اصلاحات کا نامکمل ایجنڈا

وزیر اعظم عمران خان کے بقول غربت، غذائی قلت، عدم تحفظ،،ماحولیاتی تبدیلی سمیت حکمرانی کا نظام پاکستانی معاشرے کے بڑے چیلنجز ہیں۔ ان کے بقول نیا نظام کوئی بٹن دبانے سے نہیں بن سکتا اور نظام کی اصلاح میں ایک بڑا وقت اور کئی بڑی رکاوٹوں کا سامنا ہے۔

وزیر اعظم کا تجزیہ بجا ہے اوران مسائل یا مشکلات سے نمٹنا ہی ریاست، حکومت اور اداروں کا بڑا چیلنج ہے۔ کیونکہ اگر ہم نے واقعی حقیقی تبدیلی کی طرف جانا ہے تو جو بھی موجودہ سیاسی، سماجی، اقتصادی، قانونی، انتظامی اور معاشرتی نظام ہے اس میں بڑے پیمانے پر غیر معمولی تبدیلیوں یا کڑوی گولیوں کو کھائے بغیر اصلاحات اوراس کے نتیجہ میں تبدیلی کا عمل ممکن نہیں۔ تبدیلی کا عمل محض خواہش، نعروں، دعووں یا سیاسی بھڑکوں سے ممکن نہیں ہوتا۔ اس کے لیے وسیع پیمانے پر ریاستی وحکومتی نظام میں مشاورت کی بنیاد پر ایک ایسے روڈ میپ درکار ہوتا ہے جو ریاستی نظام میں شفافیت اور موثر حکمرانی کے نظام کو یقینی بناتا ہے۔

مسائل سے نمٹنے کی بنیادی کنجی مسائل کا درست ادراک، مضبوط او رمربوط بنیادوں پر ترجیحات کا تعین، مسائل کی بنیاد پر وسائل کی منصفانہ تقسیم، نگرانی اور جوابدہی کا موثر نظام سے جڑا ہوتا ہے۔ ریاستی و حکومتی سطح پر تین طرز پر منصوبہ بندی کی ضرورت ہوتی ہے جن میں شارٹ ٹرم، مڈٹرم اور لانگ ٹرم بنیادوں پر حکمت عملی درکار ہوتی ہے۔ لیکن یہ کام اسی صورت میں ممکن ہوتا ہے جب ریاستی و حکومتی نظام میں مسائل سے نمٹنے کی حکمت عملی میں محض ردعمل کی سیاست کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر ایک ایسے نظام کی طرف بڑھنا ہوتا ہے جہاں مسائل سے نمٹ کر معاملات کو سلجھانے کی حکمت عملی درکار ہے۔وزیر اعظم عمران خان نظام سے جڑے معاملات اور ان میں موجود خرابیوں کی تو نشاندہی کرتے ہیں مگر اصل سوال اور غور طلب پہلو ان مسائل سے نمٹنے میں ان کی حکمت عملیوں کا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے اقتدار سنبھالتے ہی خود کو اوراپنی حکومت کو نظام کی تبدیلی کے ساتھ جوڑ کر پیش کیا تھا۔ ان کے بقول ان کا ترجیحی ایجنڈا اصلاحات سے جڑا ہوگا۔ان میں خاص طور پر انہوں نے پولیس نظام، حکمرانی کے نظام کی شفافیت کے لیے موثر مقامی طرزحکومتوں کا نظام، شفاف احتساب،بیوروکریسی او رایف بی آر میں بنیادی نوعیت کی تبدیلی سمیت شفاف معاشی اصلاحات جو عام آدمی کو طاقت دے سکے تھا۔ ان تین برس پر مبنی حکمرانی میں حکومتی سطح پر عملی اقدامات تو بہت اٹھائے گئے جن میں احساس پروگرام، کسان کارڈ، صحت کارڈ، جوان پاکستان پر مبنی منصوبے شامل ہیں۔ لیکن یہ تسلیم کرنا ہوگا کہ حکومتی سطح پر ایک بڑے وسیع پیمانے پر ادارہ جاتی اصلاحات کا ایجنڈا او راس سے جڑے نتائج پر وہ کام نہیں ہوسکا جو کیا جانا چاہیے تھا۔اس کی ایک بڑی وجہ تو ہمیں ادارہ جاتی اصلاحات کی بنیاد پر عدم تسلسل کی پالیسیاں اور  تواتر کے ساتھ انتظامی یا سیاسی حکومتی ٹیم میں بار بار کی تبدیلیوں کا عمل میں بہتر نتائج نہیں دے سکا۔

