ریاستِ مدینہ کے گم کردہ راہ مسافر

سیاست کے لے مذہب کو استعمال کرنا حکمرانوں اور سیاسی طالع آزماؤں کا  ہمیشہ سے دھندا رہا ہے ۔ وہ اسلام کے نام  پر نعرہ ء تکیبر بلند کرتے  ہوئے مخلوقِ خُدا کو لوٹتے رہے۔ قتلِ عام کرتے رہے لیکن اس کے باوجود اس زمین پر وہ اسلامی سماج رائج نہ کرسکے جو حقیقی معنوں میں  اسلامی قوانین کے مطابق  مدینہ کی ریاست کا  ہو بہو ماڈل ہو۔

 کیونکہ مدینہ کی ریاست کی حکمرانی کانٹوں کا بستر ہے جس میں رات بھر نیند نہیں آتی اور حاکمِ وقت  رات رات بھر بھیس بدل کر  مدینے کی گلیوں میں لوگوں کے حالات سے آگاہی حاصل کرتا ہے،  اور اُن کے دکھوں کا مداوا کرتا ہے۔ مدینے کی ریاست کے حکمران فاروقِ اعظم رضی اللہ تعالیٰ عنہ نے  حکمرانی کے جو دو بنیادی  پہلو  متعارف کروائے وہ یہ تھے:

۱۔ اگر میری ریاست میں دریائے دجلہ کے کنارے  ایک کُتّا بھی بھوکا سویا تو عمر ؓ اس کا ذمہ دار ہوگا۔ اس بیان میں انسانوں کے ساتھ جانوروں کے حقوق کو بھی  تسلیم کیا گیا ہے۔

۲۔ ریاست کے ہر فرد کو یہ حق حاصل ہے کہ  وہ حاکمِ وقت کا محاسبہ کرے اور اختیارات کے غلط استعمال کی نشان دہی کرے  جیسا ایک بدو نے  عمر ؓ کی قمیض کے ضمن میں کیا تھا۔

لیکن المیہ در المیہ یہ ہے کہ ریاستِ مدینہ کے موجودہ دعویداروں  نے  ان دونوں قوانین  کی پاسداری کے  لیے ایسے اقدامات نہیں کیے  جس سے عندیہ ملتا کہ وہ مدینے کی ریاست کے نظام کی طرف گامزن نہیں ہیں۔  دنیا ئے مفلسی  دیکھ رہی ہے کہ  اس ریاست میں حکمران طبقوں کے حقوق اور ہیں اور خطِ غربت کے نیچے سسکنے والوں کے  حقوق اور ہیں اور یہ حقوق العباد کی  صریح خلاف ورزی ہے۔ حکمران طبقے،  مذہب فروش  ملا،  مارشل لا نژاد  جرنیل اور افسر ، پولیس اور غُنڈے حقوق العباد  کی راہ میں رُکاوٹ بنے ہوئے ہیں۔  ناموسِ رسلات ﷺ کے علمبرداروں سے اگر یہ سوال کیا جائے کہ  رسالت مآب ﷺ کے وہ کون کون سے احکامات ہے  جن پر تم عمل کرتے ہو۔؟

پہلی بات جو قرآن نے کہی وہ یہ ہے کہ  انما المومنون اخوۃ یعنی مومن مومن کا بھائی ہے، تو  کیا  ہم قرآن کے اس  قانون کو مانتے ہیں کہ مومن مومن کا بھائی ہے ؟ اور نبی صلی اللہ علیہ وسلم کا ارشاد ہے کہ جو اپنے لیے پسند کرتے ہو، وہ اپنے بھائی کے لیے بھی کرو۔ کیا کسی کو مواخات کی تاریخ یاد ہے کہ نبی ﷺ نے کس طرح لوگوں کو آپس میں بھائی بھائی بنایا تھا۔ اب سوال یہ ہے کہ  کیا مولانا طاہر القادری  یا مولوی فضل الرحمان جیسے امیر کبیر علماء کسی عام مسلمان کو  اپنا بھائی سمجھ کر اُس سے ہر سطح پر برادرانہ سلوک کرتے ہیں؟  ارے نہیں، چہ نسبت خاک را بہ عالمِ پاک۔  میں نے تو یہ دیکھا ہے کہ جیسے اقبال نے کہا تھا:

مانندِ بُتاں پُجتے ہیں کعبے کے برہمن

کعبے کے ان برہمنوں نے  دین  کی تشہیر کے لیے اپنے اپنے میڈیا ہاؤس بنا رکھے ہیں ،  وہ عام مسلمان سے ویسے ہی پیش آتے ہیں جس  طرح ایک جاگیر دار اپنے مزارع سے پیش آتا ہے، یا فیکٹری کا مالک اپنے مزدور سے کرتا ہے۔  میں نے بار بار اس اعتراض  کا اعادہ کیا ہے کہ  علماء نبی ﷺ کے احکامات کو نہیں مانتے۔  نبی ﷺ کا ارشاد ہے کہ اپنے مسلمان بھائی سے مسکرا کر ملنا صدقہ ہے اور ہمارے علما اتنے غریب ہیں  کہ اپنے مسلمان بھائیوں کو مسکراہٹ بھی مفت نہیں دے سکتے۔  بعض استثناؤں کے ساتھ کعبے کے سارے برہنموں  کا یہی حال ہے اور اپنے اس  رویے کے ساتھ وہ ناموسِ رسول ﷺ کے تحفظ اور  اسلامو  فوبیا  کی جنگ کیا خاک لڑیں گے۔یہ ان کے بس کی بات ہی نہیں ہے۔ یہی وجہ ہے کہ چوہتر سال میں پاکستان ایک متقی معاشرہ نہیں بن سکا۔ لیکن بھلا ہو اہلِ مسجد و مکتب کا کہ ان کے دم سے اسلام کا نام زندہ ہے، اور اگر اسلام زندہ نہیں تو اس میں اہلِ مکتب کا کیا قصور؟ اقبال نے بلا جواز اہل مدرسہ پر یہ الزام عائد کیا کہ وہ مسلمان کا گلا گھونٹ دیتا ہے۔ فرماتے ہیں:

