کرکٹ ڈپلومیسی میں نئی کوششوں کی ضرورت

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم، بورڈ اور حکومت کی جانب سے پاکستان کے دورہ کی منسوخی  کرکٹ کے کھیل اور شائقین کے لیے بھی ایک بری خبر ہے۔اس کھیل میں ہر فرد کی دلچسپی بھی نمایاں طور پر دیکھی جاسکتی ہے۔

پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی پاکستان کے لیے ایک بڑا چیلنج ہے۔ ہم سیاسی، سفارتی یا ڈپلومیسی سمیت کھیلوں میں اس بیانیہ کو آگے بڑھارہے ہیں کہ پاکستان ایک پرامن ملک ہے او رکافی حد تک ہم نے خود کو دہشت گردی سے باہر نکال لیا ہے۔ کھیل بنیادی طور پر عالمی دنیا میں تعلقات کی بہتری میں ایک اہم سفارت کاری کا کردار ادا کرتے ہیں۔نیوزی لینڈ کا دورہ پاکستان  اس لحاظ سے بھی اہم تھا کہ یہ دورہ پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی میں اہم کردار ادا کرسکتا تھا۔ اس دورے کے بعد دیگر ممالک کی ٹیموں کی پاکستان آمد کے امکانات بھی روشن ہوسکتے تھے۔مگر نیوزی لینڈ کی جانب سے محض میچ کے آغاز سے دو گھنٹے قبل دورہ کی منسوخی کا فیصلے نے پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی کی پیش رفت کو شدید نقصان پہنچایا ہے۔

 نیوزی لینڈ نے اس دورے کی منسوخی کی بنیاد سیکورٹی خدشات کو بنایا ہے۔لیکن یہ سیکورٹی خدشات کیا تھے او ران تک کیسے پہنچے او روہ کونسی ایسی معلومات تھی جس کو بنیاد بنا کر دورے کی منسوخی کا فیصلہ کیا گیااس پر فی الحال سوالیہ نشان ہیں۔ کیونکہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم یا ان کے بورڈ سمیت کسی بھی حکومتی سطح پر سیکورٹی کے خدشات کی تفصیلات بتانے سے گریز کیا گیا۔ پاکستان کے بقول جو بھی سیکورٹی خدشات کو بنیاد بنایا گیا اس کی کوئی بھی تفصیل ہمارے علم میں نہیں او رنہ ہی ہمیں کسی سیکورٹی خدشہ کا علم  تھا۔ اس لیے نیوزی لینڈ کایکطرفہ فیصلہ نہ تو درست ہے او رنہ ہی اس کے پیچھے کوئی حقیقت ہے۔ دورہ کی منسوخی سے قبل  خود وزیر اعظم عمران خان  نے نیوزی لینڈ کی وزیر اعظم سے براہ راست بات چیت بھی کی او ران کو یقین دلایا کہ یہاں نیوزی لینڈ کی ٹیم کی فول پروف سیکورٹی کے انتظامات مکمل ہیں، مگر کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔

نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم 18برس کے بعد پاکستان کے دورہ پر آئی تھی اس لیے پاکستان ا ور پاکستانیوں میں گرم جوشی قابل دید تھی، یقینی طور پر نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم نے پاکستان کے دورے سے قبل سیکورٹی کے تناظر میں تمام تر پہلوؤں کا جائزہ لے کر ہی یہاں آنے کا فیصلہ کیا تھا مگر اب جس عجلت میں او رپاکستان کواعتماد میں لیے بغیر دورہ کی منسوخی کا فیصلہ کے پیچھے کھیل، سیکورٹی سے زیادہ ہمیں سیاسی پہلو نمایاں نظر آتا ہے۔بدقسمتی سے کھیلوں میں کھیل کو فوقیت دینے کی بجائے سیاسی پہلو نمایاں طور پر غالب ہوچکے ہیں۔پاکستان او ربھارت میں کرکٹ  نہ ہونے کی وجہ سیاسی معاملات ہیں جو دونوں ملکوں میں ڈیڈ لاک کی وجہ بنے ہوئے ہیں۔پاکستان کی سطح پر ایک ایڈوائزری سیکورٹی کی سطح پر الرٹ کی صورت میں جاری ہوئی تھی۔اس ایڈوائزی کا مقصد کسی بھی سطح کی دھمکی نہیں تھی بلکہ اس طرح کے بڑے ایونٹ کے تناظر میں اس طرز کی سیکورٹی الرٹ کا آنا معمول کی بات تھی۔

