37 دنوں کا مہینہ

آج ہم آسانی سے اپنے شب و روز اور ماہ و سال کا حساب رکھتے ہیں بلکہ اب تو ٹیکنالوجی کی وجہ سیکنڈ تک کا حساب حاضر رہتا ہے۔ مگر یہ سہولت اس آسانی سے اور اس آسان شکل میں دستیاب کرنے میں انسان کو کئی صدیاں لگ گئیں۔

قدیم روم، یونان، فارس، چین اور ہندوستان میں اپنی اپنی ضرورت اور فہم کے مطابق  کیلنڈر تشکیل پائے، وقت کے ساتھ ان کی نوک پلک درست کی جاتی رہی۔ نتیجہ یہ کہ آج بھی یہ کیلنڈر با اعتماد اور کارآمد ہیں۔ دیہات میں آج بھی سردی گرمی اور برسات کے موسم ، فصلوں کی بوائی اور کٹائی کے لئے بکرمی کیلنڈر حوالے کے کام آتا ہے۔ 

ان تمام کیلنڈر میں دھیرے دھیرے ایک مہینے میں 30 یا 31 دنوں کی ترتیب حتمی ٹھہری۔ جو کیلنڈر اب دنیا بھر میں کاروبار اور سماجی ضرورت مستعمل ہے، یہ عیسوی کیلنڈر 30 اور 31 دنوں کے مہینوں پر مشتمل ہے۔ فروری واحد مہینہ ہے جو28 یا 29 دنوں پر مشتمل ہے۔  سو مجموعی طور پر ہماری زندگی کے معاملات کا شمار اور حساب کتاب اسی اعتبار سے ہوتا ہے۔ تنخواہ، ٹیکس، اخراجات، فیسیں، بجلی گیس پانی کے بلز، سب اسی ماہانہ شمار کے مطابق ترتیب پاتے ہیں۔ یہ ترتیب اس قدر مسلم اور طے شدہ ہے کہ ہم میں سے بیشتر اپنے بلز کے دنوں کا شمار بھی نہیں کرتے۔

ہماری اس عادت کا بجلی کمپنیوں کو بھی پتہ ہے۔ بجلی تقسیم کار کمپنیاں خود اس لگے بندھے شمار سے ہی ریڈنگ، بلنگ اور ادائیگی کے معاملات چلاتی ہیں۔ مگر یہ شمار ایک دو کو چھوڑ کر باقی سب بجلی تقسیم کار کمپنیوں نے لگے بندھے ضابطے کی بجائے پچھلے چند مہینوں کے دوران خود ہی محنت کرکے بدل ڈالا۔ اور وہ بھی اس خاموشی سے کہ کانوں کان کسی کو خبر نہ ہوئی۔

وہ تو اللہ بھلا کرے میڈیا کا، کسی نے ٹوہ لگا کر انکشاف کیا کہ صاحبو! بجلی بلز کی ریڈنگ اور بلز کے لئے کیلنڈر اب روایتی 30/31 دنوں کا نہیں رہا۔ اب یہ 33 سے 37 دنوں پر مشتمل ٹھہرا۔ کیلنڈر مہینے کی دن شماری اگر کسی سائنسی غایت سے ہوتی تو شاید دنیا دوڑی دوڑی سمجھنے آتی مگر یہ ایجاد اس غایت سے کی گئی کہ بلوں کی ریڈنگز طے شدہ سائیکل سے بڑھا کر کی جائے، لا محالہ بلز کے یونٹس بڑھیں، صارفین کے لئے طے شدہ سلیبز بدلے جائیں تاکہ کمپنیوں کے ریونیو بڑھتے نظر آئیں۔۔۔

جس نے بھی سوچا، نیک نیتی سے ہو سوچا ہو گا۔  یہ کام ایک انفرادی شخص کا تو ہوتا نہیں، سیکنڑوں افراد پر مشتمل شعبے اور آئی ٹی کے لشکر ہر تقسیم کار کمپنی میں ہوتے ہیں۔ اس سے یہ ظاہر ہوتا ہے کہ یہ سب ایک منظم انداز میں ہوا۔ سینئر انتظامیہ کی آشیرباد باد کے بغیر یہ منظم کام ہو نہیں سکتا۔ سوائے آئیسکو  اور کے الیکٹرک کے باقی تمام تقسیم کار کمپنیوں نے جنوری سے مہینے کے دن اپنی اپنی منشاء کے مطابق 35 سے 37 دن مقرر کر لیے۔ 

اس ذرا سی اختراع سے صارفین کی جیب سے کئی ماہ کروڑوں اربوں خاموشی سے اچک لئے گئے۔ سلیب تبدیل ہونے کے سبب ہونے والی مزید ادائیگییاں اضافی بونس کی صورت میں الگ۔ اس خلاف ضابطہ اور غیر قانونی  حرکت  پر ریگولیٹر کا رد عمل بھی دلچسپ تھا۔۔یعنی؛ ہائیں، ایسا بھی ہوا ہے۔ کسی صارف نے شکایت تو نہیں کی۔ اگر ایسا ہوا ہے تو غلط بات ہے۔ صارفین کو چاہیے ہمیں تحریری شکایت کرائیں۔ ہم ہیں ناں، فکر نہ کریں!

