ناروے میں عام انتخابات
13 ستمبر 2021 کو ناروے میں قومی اسمبلی کے انتخابات ہورہے ہیں - ناروے میں قومی اسمبلی کے انتخابات ہر 4 سال بعد ہوتے ہیں – ناروے کی قومی اسمبلی میں منتخب نمائندوں کی کل تعداد 169 ہے۔
2021 کے قومی اسمبلی کے انتخابات میں کورونا کی صورتحال کی وجہ سے اب تک 45 % پیشگی ووٹ ڈالے جا چکے ہیں۔ دارالحکومت اوسلو کی 19 نشستوں پر سخت مقابلے کی توقع ہے۔ اوسلو کی 15 یونین کونسلوں میں 103 پولنگ اسٹیشن ہیں۔
دارالحکومت اوسلو کی آبادی دنیا کے دوسرے بڑے شہروں کی طرح، سیاسی نظریات اور سرمائے کے حجم کے مطابق مختلف علاقوں میں رہائش پذیر ہے۔ شہر کے مغربی حصے میں زیادہ تر کاروباری لوگ ، تاجر اور سرمایہ دار رہتے ہیں، جبکہ شہر کے مشرقی حصے میں متوسط طبقہ، ملازم پیشہ، درمیانی درجے کے کاروباری لوگ رہتے ہیں۔
آمدن اور سرمائے کی تقسیم کی جھلک اوسلو کے انتخابی نتائج سے واضح نظر آتی ہے کہ کون سے ووٹر کس علاقے میں کس پارٹی اور سیاسی نظریات کو ووٹ ڈالتے ہیں۔اوسلو شہر کے مغربی حصے کی آبادی کی اکثریت دائیں بازو کی پارٹیوں کی ووٹر ہے جبکہ مشرقی حصے کی آبادی بائیں بازو کی پارٹیوں کی ووٹر ہے ۔
2017 کے قومی اسمبلی کے نتائج کے مطابق اوسلو شہر کی 5 یونین کونسلوں نورستراند، فورگنر، اولرن، ویسترے آکر اور نوردرے آکر میں دائیں بازو کی پارٹیوں ہائرے، ایف آر پے ، وینسترے اور کے آر ایف نے اکثریت حاصل کی ۔ جبکہ 2017 کے قومی اسمبلی کے انتخابات کے نتائج کے مطابق شہر کی 9 یونین کونسلوں سوندرے نورستراند، آلنا، ستونر، گرورڈ، بے یرکے، گرینر لوکا، پرانا شہر، ساگنے،اوستن شو، میں بائیں بازو کی پارٹیوں آربایدر پارٹی، سوشل وینسترے، ریڈ، کسان پارٹی اور ماحولیاتی پارٹی نے اکثریت حاصل کی ۔
2017 کے قومی اسمبلی کے انتخابات کے مطابق اوسلو کی قومی اسمبلی کی 19 نشستوں پر دس نشستیں دائیں بازو کی پارٹیوں نے جیتییں جبکہ 9 نشستیں پر بائیں بازو کی پارٹیوں نے کامیابی حاصل کی۔
2021 کے قومی اسمبلی کے انتخابات کے جائزوں کے مطابق اس دفعہ اوسلو میں بائیں بازو کی اکثریت کے امکانات ہیں۔ جس میں آربایدر پارٹی کے 6 اور سوشل وینسترے کے 2 مزید نشستیں جیتنے سے بائیں بازو واضح جیت حاصل کرنے کے امکانات ہیں۔ جس سے بائیں بازو کو اوسلو سے 12 نشستیں ملنے کا امکان ہے جبکہ دائیں بازو کو 7 نشستیں ملنے کا امکان ہے۔