نیوزی لینڈ کی ریاست کس کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے

دیکھو بیکی (حامد کب کا دل سے اتر چکا) شاید جو بائیڈن، ٹرمپ یا شیخ رشید نے پہلے ہی آپ کو آگاہ کیا ہو کہ ویسٹ کو مجھ سے زیادہ کوئی نہیں جانتا لیکن یہ شریف، زرداری اور فردوس عاشق اعوان یہ سمجھتے ہیں کہ نیوزی لینڈ بھی ویسٹ میں ہی ہے۔

یہ غلط فہمی شاید انہیں اس لئے ہوئی کیونکہ نیوزی لینڈ کے کھلاڑی بھی گورے ہونے کے ساتھ ساتھ بہت معقول اور شائستہ بھی لگتے ہیں۔ ایسے تو سارے طالبان بھی اگر پتلونیں پہن لیں تو گورے لگنے لگیں گے لیکن وہ ویسٹ سے نہیں ہیں بلکہ وہ تو بہت غیرت مند لوگ ہیں اور اب سیانے اور ماڈرن بھی ہو گئے ہیں۔ اب تو انہوں نے سرعام مانگنا شروع کر دیا ہے۔ ہم جو طالبان کی اتنی وکالت کر رہے ہیں تو وہ بلاوجہ نہیں ہے۔ ویسٹ کو سمجھ نہیں آتی کیونکہ ویسٹ افغانستان کی تاریخ کو نہیں سمجھتا۔ خیر لیکن نیوزی لینڈ تو ایسٹ میں ہے، اس کی سرحدیں چاروں جانب سے ویتنام کے ساتھ ملتی ہیں۔ ویتنام سے یاد آیا، وہ بھی تو ویسٹ میں نہیں ہے۔ لیکن میں ازبکستان، ویتنام اور زمان پارک کی تاریخ کو بہت اچھی طرح جانتا ہوں۔

خیر تاریخ کی بات پھر کریں گے پہلے ویسٹ کی بات کرتے ہیں۔ تو مجھے رمیز راجہ نے بتایا کہ نیوزی لینڈ والے اپنی ہار سے ڈر گئے ہیں اور وہ میچ کھیلے بغیر آج اور ابھی واپس جانا چاہتے ہیں۔ رمیز کو بہت افسوس تھا اور وہ رو رہا تھا۔ اس نے یہ بھی مشورہ دیا کہ میں ان (نیوزی لینڈ) کی بڑی امی، معافی چاہتا ہوں، ان کی وزیراعظم سے بات کر کے اسے منانے کی کوشش کروں۔ اب دیکھیں ناں اگر آپ جو بائیڈن کی مصروفیت، نا اہلی اور ویکسین کو ایک طرف رکھ دیں تو فون کرنا کوئی اتنا مشکل کام نہیں ہے۔

ہم سب کو علم ہے کہ فیملی میں جب کوئی شادی یا کوئی دوسرا ایسا فنکشن ہو تو دو چار رشتہ دار بالکل آخری منٹ میں ناراض ہو ہی جاتے ہیں۔ بالکل ایسا ہی سین بن جاتا ہے جیسا نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے بنا دیا ہے۔ یہ تو روٹین ہے ناں۔ اور پھر آپ ناراض رشتہ داروں کو فون کرتے ہیں۔ ان کی منت سماجت کرتے ہیں۔ ان کے کسی بڑے سے بات کرتے ہیں تو معاملات ٹھیک ہو جاتے ہیں۔ میچ دوبارہ شروع ہو جاتا ہے، میرا مطلب ہے کہ فنکشن شروع ہو ہی جاتا ہے۔

