مقامی حکومت کا نظام کیسے مضبوط ہوگا؟

بدقسمتی سے مقامی حکومتوں کا سیاسی او رجمہوری نظام ریاست او رحکومتی ترجیحات میں ہمیں بہت پیچھے نظر آتا ہے۔ یہ ہی وجہ ہے کہ اس وقت پورے ملک میں مقامی حکومتوں کے نظام کی عدم موجودگی مکمل جمہوری نظام کی نفی کرتا ہے۔

حالانکہ 1973کے آئین کی شق140 اے کو دیکھیں تو وہ تمام صوبائی حکومتوں کو پابند کرتی ہے کہ تمام صوبے  مقامی حکومتوں سمیت منتخب نمائندوں کو سیاسی، انتظامی اور مالی اختیارات کی تقسیم کو یقینی بنائیں۔ یہ نظام مجموعی طور پر ملک میں مرکزیت کے مقابلے میں عدم مرکزیت   اور اختیارات کی نچلی سطح پر منتقلی کویقینی بناتا ہے۔ یہ ہی نظام ملک میں مجموعی طور پر حکمرانی کے نظام کی شفافیت، عام آدمی کی وسائل اور اختیارات تک رسائی، وسائل کی منصفانہ تقسیم، مقامی ترجیحات کی بنیاد پر ترقیاتی عمل کی یقین دہانی سمیت نگرانی اور جوابدہی یا احتساب کے نظام کویقینی بنانے میں معاون ثابت ہوتا ہے۔ اسی طرح ہمیں ریاست اور حکومت کے  درمیان بڑھتی ہوئی خلیج کے خاتمہ، عام لوگوں کے  اعتماد کی بحالی اور عوامی مفادات کے تحفظ کوفوقیت دیتا ہے۔

کہا جارہا ہے کہ 2021-22ملک کے چاروں صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کا برس ہوگا۔ اس کی ایک وجہ جہاں ہم کو سیاسی بنیاد پر  حکومتوں پر بڑھتا ہوا دباؤ ہے تو دوسری وجہ عدالتی دباؤبھی ہے۔  عدالتیں بار بار صوبائی حکومتوں پر دباؤڈال رہی ہیں کہ وہ اپنے اپنے صوبوں میں مقامی حکومتوں کے نظام کو یقینی بنائیں۔ماضی میں بھی عدالتی فیصلوں کی وجہ سے ہی مقامی انتخاب ہوئے تھے۔۔ اچھی بات یہ ہے کہ اسی برس ملک بھر کی کنٹونمنٹ بورڈ کے انتخابات کا منظرنامہ دیکھنے کو ملا اور اب وہاں انتخابات کا عمل مکمل ہوچکا ہے۔ اس لیے امکان یہ ہی ہے کہ اسی برس کے آخر یا نئے برس کی پہلی سہ ماہی میں پنجاب اور خیبرپختونخواہ میں مقامی انتخابات ہوں گے۔البتہ سندھ میں پیپلزپارٹی کی صوبائی حکومت نئی مردم شماری کو بنیاد بنا کر فوری مقامی انتخابات کا التوا چاہتی ہے، مگر سندھ کی حکومت اور عدالت کے درمیان اس مسئلہ پر ٹکراؤ ہے اور دیکھنا ہوگا کہ عدالتی دباؤ نتیجے میں انتخابات کا فوری انعقاد ممکن ہوسکے گا؟

اصل مسئلہ مقامی حکومتوں کے نظام میں اصلاحات کا ہے۔ جو حکمرانی کا بحران ہمیں درپیش ہے اس کو بنیادبنا کر ہمیں  ایسا مقامی نظام حکومت درکار ہے جو محض مصنوعی بنیادوں پر نہیں بلکہ حقیقی معنوں میں حکمرانی کے نظام کو درپیش چیلنجز سے نمٹنے میں معاون ثابت ہو۔  مقامی حکومتوں کا نظام 18ویں ترمیم کے تحت مکمل طور پر ایک صوبائی مسئلہ ہے اور یہ صوبائی حکومتوں کی ذمہ داری ہے کہ وہ اپنے اپنے صوبہ میں آئینی فریم ورک کو مدنظر رکھ کر مقامی نظام کی تشکیل کو یقینی بنائیں۔ مگر صوبوں  میں مقامی نظام کی  عدم موجودگی ایک بڑی سیاسی رکاوٹ ہے۔یہ صورتحال ظاہر کرتی ہے کہ روائتی، فرسودہ، پرانی سوچ، خیالات اور  فکرکی بنیاد پر اس نظام کو مربوط بنیادوں پر چلایا نہیں جاسکتا۔ مقامی حکمرانی کے نظام میں ہمیں اپنے معاملات کو  آؤٹ آف باکس حل کرنا ہوں گے۔ دنیا میں حکمرانی کے نظام کے طور طریقوں سے سیکھنا چاہیے۔