گلا تو گھونٹ دیا اہلِ مدرسہ نے ترا

کہاں سے آئے صدا لا الہ الاللہ

اس وقت ہمیں ایک ایسا درویش صفت حکمران میسر ہے جس کے ہاتھ میں تسبیح ہوتی ہے اور  وہ مدینے کی ریاست کی بات کرتا ہے لیکن کوئی نہیں جانتا کہ ہم مدینے کی ریاست کی منزل پر کب پہنچیں گے کیوں کہ ان تین سالوں میں تو ہم اپنی جمہوریت کے اُونٹوں پر کجاوے تک باندھ نہیں پائے۔  لیکن اس کے  باوجود عمران خان حدی خواں ہیں اور  اسلام کا قافلہ اسلام آباد میں  مدینے روانہ ہونے کی نیت کا اظہار کرچکا ہے ، مگر کوچ سے پہلے عمران خان کو کم از کم تین سوالوں کو جواب دینے ہیں:

۱۔ پہلا سوال علیمہ باجی سے متعلق ہے جسے حزبِ اختلاف کی طرف سے بار بار دوہرایا گیا لیکن ابھی تک اُس کا شافی جواب نہیں دیا گیا۔

۲۔ دوسرا سوال غیرملکی فنڈنگ کے بارے میں ہے،  جو ابھی تک تشنہ ء جواب ہے۔

۳۔ تیسرا سوال بالکل ذاتی ہے کہ کیا عمران خان مدینہ کے حکمرانوں کی طرح ہپیوند لگے کپڑے پہنتا اور  عام پاکستانی کی سی سادہ زندگی بسر کرتا ہے؟

ان سوالوں کا جواب اس لیے ضروری  ہے کہ  نبی ﷺ کا تخت فقر کا تخت ہے اور فقیر  کا منصب یہ  ہے کہ وہ مسکینوں کی سی زندگی بسر کرے۔  اقبال نے کہا تھا:

سماں الفقر و فخری کا رہا شانِ امارت میں

بآب و رنگ و خال و خط، چہ حاجت روئے زیبا را

پاکستان کے سیاسی لوگوں کا معیارِ زندگی عام آدمی سے کتنا مختلف  ہے، سب جانتے ہیں۔ بنیادی  طور پر وہ اسراف پسند لوگ  ہیں جس کی اسلام میں اجازت نہیں۔ قرآن نے تو کہا ہے: کلو واشرابو ولا تسرفو۔ کہ کھاؤ، پیو اور فضول خرچی نہ کرو۔  ان احکامات کے باوجود ان حکمران طبقوں اور سیاسی گھرانوں کے اللے تللے یہ ثابت کرتے ہیں کہ وہ  اسلام کے اصولوں کی  خلاف ورزی  کے مجرم ہیں لیکن کسی مُلا کی کیا مجال کہ وہ قرآن کی تعلیمات کی صریح خلاف ورزی پر ان کا محاسبہ کر سکے۔ اور ہماری بد قسمتی  یہ ہے  کہ ہم نے  ایک  متبادل اسلام وضع کر رکھا ہے۔  ہم قرآن کی بطور کتاب تو  تعظیم  کرتے ہیں مگر اس کے احکامات کی ہر روز دن میں کئی بار خلاف ورزی کرتے ہیں۔ اس کی ایک سادہ سی مثال ہے کہ قرآن قولو للناسِ حُسنا  کا حکم جاری کرتا ہے مگر سیاست دان اس حکم کو نظر انداز کر کے ایک دوسرے پر بھونکتے ہیں، ایک دوسرے کی تضحیک  کرتے ہیں۔ آخر خُدا کے احکامات کا  اس طرح  تماشا بنانے پر  اُن پر حد نہیں لگتی؟ لگتی ہے مگر کون لگائے کیونکہ سب لوگ ایک ہی کشتی کے سوار ہیں۔سب فاسق ہیں فاجر ہیں اور صرف نام کے مسلمان ہیں  جو اسلام کے مقدس نام  کو غلط استعمال کر کے  دین کا مضحکہ اُڑا رہے ہیں۔  اور ایسے لوگوں کی سزا کیا ہے ؟ دین و دنیا میں رسوائی۔   بابا اقبال پوچھ  رہے ہیں:

یوں تو سید بھی  ہو، مرزا بھی ہو، افغان بھی ہو۔۔ تم سبھی کچھ ہو بتاؤ تو مسلمان بھی ہو؟