آئین، جمہوریت، انسانی حقوق اور طالبان؟
- تحریر افضال ریحان
- اتوار 12 / ستمبر / 2021
- 6430
افغانستان کے امیر المومنین ملا ہیبت اللہ اخوندزادہ نے جس امارتِ اسلامی افغانستان کا اعلان کیا ہے اس پر تین موٹے اعتراضات کئے جا سکتے ہیں۔ اول یہ کہ اس کی آئینی حیثیت کیا ہے ؟
انہوں نے افغانستان کیلئے کسی نئے آئینی فریم ورک یا سٹرکچر کے خدوخال واضح کئے ہیں اور نہ ماقبل کے ’’جمہوری اسلامی آئین ‘‘ کی پاسداری کا اہتمام یا عندیہ ظاہر کیا ہے ۔ یہ امر تو واضح ہے کہ جب بھی دنیا میں اچھے یا برے انقلابات آتے ہیں تو عہد کہن کی بہت سی اچھایوں کو بھی مسل دیا جاتا ہے ۔افغانستان تو ہماری طرح وہ بدقسمت ملک ہے جس میں ہر آئین کا یکے بعد دیگرے تیاپانچہ کیا جاتا رہا ہے ۔
طالبان نے امریکیوں سے مذاکرات کرتے ہوئے جو امور طے کئے تھے یا جن کی پاسداری کا عہد کیا تھا ان میں جہاں یہ امر واضح تھا کہ ہم افغان سرزمین کو کسی دوسری قوم کے خلاف دہشت گردی کیلئے استعمال نہیں ہونے دیں گے یا یہ کہ انسانی حقوق، بالخصوص حقوق نسواں کی پاسداری کی جائے گی۔ وہیں یہ عہد بھی تھا کہ امریکی فورسز نکلنے کے بعد وہ افغان انتظامیہ سے مذاکرات کرتے ہوئے پرامن انتقال اقتدار میں تعاون کریں گے اور یہ کہ دہشت کے ذریعے اقتدار پر جھپٹا نہیں ماریں گے۔ مگر انہوں نے اس کی پابندی نہیں کی۔ گوکہ غنی انتظامیہ ازخود بھی اس قدر نااہل اور ناکارہ ثابت ہوئی کہ انہوں نے اس نوع کا موقع آنے ہی نہیں دیا حالانکہ انہیں امریکی انخلا کے باوجود امریکی فضائیہ کی مضبوط حفاظتی چھتری میسر تھی مگر بوجوہ ایسے تمام داعیے دھرے کے دھرے رہ گئے ۔
دوئم انہوں نے افغانستان کے دیگر سیاسی دھڑوں یا گروپوں کو ساتھ لے کر چلنے کی یقین دہانی کروائی تھی مگر موقع آنے پر سب کو جھنڈی دکھا دی اور واضح کر دیا کہ ہم افغانستان میں پختونوں کے علاوہ دیگر نسلی گروہوں کو بھی حکومت میں شامل کر رہے ہیں یعنی طالبان ہی کے جو لوگ ازبک یا تاجک ہیں مثال کے طور پر آرمی چیف اپنے ایک تاجک کمانڈر فصیح الدین بدخشانی کو تعینات کیا ہے۔ جبکہ ایک ازبک عبدالسلام حنفی کو نائب وزیر اعظم (دوئم) مقرر کیا ہے اور یہ بھی یقین دہانی کروائی جا رہی ہے کہ عبوری کابینہ میں توسیع کرتے ہوئے اس حوالے سے مزید ’’فراخدلی‘‘ دکھائی جائے گی ۔
امارت ِاسلامی پر مہذب دنیا کا تیسرا اعتراض جمہوریت اور انسانی حقوق کے حوالے سے ہے وہ انتخابات یا عوامی نمائندگی کے حوالےسے کوئی بات ہی نہیں کر رہے یعنی وہ جس طرح کسی انتخابی معرکے کے بغیر محض بندوق کی دہشت سے برسراقتدار آئے ہیں اس طرح وہ اپنے حکومتی تسلسل کیلئے بھی عوامی اعتماد یا ووٹ کے حصول کی ضرورت محسوس نہیں کر رہے اور نہ کریں گے۔ سچ تو یہ ہے کہ طالبان خدا پر ایمان رکھتے ہیں جمہوریت پر نہیں۔ اسی لئے انہوں نے اپنے ملک کے نام سے ’’جمہوریہ‘‘ کا لفظ ختم کرتے ہوئے اسے “امارتِ اسلامی” سے بدل دیا ہے ۔
ہمارے اچھے خاصے پڑھے لکھے لوگوں کو بھی ’’شورائیت‘‘ کے حوالے سے خاصی غلط فہمیاں ہیں۔اسلام میں روشن خیالی یا جدیدیت کے اس درویش جیسے نام نہاد دعویدار دیگر عام لوگوں کو بیوقوف بنانے کیلئے “شورائیت” بمعنی جمہوریت” کثرت سے استعمال کرتے ہیں وامرھم شوری بینھم لیکن راسخ العقیدہ لوگ جب دیگر نصوص کی روشنی میں اس کا استعمال کرتے ہیں تو ان کی اس سے مراد قطعی جمہوریت یا عوامی جمہوریت نہیں ہوتی ہے۔ وہ تو کبھی یہ ماننے کیلئے تیار ہو ہی نہیں سکتے ہیں کہ حضرت امیر المومنین ملا ہیبت اللہ کا ووٹ اور کسی جاہل گنوار عام آدمی کا ووٹ برابر ہو سکتے ہیں ۔ووٹ ایک رائے ہوتی ہے لیکن فقہ اسلامی کی روشنی میں عام آدمی کا شمار اہل الرائے میں نہیں کیا جا سکتا- ہمارے شاعر مشرق نے جمہوریت پر تنقید کرتے ہوئے بے وجہ نہیں کہہ رکھا ہے کہ “جمہوریت اک طرز حکومت ھے کہ جس میں بندوں کو گنا کرتے ہیں، تولا نہیں کرتے ‘‘۔
