صحافت کی آزادی آپشن نہیں بلکہ عوام کا آئینی حق ہے: شاہد خاقان عباسی

  • اتوار 12 / ستمبر / 2021
  • 4660

سابق وزیراعظم اور پاکستان مسلم لیگ (ن) کے سینئر نائب صدر شاہد خاقان عباسی نے کہا ہے کہ کسی مارشل لا حکومت میں بھی صحافت کو دبانے کے لیے ایسے حربے استعمال نہیں کیے گئے۔ صحافت کی آزادی کوئی آپشن نہیں بلکہ عوام کا آئینی حق ہے۔

اسلام آباد میں حکومت کے مجوزہ پاکستان میڈیا ڈیولپمنٹ اتھارٹی (پی ایم ڈی اے) کے خلاف صحافیوں کے دھرنے سے خطاب کرتے ہوئے سابق وزیراعظم شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ کیا پیمرا کافی نہیں تھا، صحافیوں کو اٹھانا، ٹیلی فون کرنا کافی نہیں تھا کہ آج پی ایم ڈی اے کی ضرورت پڑ گئی کہ ملک میں عوام تک حق سچ کی آواز نہ پہنچنے پائے۔  

انہوں نے کہا کہ جس ملک میں صحافتی آزادی نہیں ہوگی، جو کہ ایک آئینی حق ہے، یہ کوئی آپشن نہیں ہے۔ ملک کے عوام کا ایک آئینی حق ہے کہ وہ اپنی رائے کا اظہار کریں اور ان تک دوسروں کی رائے پہنچے۔ یہ بدقسمتی ہے کہ وہی لوگ جو یہاں سے چند سو میٹر پر 5 مہینے دھرنا دیتے رہے، اس کی لائیو کوریج ہوتی رہی، پی ٹی وی پر حملے کی بھی لائیو کوریج ہوتی رہی لیکن آج اسی مقام پر سینکڑوں پولیس اہلکار ڈنڈے لے کر کھڑے ہیں کہ احتجاج کرنے والے صحافیوں کو روکیں۔

شاہد خاقان عباسی نے کہا کہ یہ کوئی سیاسی معاملہ نہیں ہے، ہمارا آج یہاں آنے کا مقصد یہ تھا کہ جو احتجاج صحافی کر رہے ہیں ہم اس میں برابر کے شریک ہیں۔ اس لیے نہیں کہ کوئی سیاسی فائدہ ملے گا بلکہ اس لیے کہ یہ پاکستان کے عوام کا حق ہے جو آج سلب کیا جارہا ہے۔

جس ملک میں اس قسم کے کالے قانون ہوں گے، اس ملک میں کوئی آزادی نہیں رہتی۔ جب صحافت کی آزادی نہیں رہتی تو پھر عوام اور شہری کی آزادی بھی چلی جاتی ہے۔

انہوں نے کہا کہ اس سے پہلے بھی بہت سے آمروں نے ایوب خان سے لے کر پرویز مشرف تک یہ کوشش کی لیکن یہ پہلی نام نہاد جمہوری حکومت ہے جو آج صحافت کو دبانے کی پوری طرح اور ہر طریقے سے کوشش کر رہی ہے۔

سابق وزیراعظم کا کہنا تھا کہ میں نہیں سمجھتا کہ کسی مارشل لا حکومت نے بھی یہ حربے استعمال کیے ہوں کہ صحافی کی آواز دبے، لوگوں کو دہشت، معاشی حملوں سے ڈراؤ اور آج ایک قانون بنایا جا رہا ہے۔