انسانی حقوق اور آزادی اظہار
- تحریر افضال ریحان
- جمعرات 16 / ستمبر / 2021
- 5440
انسانیت نے صدیوں پر محیط تجربات سے جو عظیم و برتر اقدار دریافت کی ہیں، ان میں سرفہرست انسانی حقوق کا شعور واحترام یا پھر حریت فکر اور آزادی اظہار کی اہمیت ہے۔
سچ تو یہ ہے کہ انسانی حقوق کا تصور آزادی اظہار کے بغیر ممکن ہی نہیں ہے۔ یہ ہیومن رائٹس کی محافظ ہے۔ جس ظالم نے ہیومن رائٹس پر حملہ کرنا ہوتا ہے وہ سب سے پہلے حریت فکر اور آزادی اظہار کا گلا گھونٹتا ہے یا اس کی کوشش کرتا ہے۔ اس حوالے سے آج پاکستان یا افغانستان میں جو کھیل کھیلا جا رہا ہے اس جبر کی تلخیاں انسانیت صدیوں سے سہتی یا جھیلتی چلی آ رہی ہے۔ نظریہ جبر کے علمبردار ہر ڈکٹیٹر کی چھپی یا ننگی آرزو ہوتی ہے کہ وہ فکری آزادی یا اس کے اظہار کا منہ بند کر دے، نہ ہو گا بانس نہ بجے گی بانسری۔
اگر ہم روٹس میں جا کر جبر کی پروردہ ذہنیت کا جائزہ لیں تو معلوم ہو گا کہ یہ لوگ بظاہر جو بھی بلند بانگ دعوے کر رہے ہوں لیکن اندر سے بہت چھوٹے ہوتے ہیں۔ سماجی یا عوامی شعور و آگاہی سے ڈرے ہوئے خوفزدہ لوگ۔ وجہ اس کی یہ ہے کہ ایک سچا کھرا اور باصلاحیت انسان اپنی جدوجہد اور کارکردگی سے انسانوں کے دلوں کو فتح کرتا ہے لیکن جھوٹے، کم ظرف، نااہل، کٹھ پتلی کا کردار نبھانے والے میں خدمت کے ذریعے دلوں کو جیتنے کا وصف ہوتا ہے نہ صلاحیت۔ مگر حکمرانی کی حرص و ہوش شدید تر ہوتی ہے۔ جب کھوکھلے چنے کارکردگی دکھانے سے قاصر رہ جاتے ہیں تو لازمی بات ہے کہ ان پر عوامی تنقید ہوتی ہے جبکہ یہ تعلی باز اور خوشامد کے بھوکے اسے سن نہیں سکتے، جب ان پر عوام یا میڈیا کی تنقید آتی ہے تو انہیں اپنے جعلی اقتدار کا سنگھاسن ڈگمگاتا محسوس ہوتا ہے۔ نتیجتاً یہ ہر تنقیدی آواز کو نظریہ جبر یا جعلی حب الوطنی کی لفاظی کرتے ہوئے دبا دیتے ہیں۔ یا اس کی کاوش کرتے ہیں۔
اس وقت پاکستان اور افغانستان کی صورتحال درویش کے پیش نظر ہے پاکستان بوجوہ افغانستان سے ایڈوانس ہے۔ اس لئے مخالفانہ جلوس نکالنے پر حکومتی گماشتے وہ ردعمل دکھانے سے قاصر رہ جاتے ہیں جس کے یہ اندر سے حریص ہوتے ہیں۔ جبکہ افغانستان میں حالیہ دنوں خواتین کے مخالفانہ جلوس کی کوریج پر صحافیوں کو جس طرح ذہنی و جسمانی طور پر ٹارچر کیا گیا ہے بلکہ یہاں تک کہا گیا ہے کہ تم لوگوں کی سزا تو کچھ اور بنتی تھی فی الحال اسی پر اکتفا کرتے ہیں۔ ماقبل ایک مزاحیہ آرٹسٹ کی تذلیل کرتے ہوئے اسے جہاں پہنچایا ہے، وہیں پہنچا سکتے ہیں۔ جبکہ پاکستان میں صحافت کی زباں بندی کے لئے پلاننگ کرتے ہوئے مختلف تجاویز پر سوچ بچار جاری ہے۔
