افغان ویمن فٹبالرز پاکستان پہنچ گئیں

  • بدھ 15 / ستمبر / 2021
  • 3690

افغانستان کی خواتین کھلاڑیوں کی فٹبال ٹیم گزشتہ روز طورخم کے راستے پاکستان پہنچی ہے۔ صدر پاکستان فٹبال فیڈریشن اشفاق حسین کا کہنا ہے کہ اس وقت افغانستان ویمن فٹبالرز اپنی فیملیز اور کوچز کے ہمراہ لاہور میں ہیں۔

حکومت پاکستان نے  کل 115 افراد کو ویزے جاری کیے جبکہ پہلے مرحلے میں 79 افراد پاکستان آئے ہیں جن کا استقبال پی ایف ایف اور سپورٹس بورڈ پنجاب کے حکام نے کیا ہے۔ اشفاق حسین کا کہنا ہے کہ وہ افغان کھلاڑیوں اور ان کے سپورٹنگ سٹاف کو خوش آمدید کہتے ہیں۔ افغانستان کے دستے کے قیام کے لیے تمام انتظامات مکمل ہیں۔

پاکستان کے وزیر اطلاعات و نشریات فواد چوہدری نے کہا ہے کہ ان تمام کھلاڑیوں کے پاس افغان پاسپورٹ اور پاکستان کے ویزے ہیں۔

اس دوران مقامی ذرائع ابلاغ کی خبروں کے مطابق پاکستان نے پیدل چلنے والے لوگوں کی نقل و حرکت کے لیے افغانستان کے ساتھ طورخم سرحد کی کراسنگ کھول دی ہے۔ طورخم دونوں ہمسایہ ممالک کے درمیان دو بڑی کراسنگز میں سے ایک ہے۔ پیر کو اسلام آباد نے سرحد پر جمع تمام افغانوں کی اپنے ملک آمد کو مسترد کیا تھا اور اس کے بعد طالبان نے کراسنگ بند کر دی تھی۔

ضلع خیبر کے ڈپٹی کمشنر منصور ارشد کے مطابق سرحد کھلنے پر دونوں طرف پھنسے لوگ اپنے اپنے ملک جاسکیں گے۔ اطلاعات کے مطابق افغانستان سے صرف ایسے لوگوں کو پاکستان آنے کی اجازت دی جا رہی ہے جنہیں طبی مدد کی ضرورت ہے۔ دونوں ملکوں کے درمیان تجارت کی سرگرمیاں جاری ہیں۔

پاکستان اور افغانستان کے درمیان 18 سرحدی کراسنگز ہیں جن میں سے سب سے زیادہ طورخم اور چمن کو استعمال کیا جاتا ہے۔

دوسری طرف افغان خواتین کرکٹ ٹیم کی سابقہ ڈائریکٹر طوبیٰ سنگر کا کہنا ہے کہ بین الاقوامی کرکٹرز کو افغانستان کی مردوں کی ٹیم کی حمایت کرنی چاہیے۔ ان کے مطابق اگر طالبان خواتین کی کرکٹ پر پابندی عائد کرتے ہیں تو اس کی سزا مردوں کی کرکٹ ٹیم کو نہیں ملنی چاہیے۔

انہوں نے اے ایف پی کو بتایا کہ مردوں کی ٹیم کا بائیکاٹ کوئی اچھا خیال نہیں۔ انہوں نے افغانستان کے لیے بہت کچھ کیا ہے۔ انہوں نے مثبت انداز میں دنیا کو افغانستان سے متعارف کرایا۔ طوبیٰ افغانستان کرکٹ بورڈ میں 2014 سے 2010 تک خواتین کی کرکٹ کی ڈائریکٹر رہیں

حال ہی میں کرکٹ آسٹریلیا کے سربراہ نے متنبہ کیا تھا کہ اگر طالبان نے خواتین کے کرکٹ کھیلنے پر پابندی عائد کی تو وہ پہلے ٹیسٹ میچ کے لیے افغانستان کی میزبانی نہیں کریں گے۔ طالبان نے اپنے گزشتہ دور میں کھیلوں سمیت کئی تفریحی سرگرمیوں پر پابندی لگائی تھی۔