الیکشن کمیشن کا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ
- منگل 14 / ستمبر / 2021
- 5080
الیکشن کمیشن نے چیف الیکشن کمشنر اور کمیشن پر عائد کیے گئے الزامات کا نوٹس لیتے ہوئے وفاقی وزرا فواد چوہدری اور اعظم سواتی کو نوٹس جاری کرنے اور الزامات کے ثبوت طلب کرنے کا فیصلہ کیا ہے۔
الیکشن کمیشن سے جاری اعلامیے کے مطابق کمیشن کا اجلاس منگل کو چیف الیکشن کمشنر سکندر سلطان راجا کی زیر سربراہی منعقد ہوا جس میں کمیشن کے اراکین نثار احمد درانی اور شاہ محمد جتوئی سمیت دیگر سینئر اراکین نے شرکت کی۔
دوران اجلاس چیف الیکشن کمشنر اور الیکشن پر لگائے گئے الزامات پر گفتگو ہوئی اور الیکشن کمیشن نے الزامات کی تردید کرتے ہوئے انہیں مسترد کیا۔ اس سلسلے میں فیصلہ کیا گیا کہ سینیٹ کی قائمہ کمیٹی کے اجلاس کے دوران وفاقی وزیر ریلوے اعظم سواتی نے جو الزامات عائد کیے ہیں ان کے ثبوت طلب کیے جائیں۔
اس کے علاوہ وفاقی وزیر اطلاعات فواد چوہدری کی جانب سے پریس کانفرنس کے دوران چیف الیکشن کمشنر پر بھی جو الزامات عائد کیے گئے تھے اس پر دونوں وزرا کو نوٹس جاری کرنے کا فیصلہ کیا گیا ہے تاکہ کارروائی عمل میں لائی جا سکے۔ الیکشن کمیشن نے پیمرا سے تمام ریکارڈ طلب کرتے ہوئے حکم دیا ہے کہ ایوان صدر، قائمہ کمیٹی اجلاس کی کارروائی اور پریس کانفرنس سے متعلق تمام ریکارڈ مرتب کر کے مزید کارروائی کے لیے الیکشن کمیشن کے سامنے پیش کریں۔
واضح رہے کہ قائمہ کمیٹی برائے پارلیمانی امور کے اجلاس میں الیکشن (ترمیمی) ایکٹ 2021 میں مجوزہ ترامیم پر تبادلہ خیال کے دوران اعظم سواتی نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن ہمیشہ دھاندلی میں ملوث رہا ہے اور ایسے اداروں کو آگ لگا دینی چاہیے۔ انہوں نے کمیٹی میں مجوزہ ترامیم پر ووٹنگ کے عمل سے قبل الیکشن کمیشن پر سخت تنقید کرتے ہوئے الزام لگایا تھا کہ کمیشن نے رشوت لے کر انتخابات میں دھاندلی کی۔
اعظم سواتی کے ان ریمارکس کے بعد الیکشن کمیشن کے اراکین اجلاس سے احتجاجاً واک آؤٹ کر گئے تھے۔ اسی دن شام میں وفاقی وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا تھا کہ چیف الیکشن کمشنر اپوزیشن کے آلہ کار کے طور پر کام کرنا چاہتے ہیں لیکن اگر انہیں سیاست کرنی ہے تو الیکشن کمیشن چھوڑ کر الیکشن لڑیں۔
انہوں نے کہا تھا کہ الیکشن کمیشن کو اگر ٹیکنالوجی پر کوئی اعتراض ہے یا کسی چیز میں وہ بہتری لانا چاہتے ہیں تو وہ بتائیں۔ اگر چیف الیکشن کمشنر نے سیاست کرنی ہے جس کا انہیں آئینی حق حاصل ہے تو ان کو دعوت دوں گا کہ الیکشن کمیشن کو چھوڑیں اور خود الیکشن میں امیدوار بن جائیں، پارلیمنٹ میں آ کر اپنا کردار ادا کریں ۔
انہوں نے الزام لگایا کہ چیف الیکشن کمشنر نواز شریف وغیرہ سے قریبی رابطے میں رہے ہیں اور ان کی ذاتی ہمدردی بھی ہو سکتی ہے۔ لیکن اگر الیکشن کمیشن کو پارلیمنٹ کو مان کر چلنا ہو گا۔ کسی بھی شخص کو یہ حق نہیں دیا جا سکتا کہ وہ پارلیمان کو نیچا دکھائے اور کہے کہ ہم پارلیمنٹ کو نہیں مانتے بلکہ اپنا نظام بنائیں گے۔
یاد رہے کہ مسلم لیگ (ن) کے رہنما خواجہ سعد رفیق نے الیکشن کمیشن سمیت متعلقہ اداروں اور سول سوسائٹی سے مطالبہ کیا تھا کہ وہ وزیر ریلوے اعظم سواتی کی دھمکیوں کا نوٹس لیں اور اس معاملے پر ان کے خلاف کارروائی کریں۔