جامعہ حفصہ پر طالبان کے جھنڈے، مولانا عبدالعزیز کے خلاف مقدمہ

  • اتوار 19 / ستمبر / 2021
  • 8530

جامعہ حفصہ کی چھت پر افغان طالبان کے جھنڈے لہرانے کے بعد مولانا عبدالعزیز، ان کے ساتھیوں اور طلبا کے خلاف انسداد دہشت گردی ایکٹ اور پاکستان پینل کوڈ کی مختلف دفعات کے تحت مقدمہ درج کرلیا گیا۔

وفاقی دارالحکومت کی انتظامیہ اور پولیس کے افسران نے تصدیق کی ہے کہ مقدمہ مدرسے کی چھت پر افغان طالبان کے جھنڈے لگنے کے بعد درج کیا گیا ہے۔ مدرسے کے منتظم مولانا عبدالعزیز نے کھلے عام افغان طالبان کا نام استعمال کر کے پولیس کو سنگین نتائج کی دھمکیاں دیں۔

مدرسے کے طلبا اور اساتذہ نے پولیس کو چیلنج کیا اور انہیں طعنے دیے۔افسران نے میڈیا کو بتایا کہ یہ مقدمہ دارالحکومت انتظامیہ کے ایک سینئر افسر کی ہدایت پر اے پی اے کے سیکشن 124 اے اور 188 کے تحت درج کیا گیا تھا۔ تاہم ایف آئی آر کے اندراج کے بعد اسے سیل کرنے کا فیصلہ کیا گیا۔

ڈپٹی کمشنر اسلام آباد نے ایک پیغام میں کہا کہ علاقہ صاف کرالیا گیا، جھنڈے ہٹا دیے گئے اور مقدمہ درج کرلیا گیا ہے۔

21 اگست کے بعد یہ تیسرا موقع تھا جب افغان طالبان کے جھنڈے مدرسے پر لہرائے گئے۔ اس سے قبل جامعہ کی چھت پر کم از کم 5 سفید جھنڈے لہرائے گئے تھے۔ اطلاع ملنے کے بعد ضلعی انتظامیہ نے ایک پولیس دستہ بھیجا جس نے مدرسے کو گھیرے میں لے لیا، پولیس کی موجودگی کا مقابلہ کرنے کے لیے مدرسے کے طلبا چھت پر چڑھ گئے۔ دیگر طلبا اور اساتذہ بھی عمارت کے باہر پہنچ گئے اور انہوں نے پولیس کو چیلنج کیا جس کے نتیجے میں علاقے میں کشیدگی پیدا ہوئی تاہم کوئی ناشگوار واقعہ پیش نہیں آیا۔

مدرسے سے وابستہ کچھ لوگوں بشمول مولانا عبدالعزیز مسلح تھے۔ انتظامیہ اور پولیس کے سینئر افسران نے موقع پر پہنچ کر مولانا العزیز عزیز کے ساتھ بات چیت کی۔ افسران نے مزید کہا کہ مذاکرات کے بعد چھت سے جھنڈے ہٹائے گئے۔

پولیس کا کہنا ہےکہ کوئی بھی جھنڈا لہرانا نہیں ہے کیونکہ ایسا کوئی قانون نہیں ہے جو اس مسئلے کو حل کرے یا جس کے تحت قانونی کارروائی کی جا سکے۔  مولانا عبدالعزیز نے اس بات کا فائدہ اٹھایا۔