ہتھیار پھینکنے پر تحریک طالبان پاکستان کے ارکان کو عام معافی دی جاسکتی ہے: صدر عارف علوی

  • ہفتہ 11 / ستمبر / 2021
  • 7100

پاکستان کے صدر عارف علوی نے کہا ہے کہ پاکستانی حکومت کالعدم تحریک طالبان (ٹی ٹی پی) کے ان اہلکاروں کے لیے عام معافی پر غور کرسکتی ہے جو جرائم پیشہ سرگرمیوں میں ملوث نہیں اور ہتھیار ڈالنے کے بعد پاکستانی آئین کی پاسداری کا اعلان کرتے ہیں۔

ڈان نیوز کے ایک پروگرام میں بات کرتے ہوئے عارف علوی کا کہنا تھا کہ ٹی ٹی پی پاکستان کے لیے بدستو ایک خطرہ ہے۔ طالبان کی ٹاپ لیڈرشپ نہیں بلکہ سیکنڈ یا تھرڈ ٹیئر کی جانب سے یہ بات آئی ہے کہ ہم یہ کہیں کہ یہ ہمارے ہاں رہیں مگر کوئی حرکت پاکستان کے خلاف نہیں کریں۔

ان کا مزید کہنا تھا کہ پاکستانی حکومت نے کہا کہ جو لوگ ہتھیار ڈال کر پاکستان کے آئین کے ساتھ چلنا چاہتے ہیں، اسے منظور کر کے، تو پاکستان بھی سوچے گا کہ ان کو ایمنسٹی دے یا نہ دے۔ ایک قدم ہے۔ پاکستان سوچے گا۔

اس سوال پر کیا پاکستان میں دہشتگرد حملے کرنے والوں، جیسے مولوی فضل اللہ، کو عام معافی دینے کے بارے میں سوچا جا رہا ہے، پاکستانی صدر نے کہا کہ ’میں کسی کا نام نہیں لے رہا۔ ایسے لوگ جو جرائم پیشہ سرگرمیوں میں نہیں رہے۔ سب سے پہلی بات تو وہ ہے۔ وہ اپنے ٹی ٹی پی والے نظریات چھوڑ کر پاکستان کے آئین کی پابندی کرنے کے اعتبار سے آنا چاہیں تو حکومت سوچ سکتی ہے کہ کوئی معافی کا ڈکلیریشن کرے‘۔

امن کا طریقہ تو یہ بھی ہوسکتا ہے۔ یہ نہیں کہ پاکستانی ہیں اور جتنے ہزار بھی ہیں وہ باہر رہیں کہ ہم نے انہیں پورا نامنظور کردیا ہے۔

اس دوران اقوام متحدہ نے طالبان کی جانب سے اپنے مخالفین کے خلاف بڑھتے ہوئے پُرتشدد ردعمل کی مذمت کی ہے۔ ادارے کا کہنا تھا کہ حالیہ مظاہروں میں طالبان کے جنگجوؤں نے چار افراد کو ہلاک کیا ہے۔ افغانستان میں طالبان کی جانب سے اقتدار پر قابض ہونے کے بعد ملک بھر میں ان کے خلاف مظاہرے دیکھے گئے ہیں جن میں ان سے آزادی اور خواتین کے حقوق کا مطالبہ کیا جا رہا ہے۔

اقوام متحدہ نے اپنی رپورٹ میں کہا ہے کہ طالبان نے مظاہرین کے خلاف براہ راست اسلحے، لاٹھیاں اور کوڑے استعمال کیے ہیں۔ اقوام متحدہ کی ہائی کمشنر برائے انسانی حقوق نے اپنے بیان میں کہا ہے کہ ہم طالبان سے مطالبہ کرتے ہیں کہ پُرامن احتجاج کرنے والے افراد اور مظاہروں کی کوریج پر جانے والے صحافیوں کے خلاف طاقت کا استعمال اور من مرضی حراست جیسے اقدامات روکے جائیں۔

دوسری طرف پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے اگلے ہفتے اسلام آباد سے کابل کے لیے پروازیں دوبارہ شروع کرنے کا اعلان کیا ہے۔ ایئرلائن کے ترجمان نے سنیچر کے روز خبر رساں ادارے اے ایف پی کو بتایا کہ طالبان کی جانب سے گذشتہ ماہ اقتدار پر قبضے کے بعد یہ پہلی غیر ملکی کمرشل سروس ہے۔

پی آئی اے کے ترجمان عبداللہ حفیظ خان نے کہا  کہ ہمیں فلائٹ آپریشن کے لیے تمام تکنیکی منظوری مل گئی ہے۔ ہمارا پہلا کمرشل طیارہ ، (ای) ایئربس اے 320، 13 ستمبر کو اسلام آباد سے کابل کے لیے روانہ ہوگا۔

تاہم تھوڑی ہی دیر بعد پاکستان انٹرنیشنل ایئرلائنز نے وضاحت کی  کہ کابل کے لیے پروازوں کی بحالی میں ابھی کچھ وقت لگے گا۔ پی آئی اے کابل کے لیے عمومی پروازیں شروع کرنے کا خواہش مند ہے مگر ابھی اس میں کچھ وقت ہے۔

ترجمان کا کہنا ہے کہ کابل میں موجود چند اداروں نے پی آئی اے سے رابطہ کیا ہے کہ چارٹر پروازیں آپریٹ کی جائیں، پی آئی اے نے چارٹر پروازیں آپریٹ کرنے کے لیے اجازت نامے بھی طلب کر لیے ہیں۔ تاہم پروازوں کی حتمی روانگی کے لیے کچھ انتظامات کی ضرورت ہے جو ابھی تک مکمل نہیں ہوئے۔

ترجمان پی آئی اے کا مزید کہنا ہے کہ پروازوں کی روانگی سے قبل اس بارے میں مکمل معلومات مہیا کی جائیں گی اور چارٹر پروازوں کے حصول کے لیے پی آئی اے کے کابل یا اسلام آباد آفس سے رابطہ کیا جاسکتا ہے۔