پنجاب میں مقامی حکومتوں کے نظام میں حتمی ترامیم کا عمل جاری ہے۔ پنجاب کے صوبائی وزیر میاں محمود الرشید جو خود بھی ماضی میں مقامی سطح کے نظام سے تعلق رکھتے تھے او راس نظام کا وسیع تجربہ بھی رکھتے ہیں۔ ان کی جانب سے مختلف فریقین سے مل کر مشاورت کا عمل جاری ہے اور ترامیم کو حتمی شکل دی جارہی ہے۔ جو مجوذہ ترامیم کا ڈرافٹ سامنے آیا ہے اس میں تین پہلو اہم ہیں۔ اول پہلی بار صوبہ میں ضلعی و تحصیل یا ٹاؤن کی سطح پر چیرمین کا عملی انتخاب براہ راست ہوگا۔دوئم پہلی بار اس نظام کے تحت صوبہ کا مجموعی ترقیاتی بجٹ کا 30فیصد رقم مقامی حکومتوں کے نظام کی مدد سے خرچ کی جائے گی۔ سوئم صوبہ میں کوئی بھی نظام، کمپنی یا اتھارٹی مقامی حکومتوں کے نظام کے متبادل نہیں بنائی جائے گی اور اگر اس کی ضرورت محسوس ہوئی تو یہ ادارے مقامی حکومتوں کے ماتحت ہوں گے۔ چہارم اس نظام میں کوشش کی گئی ہے بیوروکریسی کے مقابلے میں منتخب نمائندوں کو زیادہ بااختیار بنایا جائے۔ پنجم کہا جارہا ہے کہ اس نظام کے تحت نچلی سطح پر  چھوٹے یونٹ کی تشکیل نیبر ہڈ کونسل، ویلج کونسل اور مجوزہ تجویزمیں گاؤں او رمحلہ کی سطح پر پنچایت یا وارڈ کونسل کی تشکیل بھی ہے۔اسی طرح مسلم لیگ ق کے مطالبے پر ضلع کونسل کی بحالی کی تجویز بھی زیر غور ہے۔

 پنجاب حکومت کو اپنی حتمی ترامیم سے پہلے چند بنیادی نوعیت کے سوالات کو بھی زیرغور لانا چاہیے۔ سب سے پہلے اس عمل کو تسلیم کرنا ہوگا اوراس کو آئینی تحفظ دینا ہوگا کہ مقامی نظام حکومت تیسری حکومت کا درجہ رکھتی ہے۔اسی طرح پنجاب سمیت دیگر صوبوں کو مقامی نظام میں ضلعی کونسل، تحصیل یا ٹاؤن کونسل کے بعد یونین کونسل تک یا نیبر ہڈ یا ویلج کونسل تک خود کو محدود کرنا چاہیے۔ اس وقت پنجاب کے نظام میں شہری سطح پر نیبر ہڈ کونسل، پنچایت کونسل، ٹاون کمیٹی، میونسپل کمیٹی، میونسپل کارپوریشن اور ضلعی چیرمین جبکہ دیہی سطح پر ویلج کونسل، پنچایت اور تحصیل کونسل تجویز کیا گیا ہے۔ ایک ضلع میں بہت زیادہ نظام یا ڈھانچوں کی تشکیل سے نظام اپنی افادیت برقرار نہیں رکھ سکے گا او راس سے مالی بوجھ بھی پڑے گا او ربلاوجہ مختلف ڈھانچوں میں سیاسی ٹکراؤ بھی سامنے آئے گا۔جبکہ خیبر پختونخواہ میں جہاں تحریک انصاف ہی کی حکومت ہے وہاں کم سے کم ڈھانچہ رکھا گیا ہے او راسی بنیاد پر پنجاب میں بھی نظام کو لانا چاہیے۔اسی طرح اگر حکومت محلہ یا گاؤں کی سطح پر پنچایت یا محلہ کونسل کی تشکیل کرنا چاہتی ہے تو پھر کم ازکم تجویز کردہ پانچ افراد میں سے ایک عورت کو قانونی طور پر اس کا حصہ بنانا ہوگا تاکہ اس محلہ یا گاؤں کی سطح پر عورتیں بھی فعال کردار اداکرسکیں او رپنچایت کی سطح پر عورتوں کی نمائندگی کو لازمی قرار نہ دینا سمجھ سے بالاتر ہے۔پنجاب میں نچلی سطح پر غیر جماعتی او راوپر کی سطح پر ان انتخابات کو جماعتی بنیاد پر کروانے کا فیصلہ کیا گیا ہے۔حالانکہ اصولی طو رپر سیاست او رجمہوریت میں غیر جماعتی انتخابات کا فیصلہ بھی سمجھ سے بالاتر ہے او ران انتخابات کو ہر سطح پر جماعتی بنیادوں پر ہی ہونا چاہیے۔اسی طرح بڑے شہروں اور چھوٹے شہروں کے نظام میں بھی بنیادی فرق ہونا چاہیے او ربڑے شہروں کا نظام زیادہ خودمختار او ر زیادہ وسائل سے جڑا ہونا چاہیے کیونکہ بڑے شہروں کے مسائل کا واحد حل ہی ایک مربوط مقامی حکومتوں کا نظام ہے۔

اسی طرح وفاقی سطح پر مقامی حکومتوں کے نظام کی مضبوطی کے حوالے سے بھی اہم فیصلے ہونے چاہیے۔ وفاق تمام صوبائی حکومتوں کو پابند کرے کہ وہ چند بنیادی اصولوں کو سامنے رکھ کر مقامی نظام حکومت کی تشکیل کو یقینی بنائے۔ اس میں انتخابات کا تسلسل، آئین کی شق کے تحت  نظام کی تشکیل، مقامی حکومتوں کے نظام کے مقابلے میں متبادل نظام کی نفی او رمنتخب نمائندوں کو اختیارات کی واضح او رشفاف تقسیم سمیت مقامی، صوبائی او رعام انتخابات ایک ہی وقت میں اور ان کی مدت چار یا پانچ برس اور ان اداروں کو آئینی تحفظ حاصل ہو۔اگرمقامی حکومت کے انتخابات عام انتخابات میں مشکل ہو تو پھر عام انتخابات کے بعد 120دن میں مقامی انتخابات کے انعقاد کو یقینی بنانے کی پابند ہو تاکہ مقامی سیاسی و جمہوری نظام کا تسلسل قائم رہے او رکوئی بھی صوبائی حکومت نہ تو اقتدار سنبھالتے ہی مقامی نظام کو ختم کردے یا اس نظام کو چلانے میں تاخیری حربے اختیار کرے۔