نیوزی لینڈ نے پانچ ممالک کے انٹیلی جنس اتحاد کی اطلاع پر دورہ پاکستان منسوخ کیا
- اتوار 19 / ستمبر / 2021
- 7110
نیوزی لینڈ کی جانب سے دورہ پاکستان کی منسوخی کے حوالے سے دعویٰ کیا گیا ہے کہ کیویز نے انٹیلی ایجنسیوں کے اتحاد کی اطلاع پر دورہ پاکستان منسوخ کیا۔
اطلاعات کے مطابق نیوزی لینڈ کو پانچ ممالک کی خفیہ ایجنسیوں کے اتحاد سے خبر ملی تھی کہ پاکستان میں ان کی ٹیم کو نشانہ بنایا جا سکتا ہے۔ فائیو آئیز نامی یہ اتحاد نیوزی لینڈ، کینیڈا، آسٹریلیا، امریکا اور برطانیہ کی خفیہ ایجنسیوں پر مشتمل ہے اور میچ سے قبل اس خطرے کی حتمی طور پر تصدیق کی گئی جس کے بعد پاکستان اور نیوزی لینڈ کے اعلیٰ حکام کے درمیان رابطے ہوئے۔
پاکستان کے وزیر اعظم عمران خان نے ہم منصب جیسنڈا آرڈرن سے بھی رابطہ کرنے کی کوشش کی تھی لیکن نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم کو سیکیورٹی کی یقین دہانی کے باوجود نیوزی لینڈ نے دورہ جاری نہ رکھنے کا فیصلہ کیا۔ تمام تر رابطوں کے 12 گھنٹے کے اندر اندر ہی دورہ منسوخ کرنے کا اعلان کردیا گیا۔ سیکیورٹی کو وجوہات بنا کر پاکستان سے آخری لمحے پر سیریز منسوخ کرنے پر پاکستان سمیت کرکٹ برادری کی شدید تنقید کے باوجود نیوزی لینڈ کی حکومت اپنے کرکٹ بورڈ کے فیصلے کو مکمل سپورٹ کررہی ہے۔
نیوزی لینڈ کے نائب وزیر اعظم برانٹ روبرٹسن نے اس بات کی تصدیق نہیں کی کہ اس خطرے کی وجہ سے دورہ منسوخ کیا گیا لیکن ان کا کہنا تھا کہ خطرے کی اطلاع انتہائی معتبر ذریعے سے آئی تھی اور اس سلسلے میں فوری ایکشن کی ضرورت تھی۔ اس طرح کی صورتحال میں یہ ممکن نہیں ہوتا کہ آپ حملے کی تفصیلات کے بارے میں جانیں لہٰذا اسے فوری بنیادوں پر سنجیدگی سے لینے کی ضرورت تھی۔
نائب وزیر اعظم نے کہا کہ ہم نیوزی لینڈ کرکٹ کی جانب سے لیے گئے فیصلے کو مکمل سپورٹ کرتے ہیں۔ یہ فیصلہ سیکیورٹی تجزیے کے بعد کیا گیا۔ سیکیورٹی کو لاحق خطرات کی اطلاع انتہائی معتبر تھی اور بورڈ نے اس حوالے سے بالکل درست فیصلہ کیا۔ انہوں نے کہا کہ ہم ٹیم کو باحفاظت رکھنے پر پاکستان کے شکرگزار ہیں اور یہ تسلیم کرتے ہیں کہ پاکستان میں کرکٹ کے حلقوں کے لیے یہ فیصلہ کس حد تک مایوس کن ہے لیکن کھلاڑیوں کی حفاظت سب سے اہم ہے۔
رپورٹ کے مطابق نیوزی لینڈ کے ایک اہم عہدیدار نے دعویٰ کیا کہ وزیر اعظم جیسنڈا آرڈرن نے عمران خان سے گفتگو میں اس خطرے کا اظہار کیا تھا کہ پہلے ون ڈے کے لیے ٹیم کے اسٹیڈیم پہنچنے پر ان پر حملہ کیا جا سکتا تھا۔ واضح رہے کہ نیوزی لینڈ کی ٹیم 18سال کے طویل عرصے کے بعد ون ڈے اور ٹی20 سیریز کھیلنے کے لیے پاکستان کے دورے پر آئی تھی۔ نیوزی لینڈ کی ٹیم کو دورے میں تین ون ڈے اور پانچ ٹی20 میچوں کی سیریز کھیلنی تھی۔
نیوزی لینڈ کرکٹ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ نے کہا ہے کہ کرکٹ ٹیم کولاحق خطرے کی تفصیلات نہ پاکستان کو تو بتائی گئیں اور نہ ہی بتائی جائیں گی۔ نیوزی لینڈ کرکٹ کی جانب سے جاری اعلامیے میں کیوی بورڈ کے چیف ایگزیکٹیو ڈیوڈ وائٹ نے کہا ہے کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم پاکستان کے خلاف سیریز کھیلنے کے لیے پرعزم تھی کیونکہ اس سے قبل پاکستان کی سیکیورٹی صورتحال کا تفصیلی جائزہ اور خطرات سے نمٹنے کے لیے کیے گئے انتظامات کا جائزہ لیا گیا تھا۔ لیکن جمعے کے روز ہر چیز بدل گئی، اس حوالے سے دی گئی ہدایات اور ممکنہ خطرے کے پیش نظر حالات بھی بدل گئے۔
ڈیوڈ وائٹ نے کہا کہ نیوزی لینڈ کرکٹ ٹیم کے دورے کی منسوخی کی مختصر وجوہات پاکستان کرکٹ بورڈ کو بتائی گئی ہیں تاہم تفصیلی انداز میں نہ تو انہیں بتایا گیا ہے اور نہ ہی بتایا جائے گا۔ ہمیں معلوم ہے کہ یہ پی سی بی کے لیے انتہائی مشکل وقت ہے لیکن ہمارے پاس دورہ منسوخ کرنے کے علاوہ کوئی راستہ نہیں تھا۔ وہ اس کے علاوہ کیا کہہ سکتے ہیں کہ ہمیں جو ہدایات ملیں وہ ٹیم کو درپیش ممکنہ خطرے سے متعلق ایک ذمہ دار اور انتہائی محتاط ذریعے سے ملنے والی رپورٹس کا نتیجہ تھیں۔