ایک خبر یہ چلائی گئی کہ اس دورے کی منسوخی کی وجہ میں برطانیہ کی سیکورٹی ایجنسی یا ہائی کمیشن کی جانب سے دھمکی پر مبنی معلومات تھی۔ لیکن برطانوی ہائی کمشنر کرسچن ٹرنرکے بقول برطانوی ہائی کمیشن کے بارے میں قیاس آرائیاں جھوٹی ہیں او ردورے کے منسوخی کا فیصلہ نیوزی لینڈ کا اپنا تھا۔ پاکستان نے آخری لمحات میں نیوزی لینڈ بورڈ او رکرکٹ ٹیم کو آفر کی کہ ہم میدان میں تماشائیوں کے آنے پر بھی پابندی لگادیتے ہیں تاکہ دورہ جاری رہے، لیکن لگتا ہے کہ نیوزی لینڈ بورڈ پہلے ہی دورے کی منسوخی کا فیصلہ کرچکا تھا او را س کے پیچھے سیاست کا پہلو نمایاں تھا۔

دلچسپ بات یہ ہے کہ ویسٹ انڈیز، بنگلہ دیش، سری لنکا، زمباوے نے اپنے دور ہ پاکستان کو شاندار الفاظ میں خراج تحسین پیش کیا تھا او رکہا  تھا کہ سیکورٹی سمیت پاکستان کی مکمل مہمان نوازی قابل دید تھی۔ اسی طرح عالمی کھلاڑیوں کی پی ایس ایل میں  آمد نے بھی ان خدشات کو مکمل طو رپر دور کردیا تھا کہ پاکستان کرکٹ کے لیے محفوظ ملک نہیں۔اہم پہلو یہ بھی ہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کی پاکستان آمد کے فیصلہ میں برطانوی کرکٹ بورڈ او رآسٹریلیاکی سیکورٹی ٹیم کا فیصلہ بھی شامل تھا اور ان کی کلیرنس کے بعد ہی نیوزی لینڈ نے پاکستان آنے کا فیصلہ کیا تھا۔اب دیکھنا ہوگا کہ نیوزی لینڈ کے اس فیصلہ سے کیا دیگر عالمی ممالک کی کرکٹ ٹیمیں بھی پاکستان آنے سے انکار کرسکتی ہیں اور اگر ایسا ہوتا ہے تو یقینی طور پر یہ نقصان محض پاکستان کا ہی نہیں بلکہ کرکٹ جیسے کھیل میں سیاسی فیصلے یا سیاسی مداخلت جیسے امو رکی بالادستی کرکٹ کے کھیل کو نقصان پہنچانے کا سبب بھی بن سکتا ہے۔

