹیکنالوجی کا استعمال ہوگا۔ نادرا، ٹیلی سیکٹر کی کمپنیوں سمیت دیگر بڑے اداوں کی معاونت حاصل ہوگی۔
اسد عمر نے کہا کہ ہم مردم شماری سے متعلق حقیقت چاہتے ہیں، جو نتائج ہیں وہ سامنے آجائیں۔ تمام اسٹیک ہولڈرز کو شامل کررہے ہیں، کابینہ کی منظوری کے بعد سمری مشترکہ مفادات کو نسل کو ارسال کردیا جائے گا۔
منظوری کے بعد مردم شماری کے عمل کو 18 مہینے میں مکمل کرنا ہے۔ 2023 کے اوائل کے مردم شماری مکمل کرنے کا ہدف ہے اور اس کے بعد حلقہ بندی کی جائے گی۔