تولنے سے ان کی مراد جبہ عمامہ سمیت سب کچھ آ جاتا ہے ۔صوفی محمد، ڈاکٹر اسرار احمد مرحوم یا حافظ سعید صاحب جیسے راسخ العقیدہ لوگ انہی مضبوط بنیادوں پر جمہوریت کی ننگی مخالفت کرتے چلے آ رہے ہیں ۔
رہ گئی ’’شوریٰ‘‘ یا ’’شورائیت‘‘ اس سے انکار کسی کو کبھی بھی نہیں رہا چودہ صدیوں پر محیط طویل تاریخ کے بدترین ادوار میں بھی اس پر عملدرآمد ہوتا رہا۔ آج بھی ہماری مقدس کنگڈم میں ہو رہا ہے۔ ایسے ہی جیسے کمیونسٹ پارٹی کے اندر بھرپور مشاورت ہوتی ہے، استدلال کےساتھ بحثیں ہوتی ہیں مگر کسے معلوم نہیں ہے کہ اسے آپ جو مرضی کہہ لیں مگر جمہوریت نہیں ۔
آج اگر طالبان کے امیر المومنین عمومی رائے کے برعکس ملا برادر کی بجائے جیب سے پرچی نکالتے ہوئے اپنے سب سے قریبی اور قابل اعتماد ساتھی ملا حسن اخوند کا نام بطور وزیر اعظم پیش کرتے ہیں اور کوئی ایک آواز بھی مخالفت میں نہیں آتی تو ان سب کی نظروں میں اس کا واضح جواز موجود ہے۔ ہمارے خلیفہ دوئم کا نام جس طرح خلیفہ اول نے پیش فرمایا تھا بلکہ خود اول خلیفہ کا نام جس طرح پیش فرمایا گیا تھا یا اس کے بعد “ریاست مدینہ” میں جو تعامل رہا تاریخ اسلام یا شرع اسلامی سے آگاہ کوئی بھی شخص اس سے بے خبر نہیں ہو گا۔ مشاورت کرتے ہوئے امیرالمومنین اس امر کا پابند نہیں ہے کہ وہ اس کے برعکس فیصلہ نہیں کر سکتا۔ ایسی بہت سی مثالیں خود ریاست مدینہ میں موجود ہیں جیسے کہ لشکر اسامہ کی روانگی کا معاملہ، مخصوص ومحدود اشرافیہ پر مشتمل تمام شوریٰ اس کے خلاف تھی مگر امیر المومنین کا فیصلہ ان سب پر حاوی تھا۔اگر ایسی مثالیں جمع کی جائیں تو پوری کتاب بن سکتی ہے ۔
آج ہم لبرل اسلام کے علمبردار یہ کہتے نہیں تھکتے ہیں کہ اختیارات کی تقسیم کرتے ہوئے مختلف عہدیداروں کی الگ الگ ذمہ داریاں واضح ہونی چاہئیں مگر حقیقت تو یہ ہے کہ ریاست مدینہ کا امیر المومنین ایسی بندشوں کا قیدی نہیں تھا۔ وہ تمام تر اختیارات خود بھی استعمال کرسکتا تھا اور دوسری ذمہ داریوں پر فائز لوگوں کے فیصلوں کو ویٹو بھی کر سکتا تھا۔ آج ہم دیسی لبرل اقربا پسندی کو بہت برا بنا کر پیش کرتے ہیں حالانکہ ریاست مدینہ میں جو چار مقدس خلیفہ تھے، ان میں سے دو ہمارے آقاؐ کے سسر تھے اور دو داماد۔ لہٰذا افغانستان میں آج جو امارت اسلامی قائم کی جا رہی ہے اس کیلئے تمام تر روشنی ریاست مدینہ سے ہی لی جائے گی۔ اس حوالے سے ہمارے پاکستانی خلیفے کی بھی شوق تو بڑی اونچی ہے مگر یہاں بوجوہ خالص کی بجائے ملاوٹی دودھ کا بزنس چل رہا ہے۔
ہمارے نظریاتی درد رکھنے والے لوگ نہ جانے کس دنیا کے باسی ہیں۔ ان کی آنکھیں جلد کھل جائیں گی جب ہمارے طالبان بھائی خالص روشنی کے علمبردار بن کر اٹھیں گے تو دنیا تلملا اٹھے گی کیونکہ وہ “ولایت فقہہ” کی کرنوں کو بھی پیچھے چھوڑ جائے گی۔ افسوس ہمارے ان نظریہ عظمت والوں کو معاشی الجھنوں کے مسائل اور مجبوریاں درپیش ہوتی ہیں ورنہ وہ اس “اندھیر نگری” کو اپنی “قدیم روشنی” کی مقدس کرنوں سے منور کر دیں چاہے لاکھوں کا ناشتہ کرنا پڑے۔