جس تن لاگے سو تن جانے

سانپ نکل گیا، اب  لکیر پیٹ رہے ہیں کہ یہ سب  کیوں اور  کیسے ہوا؟ اس قدر تیزی سے کیسے  ہوا؟  روپے اور ڈالر کی شرح مبادلہ پچھلے چند ہفتوں کے دوران  تیزی سے گری۔

کہاں  یہ کہ  اسی سال مئی میں روپے کی شرح مبادلہ 162/163  سے مضبوط ہوتے ہوتے 152  روپے ہو گئی۔ وضاحتوں اور کریڈٹ  کا ایک سے بڑھ کر ایک ریلا چل نکلا۔ یہ  معیشت کی  مضبوطی کی دلیل ہے، کرنٹ اکاؤنٹ سرپلس ہے، برآمدات بڑھ رہی ہیں،  فارن ریزرو بڑھ رہے ہیں۔  سب کو نوید ہو کہ روپے کی قدر میں اتنا تاریخی اضافہ ہوا ہے،   روپے کی قدر میں اس بہتری سے ثابت  ہو گیا کہ  معیشت اب ایکسٹرنل مالیاتی دباؤ سے نکل آئی ہے۔

ابھی مبارک سلامت کا شور تھما ہی تھا کہ  بجلیوں کو کسی دشمن نے نشیمن کی خبر دے دی۔  دیکھتے ہی دیکھتے  چند دنوں میں ڈالر کے مقابلے میں روپیہ لڑکھڑاتے ہوئے رواں  ہفتے تاریخ کی کمزور ترین شرح مبادلہ170  سے  نچلی سیڑھی تلاش کرنے  پر مجبور ہو گیا۔  ہاہا کار مچی کہ یہ کیا؟  وجوہات وہی سنی سنائی۔ تجارتی خسارہ ہے صاحب ،  درآمدات نے تو بڑھتے ہوئے شرم ہی نہ کی،  افغانستان کے حالات کا دباؤ ہے، فری فلوٹ میں  کرنسی اوپر نیچے ہوتی رہتی ہے وغیرہ وغیرہ۔

اس دوران یہ خبر بھی سامنے آئی کہ چپکے چپکے  1.2 ارب ڈالرز  مارکیٹ میں جھونکے گئے تاکہ روپے کی قدر کچھ مستحکم ہو سکے مگر  روپے کی بے قدری  رکنے میں نہیں آ رہی۔  بات میڈیا پر چل نکلی اور اپوزیشن  نے بھی اسے بنیاد بنا کر  حکومت کے خلاف اپنا پرانا راگ  نئے انگ میں الاپنا شروع کیا تو  اگلے  دو دنوں میں پراسرار طریقے سے روپے کی قدر بحال ہو نا شروع ہوگئی۔ دو  دنوں میں ڈیڑھ پونے دو روپے کا  استحکام  نظر آیا۔

روپے کی شرح مبادلہ کے بارے میں اتنا شور کیوں ہوتا ہے؟   وزیر اعظم  عمران خان کے  بقول روپے کی قدر گرنے سے مہنگائی بڑھتی ہے،  روپے کی قدر  گرنے سے بجلی اور پٹرول مہنگے ہو جاتے ہیں۔  بالکل  بجا، اسی لئے تو عوام پریشان ہو جاتے ہیں کہ روپے کے بے قدری  سے مہنگائی کو غصہ آ جاتا ہے۔  اب کی بار کچھ مختلف کیوں ہو گا؟ بلکہ اس  بار تو  اس کے علاوہ بھی کچھ ہونے کا ڈر ہے۔  ڈاکٹر وقار مسعود  دو  اڑھائی عشروں سے  کم و بیش سب حکومتوں  کا حصہ رہنے والے بیوروکریٹ ہیں۔   چند ہفتے قبل تک وزیر اعظم کے معاون خصوصی برائے  ریونیو  اور فنانس تھے۔  وزارت خزانہ میں ہونے والی حالیہ تبدیلیوں کی زد میں آنے کے سبب فراغت ہوئی۔   دو روز قبل  انہوں نے   فرمایا:   ملکی معیشت  کو مارک اپ کی شرح،  روپے کی شرح مبادلہ، ٹیکسوں اور انرجی کی قیمتوں  میں بڑے اتھل پتھل کے لئے  تیار رہنا چاہئے۔

