ناروے کے عام انتخابات میں بائیں بازو کا بلاک کامیاب ہوگیا
- منگل 14 / ستمبر / 2021
- 5660
ناروے کے عام انتخابات میں بائیں بازو سے تعلق رکھنے والی پارٹیوں کو ستورتنگ یعنی قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل ہوگئی ہے۔ لیبر پارٹی (آربائیدر پارٹی) کے سربراہ یوناس گار ستورے ملک کے آئیندہ وزیر اعظم ہوں گے۔
ہائیرے کی لیڈر اور وزیر اعظم ارنا سولبرگ نے انتخاب میں ناکامی تسلیم کرتے ہوئے کامیاب ہونے والی پارٹیوں کو مبارک باد دی ہے۔ ارنا سولبرگ آٹھ برس تک ناروے کی وزیر اعظم رہیں تاہم موجودہ انتخابات میں حکمران اتحاد میں شامل تینوں پارٹیوں ہائیرے، وینسترے اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کی مقبولیت میں کمی واقع ہوئی۔ اسی طرح دائیں بازو کی حکومت کی حمایت کرنے والی انتہاپسند پارٹی فریم اسکرتس پارٹی بھی اپنی سابقہ مقبولیت برقرار نہیں رکھ سکی۔ اس طرح ملک میں حکومت کی تبدیلی کی راہ ہموار ہوگئی ہے۔
بائیں بازو کے اتحاد نے 169 رکنی پارلیمنٹ میں 100 نشستیں حاصل کی ہیں جبکہ دائیں بازو کے بلاک کو 68 سیٹیں ملیں۔ ایک نشست فن مارک میں نیا ہسپتال بنانے کا مطالبہ کرنے والے ایک نئے گروہ نے حاصل کی ہے۔ نئی ستورتنگ میں آربائیدر پارٹی کو 48، ہائیرے کو 36، سنٹر پارٹی کو 28، فریم اسکرتس پارٹی کو 21، ایس وے کو 13، وینسترے اور روت کو آٹھ آٹھ نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی اور ماحولیاتی پارٹی ایم ڈی جی نے تین تین نشستیں حاصل کیں۔
انتخابات میں سنٹر پارٹی کے علاوہ روت نے شاندار کارکردگی کا مظاہرہ کیا۔ سنٹر پارٹی کو سابقہ انتخاب کے مقابلے میں 9 زیادہ سیٹیں ملیں جبکہ روت کا پہلے صرف ایک رکن پارلیمنٹ میں موجود تھا، اب اس کے ارکان کی تعداد آٹھ ہوگئی ہے۔
ملک کی سب سے بڑی پارٹی کے لیڈر یوناس گار ستورے اب بائیں بازو کے بلاک میں شامل سب پارٹیوں سے بات چیت کے بعد مخلوط حکومت بنانے کا اعلان کریں گے۔ عام خیال یہی ہے کہ اس اتحاد میں سنٹر پارٹی اور ایس وے شامل ہوں گی جنہیں مجموعی طور پر ستورتنگ میں 89 نشستیں حاصل ہوئی ہیں۔ تاہم ستورے نے واضح کیا ہے کہ وہ بائیں بازو کے بلاک کی دیگر جماعتوں روت اور ایم ڈی جی کے ساتھ بھی مشاورت کریں گے۔
نئی حکومت یکم اکتوبر کو نئی ستورتنگ کے باقاعدہ آغاز کے بعد قائم ہوگی۔ اس دوران انتخابی نتائج کی سرکاری تصدیق کے بعد اکثریتی پارٹیاں نئی حکومت کے سیاسی پلیٹ فارم کے لئے بات چیت کا آغاز کریں گی۔ بعض اوقات یہ مذاکرات طول بھی کھینچ لیتے ہیں۔ اس بار بھی سنٹر پارٹی اور ایس وے کے درمیان بعض سیاسی معاملات میں اختلاف کی وجہ سے سیاسی الجھن پیدا ہو سکتی ہے۔ اس حوالے سے یہ دیکھنا دلچسپی سے خالی نہیں ہوگا کہ نئی حکومت میں کون سی پارٹی کتنی نمائیندگی حاصل کرتی ہے اور کس پارٹی کے سیاسی مطالبوں کو کتنی پزیرائی ملتی ہے۔