کہاں یہ کہ بجلی تقسیم کار کمپنیاں اپنے ٹیرف کی دھیلا پائی کے لئے نیپرا کے فیصلے کے محتاج رہتی ہیں  اور کہاں یہ کہ ریگولیٹر کو خبر ہی میڈیا سے ملی۔ اس پر بھی اتنا پھیکا رد عمل کہ شکایت درج کرائیں ، ہم دیکھیں گے۔۔  یعنی اگر میڈیا یہ اسکینڈل سامنے نہ لاتا اور شکایت درج نہ کرائی جائے تو بجلی تقسیم کار کمپنیوں کو کوئی کچھ نہیں کہے گا۔ بات میڈیا سے نکلی تو اقتدار کے ایوانوں میں بھی پہنچی۔ وفاقی وزیر توانائی حماد اظہر نے خبر کا  سخت ایکشن لیا اور پاور ڈویژن کو ڈیٹا کی جانچ پڑتال کا حکم دے دیا ہے۔ اپوزیشن ارکان حکومت پر برسے کہ ہو نہ ہو یہ سوچی سمجھی اسکیم حکومت کی آشیرباد سے بنائی گئی۔

دو سال قبل ایک بڑی حکومتی گیس کمپنی نے چپکے سے تیس لاکھ صارفین کو ٹھیک ٹھاک اوور بلنگ کی۔ اس سے قبل کارپردازان حکومت چالاکی سے سلیبز میں تبدیلی کرکے اسے سات لیول پر لے آئے۔ اوور بلنگ ہوئی تو ان سلیبز کے طفیل گیس این ایل جی کی امپورٹ قیمت کے لگ بھگ جا پہنچی۔ اسکینڈل سامنے آیا تو وہی روایت۔۔خبر کا ایکشن لیا، وضاحتی پریس کانفرنسیں اور پھر وزیراعظم کی ناراضگی۔۔۔ حکومت نے زائد رقم واپسی کا حکم دے دیا۔۔ نہ جانے پھر کیا ہوا لیکن اس چکر میں کارروائی کے لئے ایس این جی پی ایل کے ایم ڈی اور چند ایک پر کلہاڑا چلا دیا گیا۔۔

یہ کمپنیاں ایسی منظم حرکت کا سوچ بھی کیسے لیتی ہیں ؟ شاید اس لئے کہ خرد برد ، کرپشن اور چوری پوری کرنے کا دباؤ ہے۔ شاید اس لئے بھی کی سرکلر ڈیٹ بجلی اور گیس سیکٹر میں قابو میں نہیں آ رہا۔ بجلی کا سرکلر ڈیٹ اڑھائی ٹریلین ارب روپے یعنی دو ہزار پانچ سو ارب روپے کے لگ بھگ ہے۔ لکڑ ہضم پتھر ہضم معاشی ماحول میں کمپنیوں کو شاید یہی راستہ آسان لگا ہو کہ یہ سب کچھ منظم انداز میں کرنے سے کسی پر بھی کوئی آسمان تو نہیں ٹوٹا۔۔

شاید بجلی کمپنیوں کو یہ بھی خوش گمانی ہو کہ صارفین دھیرے دھیرے 37 دنوں کے مہینے کے عادی ہو جائیں گے۔ یوں بیٹھے بٹھائے پانچ چھ روز کا اضافہ کمپنیوں کے ہاتھ لگے گا۔ رہے صارفین تو ان کا کیا ہے۔۔ یہ لطیفہ تو سب نے سن رکھا ہے کہ نجومی نے کہا،  چالیس سال کی عمر  تک مشکل ہے۔ سائل نے اشتیاق سے پوچھا: تو اس کے بعد کیاحالات  بہتر ہو جائیں گے؟ نجومی بولا: نہیں حالات تو جوں کے توں رہیں گے مگر تم ان حالات کے عادی ہو جاؤ گے۔۔۔ خود سوچیں کہ اگر میڈیا پر یہ خبر سامنے نہ آتی تو کیا ہم چند مہنیوں میں  37 دنوں کی مہینہ شماری کے عادی نہ ہو جاتے۔  یہ تجربہ کامیاب ہو جاتا تو کوئی بعید نہ تھا کہ اگلے دو چار سال میں  مہینے کے دن بڑھ کر چالیس بھی ہو جاتے۔ عادت بڑے کام کی شے ہے، چینی آٹے کی قیمتوں میں اضافے کو ہی لے لیں۔ ہائے وائے کرتے عادی ہو ہی گئے ہیں ناں۔