 روپے ڈالر کی حالیہ  شرح مبادلہ کے بارے  میں ان کا خیال تھا کہ  شرح مبادلہ کو  یوں آزاد چھوڑنے  کا نتیجہ خوفناک ہو سکتا ہے۔  ایک طرف حکومت کے پاس بیس ارب ڈالرز کے ذخائر ہیں مگر دوسری طرف وہ روپے کے استحکام کی خاطر ان سے فائدہ نہیں اٹھا رہی۔ حیرت کی بات ہے کہ مئی میں ڈالر  کی شرح مبادلہ 152  روپے تھی مگر اس کے باوجو د  ریزرو  پندرہ ارب ڈالرز سے بڑھ کر بیس ارب ہو گئے۔ اب جبکہ ریزرو بیس ارب  ڈالرز  ہیں شرح  مبادلہ  تقریباً  170 کو چھو رہی ہے۔ انہوں نے حیرت کا اظہار کیا۔  معاف کیجئے، مجھے سمجھ نہیں آئی کہ یہ کونسی  اکنامکس ہے؟ 

مقام  حیرت ہے کہ عام آدمی کو سمجھ آ رہی ہے  اور نہ ڈاکٹر وقار مسعود جیسے پڑھے لکھے سکہ بند معیشت دان کو کہ یہ کونسی اکنامکس ہے؟  عام آدمی حیران ہے کہ اوگرا نے تو حکومت کو ایک روپے  کے لگ بھگ پٹرول  کی قیمت بڑھانے کا مشورہ دیا تھا لیکن حکومت نے  پانچ روپے اضافہ کرنا مناسب جانا۔  عام آدمی  کو  سمجھانے کے لئے وزیر اطلاعات نے  خدا لگتی کہہ  کر  معاملہ ہی نمٹا دیا، فرمایا کہ ہم تیل امپورٹ کرتے ہیں، ظاہر ہے عالمی مارکیٹ میں تیل مہنگا ہو گا تو حکومت کو بھی مہنگا کرنا پڑے گا۔   لوگوں کو  علم ہونا چاہئے کہ پاکستان میں دیگر ممالک کی نسبت تیل ابھی بھی سستا ہے۔  مدعا اس وضاحت کا یہی لگا کہ عوام  کو شکر کرنا چاہیے  مگر  ناشکرے عوام ہیں کہ حال دہائی  میں جُت گئے ہیں۔

عوام کی معیشت فہمی  کے بارے میں  صرف فواد چوہدری ہی شاکی نہیں بلکہ ہم نے کم از کم دو  مزید ماہرین کو ڈالر کے مقابلے میں روپے کی دھلائی  کے بارے میں یہ کہتے سنا کہ  یہ کوئی انہونی بات  نہیں۔ اصل میں ہمارے ہاں کسی نہ کسی صورت میں  مصنوعی طریقے سے ڈالر روپے کی شرح مبادلہ  کو  کم  سطح پر رکھا جاتا رہا۔ اب کیونکہ روپے کی قدر فری فلوٹ کے ذریعے مارکیٹ  ڈیمانڈ اور سپلائی کے ذریعے طے ہورہی ہے تو لوگوں کو عجیب لگ رہا ہے۔ انہیں عادت نہیں ہے، ورنہ جن ممالک میں کرنسی فری فلوٹ ہوتی ہے وہاں ایک دو فی صد بلکہ چار  پانچ فیصد کمی بیشی  بھی ایک معمول ہے۔ لوگ اس کے عادی ہو جاتے ہیں۔  دونوں ماہرین کا اصرار تھا  کہ یہ مارکیٹ  ڈیمانڈ سپلائی کے محرکات کا معصوم اور معمول کا  کھیل ہے مگر لوگ باگ یوں ہی ڈالر روپے کی شرح مبادلہ کے بارے میں جذباتی ہورہے ہیں۔   ہو رہے ہیں!

سمجھ نہیں آتی،  وزیر اعظم   کی سنیں  کہ کیا کریں،  روپے کی قدر گرنے سے مہنگائی  تو ہوگی  یا پھر  ڈاکٹر وقار مسعود کی  سنیں کہ اپنی کرنسی کو  کوئی یوں بے آسرا  چھوڑتا ہے یا پھر  مَنی مارکیٹ کے ماہرین کی  کہ عوام کو ابھی فری فلوٹ کی عادت نہیں ہوئی۔

عام آدمی کا مسئلہ مگر یہ ہے چھری خربوزے پر گرے یا  خوبوزہ چھری پر، نقصان خربوزے کا ہی ہوتا ہے،  اِس  کی سن لیں یا اُس کی سن لیں،  روپے کی قدر گرنے سے  نقصان  عوام کا ہی ہوتا ہے۔ ماہرین تو ٹریڈ خسارہ، ڈیمانڈ سپلائی، انٹرنیشنل مارکیٹ کی قیمتوں، فری فلوٹ اور آئی ایم ایف  پروگرام  کی کہانی سنا کر  پتلی گلی سے نکل  جاتے ہیں مگر عوام داد فریاد کریں تو کس سے کریں، جس تن لاگے سو تن جانے !