امریکہ کے ساتھ تعلقات کا نیا آغاز چاہتے ہیں: طالبان

  • جمعہ 17 / ستمبر / 2021
  • 4590

طالبان کا کہنا ہے کوہ امریکہ کے ساتھ نئے تعلقات کا آغاز کرنے کے خواہشمند ہیں۔ اب امریکہ افغانستان کے خلاف جنگ میں مصروف نہیں اس لئے نیا دور شروع ہؤا ہے۔

امريکی فوج کے افغانستان سے انخلا کے بعد امريکہ اور طالبان کے درمیان کس نوعیت کے تعلقات ہو سکتے ہیں، اس پر تجزیہ کاروں کی رائے منقسم ہے۔ امریکہ کے وزیر خارجہ انٹونی بلنکن واضح طور پر کہہ چکے ہیں کہ طالبان سے امریکہ کے تعلقات کا انحصار اس بات پر ہو گا کہ طالبان عالمی برادری سے کیے گئے اپنے وعدوں کی کتنی باسداری کرتے ہیں۔

طالبان کے ایک ترجمان سہیل شاہین نے وائس آف امریکہ کو بتایا کہ جس وقت امریکہ افغانستان میں ان سے جنگ لڑ رہا تھا اس وقت وہ ان کا دشمن تھا۔ آخرکار امریکہ نے بھی یہ محسوس کر لیا کہ فوجی ایکشن اس مسئلے کا حل نہیں ہے۔ اب یہ چیپٹر ختم ہو چکا ہے اور نیا دور شروع ہو رہا ہے۔

سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ ہم نیا آغاز چاہتے ہیں۔ اب یہ امریکہ پر منحصر ہے کہ وہ ہمارے ساتھ کام کرے گا یا نہیں۔ وہ افغانستان میں غربت کے خاتمے، تعلیم کے شعبے اور افغانستان کے بنیادی ڈھانچے کو کھڑا کرنے میں مدد کرتا ہے یا نہیں۔ اور یہ بھی کہ اگر وہ یہاں سرمایہ کاری کرنا چاہتے ہیں تو ہم ان کا خیرمقدم کریں گے۔ ایک دوست سے ایسا کرنے کی توقع کی جا سکتی ہے۔

تحریک طالبان پاکستان یعنی ٹی ٹی پی پر پاکستان کے خدشات کے حوالے سے وائس آف امریکہ نے ان سے پوچھا کہ اس گروپ کے ساتھ اپنے نظریاتی تعلق کی وجہ وہ اس مسئلے کا حل کس طرح نکالیں گے۔ جس پر انہوں نے اپنے اس موقف کا ایک بار پھر اعادہ کیا کہ وہ کسی بھی گروہ کو افغانستان کی سرزمین سے دہشت گرد حملوں کی اجازت نہیں دیں گے۔

داعش کی خطے میں موجودگی سے متعلق ایک سوال کے جواب میں ان کا کہنا تھا کہ وہ داعش کو کنٹرول کرنے کی قوت رکھتے ہیں۔ انہوں نے کہا کہ جب ہمارے ملک پر قبضہ کیا گیا تھا تو شمالی صوبوں کنڑ اور ننگرہار میں داعش موجود تھی۔ امریکہ بمباری یا ڈورن سے حملے کرنے کے باوجود انہیں ختم کرنے میں کامیاب نہیں ہوا۔ لیکن جب داعش نے لڑنا شروع کیا تو ہم نے ان صوبوں میں ان کا مقابلہ کیا۔ نتیجہ یہ نکلا کہ ہم نے انہیں ننگرہار، کنڑ اور شمالی صوبوں سے ان کا صفایا کر دیا اور سابقہ انتظامیہ انہیں کابل لے گئی۔

کابینہ پر امریکہ کے اس اعتراض کے جواب میں کہ وہ تمام لوگوں کی نمائندگی نہیں کرتی، سہیل شاہین کا کہنا تھا کہ یہ حکومت تمام نسلی گروپس کی حمایت سے بنائی گئی ہے۔ الیکشن کے بارے میں ان کا کہنا تھا کہ اس پر آئین کے مسودے پر کام کرتے وقت دیکھا جائے گا۔

سہیل شاہین کے کہا کہ آپ افغانستان میں تمام نسلی گروہوں پر مشتمل ایک طاقت دیکھ سکتے ہیں۔ جہاں تک الیکشن کی بات ہے، الیکشن ہوتے ہیں یا نہیں، اس کے لیے انتظار کرنا پڑے گا۔ مستقبل میں آئین پر کام کرنے کا منصوبہ ہے تو ان پر آئین کے مسودے کی تیاری کے وقت غور کیا جا سکے گا، ابھی نہیں۔

عورتوں کے حقوق، تعلیم اور حکومت میں شمولیت سے متعلق ان کا کہنا تھا کہ عورتوں کو شریعت کے مطابق تمام حقوق دیے جائیں گے لیکن جہاں تک عورتوں کے اعلیٰ حکومتی عہدوں پر فائز ہونے کی بات ہے تو اس پر علمائے دین کے مشوروں کے بعد ہی غور کیا جائے گا۔