انسانی حقوق کے وعدے پورے کرنے پر ہی پاکستان طالبان حکومت کو تسلیم کرے گا: پاکستانی سفیر
- منگل 14 / ستمبر / 2021
- 5150
امریکا میں پاکستان کے سفیر اسد مجید خان نے کہا ہے کہ ابھی تک کسی بھی ملک نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور پاکستان بھی انہیں تسلیم کرنے سے قبل عالمی برادری سے انسانی حقوق کے سلسلے میں کیے گئے وعدوں کی تکمیل کے لیے افغانستان کی نئی حکومت کی صلاحیت کا جائزہ لے رہا ہے۔
ایک امریکی اخبار کو انٹرویومیں پاکستانی سفیر نے کہا کہ طالبان اب ان وعدوں کی پاسداری کرتے ہیں یا نہیں، یہ ان کا اپنا فیصلہ ہے۔ افغانستان کی صورتحال کے حوالے سے پاکستانی سفیر نے کہا کہ یہ وقت ہے کہ ماضی سے سبق سیکھا جائے۔ ہمارا تسلسل کے ساتھ یہ موقف رہا ہے کہ افغان تنازع کا کوئی فوجی حل نہیں بلکہ اس ضمن میں سیاسی بات چیت درکار ہے۔
ہم نے یہ بھی واضح کیا کہ امریکی افواج کے ذمہ دارانہ انخلا سے امن عمل میں پیش رفت ہوگی اور اسی وجہ سے پاکستان نے بین الافغان مذاکرات کی حمایت کی اور اس حوالہ سے اہم پیش رفت بھی ہوئی۔ افغانستان میں سکیورٹی صورتحال کنٹرول میں ہے۔ طالبان نے معافی کا اعلان کیا ہے اور کسی طرح کی انتقامی کارروائیوں میں ملوث نہیں ہوئے اور خدشات کے برعکس مزید افغان مہاجرین پاکستان نہیں آئے۔
انہوں نے کہاکہ عالمی برادری کو یہ فیصلہ کرنا ہے کہ طالبان کے ساتھ رابطہ میں رہا جائے یا نہیں مگر اس کا مطلب انہیں لازماً تسلیم کرنا نہیں۔ ہم نے طالبان کی حکومت کو تسلیم نہیں کیا اور کسی اور ملک نے بھی ابھی تک طالبان کو باقاعدہ طور تسلیم نہیں کیا۔ بلکہ ہم طالبان کی جانب سے عالمی برادری کی تشویش دور کرنے اور وعدوں کی تکمیل کے لیے افغانستان کی نئی حکومت کی صلاحیت کا جائزہ لے رہے ہیں۔
انہوں نے کہاکہ ہم طالبان سے توقع کرتے ہیں کہ ہر فرد کے حقوق کا احترام کیا جائے اور یہ چاہتے ہیں کہ افغان سرزمین پاکستان سمیت کسی اور ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ہم چاہتے ہیں کہ افغانستان میں انسانی حقوق اور خواتین کے حقوق کا تحفظ کیا جائے اور سب سے اہم بات یہ ہے کہ انسانی بحران سے بچا جائے۔
دو دہائی قبل امریکا پر بدترین دہشت گرد حملوں کے متعلق سوال پر انہوں نے کہاکہ ہماری دلی ہمدردیاں سوگوار خاندانوں کے ساتھ ہیں۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں پاکستان کا بھی بڑا نقصان ہوا۔ اس جنگ میں ہماری 80 ہزار سے زیادہ جانیں گئیں جبکہ معیشت کو 150 ارب ڈالر سے زیادہ کا نقصان ہوا۔ انہوں نے کہاکہ ہم خود دہشت گردی کا نشانہ بنے، اس لیے متاثرین کا دکھ سمجھ سکتے ہیں۔ ہمیں امریکی عوام کی مشکلات کا ادراک ہے۔ اس بات کو یقینی بنانے کے لیے ہمارے عوام کو دوبارہ ایسا دن نہ دیکھنا پڑے، ہم اپنے شراکت داروں کے ساتھ کام کرنے کے لیے پرعزم ہیں۔
پاک امریکا تعلقات کے حوالہ سے سوال پر سفیر نے کہاکہ امریکا کے ساتھ پاکستان کے تعلقات ہمیشہ بڑے اہم رہے ہیں۔ نائن الیون کے بعد سے ہم افغانستان کو مدنظر رکھتے ہوئے ساتھ رہے ہیں اور پاکستان القاعدہ کے خاتمہ کے لیے قریبی اتحادی ملک ہے۔ انہوں نے کہاکہ افغانستان میں اپنے مفادات اور توقعات کے حوالے سے ہم مشترکہ موقف رکھتے ہیں اور چاہتے ہیں کہ افغانستان میں گزشتہ چند عشروں سے حاصل ہونے والے فوائد کا تحفظ کیا جائے۔
پاک بھارت تعلقات اور مسئلہ کشمیر پر ایک سوال کے جواب میں انہوں نے کہاکہ بدقسمتی سے بھارت میں ایک انتہا پسند حکومت ہے جس نے ہماری تمام امن کوششوں کو رد کیا۔ ہمارے وزیراعظم عمران خان نے اپنے عہدہ کا حلف اٹھانے سے قبل بھارتی وزیر اعظم نریندر مودی کے ساتھ کھلے عام دوستی کا ہاتھ بڑھایا مگر افسوس کی بات ہے کہ انہوں نے فوجی مہم جوئی کا راستہ اختیار کیا جس کے نتیجے میں مشکلات اور مظالم میں اضافہ ہوا۔
اسد مجید خان نے کہاکہ پاکستان اپنے تمام تنازعات روابط اور بات چیت کے ذریعے حل کرنا چاہتا ہے اور دونوں ممالک کے پاس امن کے سوا کوئی اور آپشن نہیں ہے۔ پاک چین تعلقات کے حوالے سے سوال پر انہوں نے کہا کہ چین کے ساتھ ہمارے قریبی تعلقات ہیں۔ اسی طرح امریکا کے ساتھ بھی اچھے تعلقات ہیں۔ امریکا پاکستانی برآمدات کا سب سے بڑا درآمد کنندہ ملک ہے جو پاکستان کے لیے 3 ارب ڈالر سالانہ کی ترسیلات زر کے ساتھ تیسرا بڑا ملک ہے۔
ایک اور سوال پر انہوں نے کہا کہ وال اسٹریٹ کے صحافی ڈینیئل پرل کا قتل ایک سنگین جرم تھا۔ میں نے ان کے سوگوار خاندان سے ذاتی طور پر اظہار تعزیت کی۔ دہشت گردی کے خلاف جنگ میں کئی مائیں اپنے بیٹوں سے محروم ہوئیں، ہمیں جانی نقصان پر افسوس ہے اور اس بات کو یقینی بنایا جائے گا کہ دوبارہ ایسا نہ ہو۔