ایک عام آدمی کے بڑے مسائل میں بڑھتی ہوئی مہنگائی، کرونا کی بنیاد پر پھیلی ہوئی بے روزگاری، عدم معاشی تحفظ، پٹرول او ربجلی کی قیمتوں میں اضافہ، مہنگی ادوایات،عدالتی او رپولیس نظام سے انصاف کی عدم فراہمی سنگین نوعیت کے مسائل ہیں۔اگرچہ حکومت دعوی کرتی ہے کہ معاملات کافی حد تک درست ہوگئے ہیں، لیکن یہ معاملات اوپر کی سطح پر معاشی اعدادو شمار کی سطح پر تو ہوسکتے ہیں مگر نچلی سطح پر عام آدمی کو وہ بڑا ریلیف نہیں مل رہا جو اس کا بنیادی حق بنتا ہے۔یہ ہی وجہ ہے کہ لوگوں میں حکمرانی کے نظام کے تناظر میں ایک غیر یقینی کی صوورتحال ہے اور ان کو لگتا ہے کہ ان کی اپنی نجی زندگیوں میں مسائل اور مشکلات بڑھ گئے ہیں۔خود وزیر اعظم بھی برملا اعتراف کرتے ہیں کہ عام آدمی کی سطح پر جو مسائل ہیں وہ ان کے لیے زیادہ حساسیت رکھتے ہیں، مگر لگتا ہے کہ بہت سے معاملات پر شائد ان کا بھی کنٹرول نہیں او رنظام میں موجود خرابیاں حکومت سے زیادہ بڑی نظر آتی ہیں۔

یہ بات کافی حد تک بجا ہے کہ موجودہ حالات میں ریاستی و حکومتی نظام کمزور اور مافیا پر مبنی حکمرانی کا نظام زیادہ مضبوط ہوگیا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ بہت سے معاملات پر ہمیں حکومتی رٹ یا تو کمزور نظر آتی ہے۔ اصل بات تو یہ بھی ہے کہ ہمارا ریاستی و حکومتی نظام دنیا میں حکمرانی کے نظام میں آنے والی جدید اور موثر تبدیلوں او ران کے بہتر نتائج سے بھی عملی طور پر سیکھنے کے لیے تیار نظر نہیں آتا۔ اس میں جہاں حکمران طبقہ سے جڑے مسائل ہیں وہیں ادارہ جاتی سطح پر موجود نظام او راس میں موجود افراد بھی تبدیلی کے عمل میں رکاوٹ ہیں۔ نظام کی تبدیلی میں عملا بیوروکریسی او رعدلیہ کا نظام حقیقی معنوں میں بنیادی نوعیت کی غیر معمولی سطح کی تبدیلیاں چاہتا ہے۔یہ کام کسی بھی سطح پر روائتی، فرسودہ اور پرانی حکمت عملیوں سے درست نہیں ہوگا۔ اس کے لیے نظام میں بڑی تبدیلی کے لیے ایک بڑے سازگار ماحول، مشاورت پر مبنی ایجنڈا اور حکمرانی کے نظام کی رٹ کا قائم ہونا ترجیحی ایجنڈا ہونا چاہیے۔مخلوط ا ور کمزور یا محض چند ووٹوں پر قائم حکومتی نظام ایک بڑی تبدیلی کو ممکن نہیں بناسکتی۔اس کے لیے پورے ڈھانچنے میں بنیادی تبدیلیاں درکار ہیں۔