میں بھی یہی سوچ رہا تھا کہ رواج کے مطابق میں ابھی وزیراعظم جاسنڈا سے فون بات کرتا ہوں اور وہ یوٹرن لے کر نیوزی لینڈ کی ٹیم کو حکم جاری کرے گی کہ واپس آنے کی ضرورت نہیں ہے، آرام سے میچ کھیلو۔ یا اگر سیدھے طریقے سے نہ بھی مانی تو کوئی شرط وغیرہ رکھ دے گی کہ جیسے ٹاس ہمیں جیتے دینا ہے یا یہ کہ وہ ایک باری زیادہ لے لیں گے وغیرہ وغیرہ۔ لیکن جاسنڈا نے تو مجھے حیران ہی کر دیا ہے۔ اس نے آنکھیں ماتھے پر رکھ لیں اور کہنے لگی کہ مسٹر پرائم منسٹر، ایسے تمام اہم فیصلوں کے لیے ہماری بہت سوچ سمجھ کر بنائی گئی پالیسی پہلے سے موجود ہوتی ہے۔ ایسے فیصلے بہت سی معلومات کی بنیاد پر مکمل بحث مباحثہ کے بعد آئین اور قانون کے تحت بنائے گئے فورمز پر کیے جاتے ہیں۔ اس لیے محض ایک فون کال پر واپس نہیں لئے جاتے۔

میں نے منت سماجت کی کہ ایسے نہ کرو میری عزت کا سوال ہے۔ میں نے اسے یہ بھی کہا کہ آپ کہیں تو میں آپ کو ملا برادر سے بھی فون کروا سکتا ہوں۔ ہماری طرف سے اب وہی بڑے ہیں۔ اور وہ آپ کو سیکیورٹی کا بھی یقین دلا دیں گے۔ اور اگر ملا برادر خود آپ کو سیکیورٹی کا یقین دلا دیں تو پھر نیوزی لینڈ کی ٹیم کو کس بات سے خطرہ ہے۔ ہماری تو سیکیورٹی کی بنیاد ہی طالبان کے ساتھ امن، دوستی اور ثواب پر ہے۔ اور دیکھ لیں ہم کتنے چین سے سوتے ہیں۔ اور اگر آپ ’چ‘ کے نیچے زیر لگا لیں تو بھی پاکستان بہت محفوظ ہے کیونکہ ایک طرف چین ہے اور دوسری طرف طالبان۔

جاسنڈا نے ملا برادر سے بھی بات کرنے سے انکار کر دیا۔ میں نے کہا کہ چلو اصل ناراضی تو بتا دیں۔ تو جاسنڈا نے کہ اصل بات تو وہ پہلے ہی شیخ رشید کے کان میں بتا چکی ہیں اور شیخ رشید صاحب نے کسی حد تک اس کا اعلان بھی کر دیا ہے۔ جاسنڈا نے کہا کہ نیوزی لینڈ کے سیکیورٹی ادارے اس کے کنٹرول ہی میں نہیں ہیں اور یہ بھی کہ وہ اندر سے مودی کے ساتھ ملے ہوئے ہیں۔ جاسنڈا نے کہا کہ وہ پہلے ہی شیخ رشید کو بتا چکی ہیں کہ اس دفعہ مودی نے ڈالر دیے ہیں تو نیوزی لینڈ کی حکومت مودی کے ہاتھوں میں کھیل رہی ہے۔ اس لیے نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم بھی پاکستانی ٹیم کے ساتھ کھیل کے میدان میں نہیں کھیل سکتی۔ انہوں نے یہ بھی کہا کہ اگلی دفعہ ہو سکتا ہے آپ ہمیں پیسے دیں اور ہم بھی ادھر کوئی سی پیک وغیرہ بنا لیں تو پھر ہم آپ کے ہاتھوں میں کھیل رہے ہوں گے۔

فون بند کرنے سے پہلے جاسنڈا ایک بڑی عجیب بات کی کہ جب وہ ہم (پاکستان) سے ڈالر لے کر سی پیک بنائیں گے تو پھر وہ مودی کے فون کا انتظار نہیں کریں گے۔

(بشکریہ: ہم سب لاہور)