اگر حقیقت پسندی کی نظر سے دیکھا جائے تو صحافتی زبان بندی کے لئے یہاں مزید کسی پلاننگ کی ضرورت ہی نہیں ہے۔ ’’ماشاء اللہ و الحمدللہ‘‘ یہاں پہلے ہی بنا پلاننگ جو قدغنیں اور بندشیں لگی ہوئی ہیں، اگر ان کی تفصیل تحریر بھی کر دی جائے تو وہ اس طرح ناقابل اشاعت قرار پائے گی جو اکثر کالموں پر روا رکھی جاتی ہے۔ سچ تو یہ ہے کہ ابلاغیات کی اتنی بڑی انقلابی ترقی کے باوجود کم از کم ہمارے پرنٹ میڈیا پر آج بھی بہت سی ایسی قدغنیں ہیں جو سابقہ مارشل لاء دور میں بھی اس طرح نہیں تھیں۔ شاید اسی لئے بہت سے لوگ اسے غیر علانیہ مارشل لاء سے تعبیر کرتے ہیں اور یہ استدلال کرتے ہیں کہ پاپولر ووٹ کی طاقت کو تہس نہس کرنے کے لئے آدھی رات کو جھرلو پھیر دیاگیا تھا۔
ایک مرتبہ ناچیز کے ساتھ سرسیدؒ کے متعلق گفتگو کرتے ہوئے ڈاکٹر جاوید اقبال نے کہا کہ اگر سرسیدؒ نہ آئے ہوتے تو آج ہماری حالت افغانستان سے مختلف نہ ہوتی۔ عرض کی ڈاکٹر صاحب یہ بات بھی ہے لیکن اس کا بڑا کریڈٹ ہندوستان میں انگریزی حکومت کو جاتا ہے جنہوں نے یہاں ا ظہار رائے کے لئے بھرپور آزادیاں دے رکھی تھیں۔ یہ درست ہے کہ ان کے کچھ لوگ اپنی حکومت کے خلاف ہونے والے مسلح بلوؤں کو روکنے کے لئے حدود کو کراس کرتے ہوئے بھی پائے گئے مگر عمومی آزادیوں کا تصور اتنا بلند رہا ہے کہ جس کا تقابل ہم مابعد آزاد وطن کی قدغنوں سے نہیں کرسکتے۔ جبکہ افغانستان میں ایسی آزاد فضا کا ایک محدود عرصہ حالیہ بیس سال ہیں جن کی بدولت نئے نظریہ جبر کو وہاں بھی چیلنج کا سامنا ہے۔ آنے والے مہینوں میں وہ جتنا اسے دبائیں گے مہذب دنیا میں ان پر تنقید بھی اتنی ہی بڑھتی چلی جائے گی۔
حریتِ فکر اور آزادیٔ اظہار پر بندشوں کا ایک نقصان یہ بھی ہوتا ہے کہ ایسے سماج پھر اول و آخر جھوٹ کے سہارے چلتے ہیں۔ یکطرفہ پروپیگنڈے سے بونے کو قدآور اور قدآور کو بونا بنا کر پیش کیا جاتا ہے۔ حالیہ دنوں یکساں نصاب کی تدوین و تدریس کا خوب پروپیگنڈہ کیا جا رہا ہے حالانکہ اس میں سوائے نئی نسلوں کے اذہان کو مزید بوجھل بنانے کے اور کچھ بھی نہیں۔ جن کے اپنے بچے انگریزی زبان و ماحول میں پلتے ہیں، وہ کہتے ہیں کہ ہم قوم کے بچوں کو غیرملکی زبان و کلچر نہیں پڑھنے دیں گے۔
یہاں مطالعہ پاکستان کے نام پر قوم کے نونہالوں کو جو کچھ پڑھایا جاتا ہے کاش کبھی اس کا کھلا محاسبہ کرنے کی بھی اجازت ہو۔ اس کے باوجود ہم امید رکھتے ہیں ایک نہ ایک دن یہاں بھی انسانی حقوق اور آزادیوں کا شعور اور سویرا اسی طرح ہویدا ہو گا جو مہذب اقوام کا خاصا ہے۔ اس سے یہاں جمہوریت بھی مستحکم ہو گی اور آئین و پارلیمنٹ کی بالادستی حقیقت بھی قائم ہو سکے گی اور اسی رستے پر چلتے ہوئے عوامی دکھوں کا مداواممکن ہے۔