بدقسمتی یہ ہے کہ جمہوری اور پارلیمانی نظام میں پارلیمنٹ نظام کی بدتدریج تبدیلیوں میں ایک بڑے ادارے کا کردار ادا کرتی ہے۔ لیکن ہم نے جس انداز میں پارلیمنٹ کی بے توقیری کی، اسے غیر اہم بنایا، ذاتی لڑائیوں کی سیاست کی، پارلیمانی سیاست میں عدم دلچسپی، وزیر اعظم سمیت حزب اختلاف او رحکومتی یا حزب اختلاف کے ارکان کی پارلیمانی مباحث میں عدم دلچسپی اور شرکت، اسٹینڈنگ کمیٹیوں یا پارلیمانی سطح پر موجود کمیٹیوں کا غیر فعال ہونا، قانون سازی کے مقابلے میں ذاتیات پر مبنی سیاست کی بنیاد پر کسی بڑے اچھے عمل کی توقع رکھنا بھی خود کو فریب دینے کے مترادف ہوگا۔یہ درست ہے کہ کرونا کی وبا نے عالمی دنیا سمیت ہمارے ملکوں میں بھی مشکلات کو بڑھایا ہے مگر جو کام ہم اپنی حکمرانی کے نظام کو موثر بنانے اور عام آدمی کا حکومتی نظام میں ملکیت کے احساس کو جس طرح بڑھاسکتے تھے وہ کام نہیں کیا جاسکا او راس کا اعتراف حکومتی سطح پر کیا جانا چاہیے۔

وزیر اعظم عمران خان کے بقول نظام کی تبدیلی میں بہت سے رکاوٹیں ہیں تو ان کو چاہیے کہ وہ قوم کو ان معاملات پر اعتماد میں لیں اور ان تمام امور کی نشاندہی کریں جو نظام کی تبدیلی میں رکاوٹ کو پیدا کرنے کا سبب بن رہے ہیں۔لیکن اس کے ساتھ ساتھ لوگوں میں یہ اعتماد پیدا ہونا چاہیے کہ مسائل سے نمٹنے کی حکومتی سمت درست طرف بڑھ رہی ہے۔مافیاز کا مقابلہ کرنا آسان نہیں او ریہ لوگ حکومت سمیت ہر ادارہ کی سطح پر موجود ہیں او ران کا حکمرانی کے نظام میں موجود گٹھ جوڑ بھی نظر آتا ہے۔ ایسے میں وزیر اعظم عمران خان کو ئی بڑی انقلابی تبدیلوں کو پیدا کرسکیں گے وہ بھی ممکن نظر نہیں آتا۔کیونکہ مسئلہ محض ایک جماعت یا اس سے جڑی حکمرانی کا نہیں بلکہ مجموعی طور پر ہمارا نظا م اس نہج پر پہنچ گیا ہے جہاں اول بڑی مثبت تبدیلی ان کا ایجنڈا نہیں یا یہ نظام اس حد تک فرسودہ او ربرباد ہوگیا ہے کہ اس سے بہتر تائج کی توقع رکھنا بھی ہمیں خوش فہمی کے عمل میں دکھیلتا ہے۔

جمہوری نظام یا پارلیمانی سیاسی نظام کی خوبی اس سے کے اصلاحاتی ایجنڈے سے جڑی ہوتی ہے او رجمہوری عمل کسی جادوئی عمل سے تبدیلی کو پیدا نہیں کرتا بلکہ یہ نظام کی بہتری کا تسلسل ہوسکتا ہے۔لیکن بدقسمتی سے ہم اپنی حکمرانی کے نظام سے سیاست، جمہوریت اور قانون کی حکمرانی کے مقابلے میں ایک ایسی سیاست اور نظام کو طاقت دے رہے ہیں جس کی بنیاد کمزور طبقوں کے ساتھ استحصال پر مبنی ہے او ریہ عمل کی درستگی اسی صورت میں ممکن ہوسکتی ہے جب ہم روائتی سیاست سے باہر نکل کر کچھ ایسا کام کریں جو ہمیں بطور معاشرہ طاقت دے سکے اور ہماری حکمرانی کا نظام عوامی توقعات یا اعتماد پر پورا اترسکے۔