پاکستانی روپے کی قدر میں کمی، ڈالر کی قیمت میں تاریخی اضافہ

  • بدھ 15 / ستمبر / 2021
  • 5650

 ڈالر کے مقابلے میں گزشتہ 3 ماہ سے انٹر بینک اور اوپن مارکیٹ میں روپے کی قدر میں مسلسل کمی دیکھی جارہی ہے۔ گزشتہ روز انٹر بینک میں ڈالر کی قیمت 168  روپے 94 پیسے جبکہ اوپن مارکیٹ میں 169 روپے 80 پیسے ہو گئی تھی۔

بدھ کے روز بھی پاکستانی کرنسی کی قدر میں کمی دیکھی گئی اور انٹر بینک میں ایک ڈالر 169 روپے 63 پیسے کی سطح پر آگیا تاہم کاروباری سرگرمیوں کے دوران ڈالر کی قیمت 169.15 کی سطح پر آگئی۔واضح رہے کہ رواں مالی سال کے آغاز سے اب تک ڈالر کے مقابلے میں روپے کی قدر 12 روپے سے زائد کم ہوچکی ہے۔ ڈالر کی قدر میں اضافے سے پاکستان کے قرضوں کا حجم بھی بڑھ رہا ہے۔

کرنسی ڈیلرز نے خدشہ ظاہر کیا ہے کہ اگر اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے ڈالر کی قیمت روکنے کے لیے مارکیٹ میں مداخلت نہ کی تو ڈالر مزید مہنگا ہوجائے گا۔ ڈالر کی قیمت میں اضافے کی وجہ سے امپورٹرز نے بھی ڈالر کی پیشگی بکنگ کرانا شروع کردی ہے جس سے انٹر بینک مارکیٹ میں ڈالر کی طلب بڑھ گئی ہے۔

گزشتہ روز ملکی تاریخ میں پہلی مرتبہ انٹر بینک میں روپے کے مقابلے میں ڈالر کی قدر 168 روپے 90 پیسے کی بلند ترین سطح پر جاپہنچا تھا۔ اس کی وجوہات سے متعلق ایکس چینج کمپنیز ایسوسی ایشن کے جنرل سیکریٹری ظفر پراچہ نے کہا تھا کہ درآمد کنندگان کی جانب سے ڈالر کی خریداری بڑھنے اور افغانستان میں ڈالر کی اسمگلنگ کی وجہ سے مقامی سطح پر ڈالر کی قیمت بڑھ رہی ہے۔

انہوں نے واضح کیا تھا کہ کئی سالوں بعد ڈالر کی بلیک مارکیٹ دوبارہ شروع ہوگئی ہے اور بلیک مارکیٹ میں ڈالر، اوپن مارکیٹ کے مقابلے میں 3 روپے زیادہ  میں فروخت ہو رہا ہے۔

قبل ازیں گورنر اسٹیٹ بینک رضا باقر نے کہا تھا کہ ڈالر کی قدر میں اضافہ قدرتی بات ہے کیوں کہ مالی سال 2022 میں کرنٹ اکاؤنٹ خسارہ بڑھ کر جی ڈی پی کے 2 سے 3 فیصد تک پہنچنے کی توقع ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اگر بڑھتے ہوئے کرنٹ اکاؤنٹ خسارے کے باوجود ایکسچینج ریٹ نہیں بڑھا تو اس کا مطلب ہے کہ ایکسچینج ریٹ کو برقرار رکھا جارہا ہے، جو مصنوعی اور ملکی معیشت کے لیے خطرناک ہے۔

مقامی کرنسی کی قدر میں تنزلی ایل این جی سمیت پیٹرولیم مصنوعات کی قیمتوں کو لپیٹ میں لے گی، جس سے مہنگائی اور پیداواری اخراجات بڑھ رہے ہی۔، اس کے نتیجے میں اضافی اخراجات کے ساتھ برآمدات کے اضافے پر زور دینا مشکل ہوگا۔