کابل صدارتی محل پر طالبان کا پرچم آویزاں، نئی افغان حکومت نے کام شروع کر دیا

  • اتوار 12 / ستمبر / 2021
  • 5800

افغان طالبان کا کہنا ہے کہ کابل کے صدارتی محل پر طالبان کا پرچم لہرا دیا گیا ہے جس کے بعد طالبان کی عبوری کابینہ نے باضابطہ طور پر کام شروع کر دیا ہے۔

کابل کے صدارتی محل پر طالبان کا پرچم امریکہ میں نائن الیون حملوں کی 20 ویں برسی کے موقع پر ہفتے کو لہرایا گیا۔ خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کے مطابق طالبان کے ثقافتی کمیشن کے ملٹی میڈیا چیف احمد اللہ متقی کا کہنا تھا کہ طالبان کی عبوری حکومت کے وزیرِ اعظم ملا محمد حسن اخوند نے ایک مختصر تقریب میں طالبان کا پرچم لہرایا۔

خیال رہے کہ طالبان نے رواں ہفتے نئی عبوری کابینہ کا اعلان کیا تھا جس میں ملا محمد حسن اخوند کو قائم مقام وزیرِ اعظم جب کہ ملا عبدالغنی برادر کو نائب وزیرِ اعظم مقرر کیا گیا تھا۔ البتہ نئی عبوری کابینہ کی کوئی باقاعدہ حلف برداری کی تقریب کا اہتمام نہیں کیا گیا۔

احمد اللہ متقی کے بقول صدارتی محل پر طالبان کا جھنڈا لہرانا اس بات کی علامت ہے کہ اب نئی عبوری حکومت نے  کام شروع کر دیا ہے۔ طالبان کی جانب سے خواتین کو عبوری حکومت میں نمائندگی نہ ہونے پر عالمی برادری نے مایوسی کا اظہار کیا تھا۔ عالمی برادری کو امید تھی کہ طالبان اپنے وعدوں پر عمل کرتے ہوئے ایک جامع حکومت تشکیل دیں گے۔

ادھر طالبان نے ایئرپورٹ کی سیکیورٹی کے لیے افغان پولیس کے اہل کاروں کو ڈیوٹی پر واپس بلا لیا ہے۔ خبر رساں ادارے 'اے ایف پی' کے مطابق افغان پولیس کے اہل کاروں نے بتایا کہ اُنہیں افغان طالبان کے کمانڈرز کی جانب سے کال موصول ہوئی کہ وہ ڈیوٹی پر واپس آئیں۔

خیال رہے کہ طالبان نے کابل پر کنٹرول کے بعد عام معافی کا اعلان کیا تھا جس میں مسلح افواج، پولیس اور دیگر قانون نافذ کرنے والے اداروں کے اہل کاروں کے لیے بھی عام معافی کا اعلان کیا گیا تھا۔

دوسری جانب طالبان کے پہلے دورِ اقتدار کے خاتمے کے بعد 2001 میں افغانستان کے صدر بننے والے حامد کرزئی نے 'امن اور استحکام' کا مطالبہ کیا ہے اور امید ظاہر کی ہے کہ نئی عبوری کابینہ ایک 'جامع حکومت' تشکیل دے گی جو پورے افغانستان کی نمائندہ ہو گی۔

حامد کرزئی نے 11 ستمبر کے حملوں کی بیسوی برسی کا دن کابل میں بلند و بالا دیواروں میں گھرے اپنے کمپاؤنڈ میں قبائلی زعما سے ملاقات کرتے ہوئے گزارا۔ حامد کرزئی افغانستان پر طالبان کے کنٹرول کے  بعد سے اسی مقام پر اپنے اہلِ خانہ کے ساتھ مقیم ہیں۔