ناروے قومی اسمبلی کے انتخابات اور انتخابی نظام

13 ستمبر 2021 کو ناروے میں قومی اسمبلی کے انتخابات ہوئے- پورے انتخابی عمل میں ایک بھی انتخابی بےقاعدگی یا دھاندلی کی خبر نہ آسکی- حالانکہ 42 % پیشگی ووٹ بھی ڈال جاچکے تھے۔

پیشگی ووٹنگ کا عمل 10 اگست سے 10 ستمبر تک جاری رہا- پورے ووٹنگ عمل میں صرف بلیٹ پیپر پر ووٹ ڈالے گئے۔ ہر ووٹر کو پولنگ اسٹیشن پر آکر ووٹ ڈالنا پڑا - کسی ای ووٹنگ اور ای وی ایم مشین کا استعمال نہیں ہوا - کسی جگہ کسی فوج، کسی اسٹبلیشمینٹ،  کسی انتخاب کرانے والے عملے نے کوئی مداخلت نہیں کی اور نہ ہی ووٹر اور عوام ایسا کرنے دیتے ہیں۔

ہارنے والے امیدواروں اور پارٹی لیڈروں نے اپنی شکست خوش دلی سے قبول کی اور اپنے مخالف جیتنے والے امیدواروں اور پارٹیوں  کو مبارک باد دی۔

 انتخابات کے نتائج کے مطابق  بائیں بازو کے اتحاد نے 100 نشستیں حاصل کرکے قومی اسمبلی میں اکثریت حاصل کرلی - جس سے آربائیدر پارٹی کے منتخب پارٹی لیڈر اور منتخب قومی اسمبلی ممبر یوناس گار ستورے کے وزیراعظم بننے کے واضح امکانات ہیں۔ بائیں بازو کے اتحاد میں موجود 3 پارٹیوں آربائیدر پارٹی،  سوشل وینسترے پارٹی اور کسان پارٹی کے حکومت بنانے پر مذاکرات شروع ہیں۔ تینوں پارٹیاں ان نکات پر متفق ہیں کہ ملک میں امیر غریب کے درمیان بڑھتے ہوئے معاشی عدم مساوات کو کم کرنا ہے - ایک سے زائد رہائش رکھنے کے علاوہ پراپرٹی پر شرح ٹیکس میں اضافہ ہوگا- ماحولیاتی آلودگی کو کم کرنے کے ساتھ  ساتھ رینیو ایبل انرجی سیکٹر میں نئی سرمایہ کاری کی جائے -3 پارٹیوں میں ان نکات پر اتفاق رائے ہونے کے ساتھ کچھ نکات پر اختلاف بھی موجود ہے - جس میں خاص طور پر نیٹو سے دفاعی معاہدے اور یورپی اقتصادی یونین سے علیحدگی کے معاملات شامل ہیں۔

ناروے میں قومی اسمبلی کے انتخابات ہر 4 سال بعد ہوتے ہیں۔ ناروے قومی اسمبلی میں  منتخب نمائندوں کی کل تعداد 169 ہے - یہ 169 نمائندے ملک کے 19 انتخابی یونٹس سے منتخب ہوتے ہیں۔ جو پارٹی یا مخلوط اتحاد قومی اسمبلی میں 85 یا 85 سے زائد نشتی جیت لے گی ، وہ پارٹی یا مخلوط اتحاد قومی حکومت بنا لے گا ۔ ناروے میں ہر سطح پر انتخابات  متناسب نمائندگی طریقہ کار سے ہوتے ہیں - یعنی جو پارٹی انتخابات میں جتنے ووٹ لے گی ، ان ووٹ کے حاصل کردہ تناسب سے اس کے قومی پارلیمان، ضلع اور یونین کونسلوں میں نمائندے اتنی نشستیں حاصل کرسکیں گے ۔

ملک کی قومی اسمبلی  کے 19 انتخابی یونٹ ہیں،  ہر یونٹ کے نمائندوں کی تعداد کا تعین ، اس حلقے کے کل رقبے اور کل  آبادی کے مطابق کیا جاتا ہے۔ ناروے قومی اسمبلی کے 169 نمائندے اسمبلی میں اس طرح نشستیں حاصل کرتے ہیں:

150 نمائندے ہر انتخابی حلقے سے براہ راست اپنی پارٹی کے حاصل کردہ ووٹوں کے تناسب سے قومی اسمبلی میں جگہ حاصل کرتے ہیں- یعنی جس پارٹی کو جس حلقے میں 
زیادہ  ووٹ پڑے، اس پارٹی کے زیادہ نمائندے قومی اسمبلی میں اپنے حلقے کی نمائندگی کریں گے ۔ جبکہ بقیہ 19 نمائندے ہر انتخابی یونٹ سے لیے جاتے ہیں  یعنی ایک ایک نمائندہ ہر انتخابی یونٹ سے ہوتا ہے۔

یہ 19 نشستیں (نمائندے ) ان پارٹیوں کے لیے مختص ہوتی ہیں، جوپارٹیاں پورے ملک میں ٹوٹل پڑنے والے ووٹوں کا کم از  کم 4 % ووٹ حاصل کرتی ہیں- یعنی جو پارٹی کسی انتخابی حلقے میں کہیں سے کوئی نشست نہ جیت سکے  لیکن ملک میں پڑنے والے ٹوٹل ووٹ کا 4 % ووٹ حاصل کرتی ہے  تو وہ ان 19 نشستوں سے اپنے  حاصل کردہ ٹوٹل ملکی ووٹ کے تناسب سے یا اس سے زیادہ  نشستیں حاصل کرسکتی ہے ۔

اس انتخابی نظام  یعنی ’متناسب نمائندگی‘ کی خوبصورتی یہ ہے کہ اس سے ہر طبقے کی نمائندگی قومی اسمبلی میں موجود ہوتی ہے - حالانکہ بعض دفعہ  قومی اسمبلی میں بڑے  اور ضروری فیصلے کرنے میں کافی وقت لگ جاتا ہے - لیکن سکینڈے نیون فلاحی ریاستیں اس اصول پر مکمل یقین رکھتی ہیں کہ  اجتماعی فیصلہ سازی میں ہمیشہ ملک کے سب طبقات کو ساتھ لے کر چلنا ہے۔ کیونکہ ملک سب کا ہے اور اس لیے  ملک کے فیصلے بھی سب نے مل جل کر کرنے ہیں۔  نہ کہ تیسری دنیا کے ممالک کی طرح ملک کے انتظامی و معاشی و سیاسی معاملات پر صرف ایک مخصوص کرپٹ طبقہ قابض رہے۔