 نیوزی لینڈ کے دورہ پاکستان کی منسوخی پر پاکستان میں دکھ کا پہلو نمایاں ہے تو دوسری طرف بھار ت میں اس دورے کی منسوخی پر جشن کا سماں ہے۔بنیادی طور پر پاکستان میں عالمی کرکٹ کی بحالی میں ایک بڑی رکاوٹ خود بھارت بھی ہے۔ بھارت عالمی کرکٹ میں اس بیانیہ کو بنیاد بناتا ہے کہ پاکستان کرکٹ کے لیے ایک محفوظ ملک نہیں اور دہشت گردی جیسے امور کی موجودگی میں وہاں کسی بھی ملک کا کرکٹ کھیلنا نقصان دہ ہوسکتا ہے۔ جو کرکٹ ٹیمیں پچھلے دو برسوں میں پاکستان آئیں ان کو بھی بھارت کی کرکٹ لابی نے یہ ہی پیغام دیا کہ وہ پاکستان کے دورے سے گریز کریں،مگر ان ممالک نے بھارت کی بات ماننے سے انکار کردیا تھا۔بھارتی کرکٹ بورڈ عالمی کرکٹ او رممالک میں ایک طاقت ور فریق کے طور پر موجود ہے او راوروہ اپنی لابی کی بنیاد پر نہ صرف کرکٹ بلکہ پاکستان مخالفت کو بنیادبنا کر کرکٹ کے خلاف سازش کرتی رہی ہے۔ نیوزی لینڈ کے دورے کی منسوخی کے ابتدائی تانے بانے بھی بھارت سے جڑتے ہیں۔مسئلہ بھارت میں موجود مودی سرکار کی ہندواتہ پر مبنی سیاست ہے جو کسی بھی صورت میں پاکستان سے بہتر تعلقات یا کرکٹ کی بحالی میں سنجیدہ نہیں۔بھارت ہر وہ کوشش کرنے میں پیش پیش ہوتا ہے جس کا مقصد پاکستان کو عالمی سطح پر بدنام کرنا او رکرکٹ جیسے کھیل میں سیاست، دہشت گردی کو بنیاد بنا کر پاکستان میں عالمی کرکٹ کے دروازوں کو بند کرنا ہے۔

اب دیکھنا یہ ہے کہ نیوزی لینڈ کی کرکٹ ٹیم کے اس فیصلہ پر پاکستان او ربالخصوص ہمارا کرکٹ بورڈ کیا فیصلہ کرتا ہے۔ بورڈ کے سربراہ رمیز راجہ کے بقول پاکستان اس مسئلہ پر خاموش نہیں رہے گا بلکہ اس مسئلہ کو پوری شدت کے ساتھ آئی سی سی میں اٹھایا جائے گا اور نیوزی لینڈ کی جانب سے اس فیصلہ پر کوئی  سمجھوتہ نہیں کیا جائے گا۔دراصل پاکستان کو کرکٹ سمیت ہر کھیل کی سطح پر سفارتی یا ڈپلومیسی کے محاذپر ایک بڑی جنگ کا سامنا ہے۔ بالخصوص جب بھارت ایک منفی سوچ کی بنیاد پر پاکستان میں عالمی ٹیموں کی آمد کو روکنا چاہتا ہے تو ہمیں واقعی ایک متبادل حکمت عملی اور بڑی جنگ لڑنی ہوگی۔ اس جنگ میں ہمارا ریاستی، حکومتی بیانیہ میں حزب اختلاف کی سیاسی جماعتوں، میڈیا، کھیلوں سے وابستہ ٹیموں، کھلاڑیوں، آفیشلز سب کو اجتماعی طور پر اس جنگ کو لڑنا ہے۔ ہمیں ان تمام قوتوں کو جو ملک میں یا ملک سے باہر یا ہمارا ہمسایہ بھارت ہے ان کے خلاف ایک مشترکہ حکمت عملی درکار ہے۔کیونکہ اگر پاکستان نے نیوزی لینڈ کے دورہ کی منسوخی پر سفارتی سطح یا کرکٹ کی ڈپلومیسی پر کوئی کمزوری دکھائی اور ایک سخت موقف نہ اپنایا تو آگے جاکر دیگر ٹیمیں بھی نیوزی لینڈ جیسا رویہ اختیار کرسکتی ہیں۔

ہمیں جذباتیت کی بجائے ٹھوس بنیادوں پر اپنا مقدمہ عالمی کرکٹ کے سامنے پیش کرنا چاہیے او راس میں صرف ہمیں ردعمل کی بجائے ایک تسلسل پر مبنی پالیسی درکار ہے۔رمیز راجہ کو اس معاملے میں لیڈ لینی ہوگی اور حکومت پاکستان سمیت پورے پاکستان کو ان کے پیچھے کھڑے ہونا ہوگاتاکہ کرکٹ کو فتح حاصل ہو۔