وزیر آؤٹ!
- تحریر عطا انصاری
- اتوار 19 / ستمبر / 2021
- 8450
ناروے کے وزیرِ خاندانی اُمور شیل اِنگولف روپستا معافیاں مانگ مانگ کر تھک گئے مگر اپنی کُرسی نہ بچاسکے۔ کل وہ پارٹی کی صدارت اور وزارتِ سے خود ہی مُستعفی ہوگئے۔ دوروز پہلے تک روپستا وزیر ہونے کے ساتھ رُکن قومی اسمبلی اور کرسچن ڈیموکریٹک پارٹی کے سربراہ بھی تھے۔ مگر اُن کے پاس اب پارلیمینٹ کی رکُنیت کے سوائے کچھ بھی باقی نہ بچا۔ اُن ہی کی صدارت میں پارٹی مقبولیت کا گراف پہلے ہی اس قدر گر چُکا تھا کہ ایک ہفتہ پہلے ہونے والے قومی انتخابات میں اُن کی پارٹی بہت بُری طرح ہار بھی گئی۔
قصۂ مختصر یوں ہے کہ جب روزنامہ آفتن پوستن نے پول کھول دیا کہ داراُلحکومت اوسلو سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر اپنا ذاتی مکان تو اُنہوں نے کرائے پر چڑھا رکھاہے اور وہ فیملی سمیت مُفت ملنے والی سرکاری رہائش میں رہ رہے ہیں، تو مُلک میں ایک کوہرام برپا ہوگیا۔ دُور دراز کے علاقوں سے منختب ہونے والے اراکینِ اسمبلی کو اوسلو میں اس لئے مفت رہائش فراہم کی جاتی ہے کہ وہ لمبے سفر کی دُشواریوں سے بچ جائیں اور انُہیں پارلیمینٹ میں اپنے فرائض نبھانے میں کوئی دقت نہ پیش آئے۔ مگر بُنیادی شرط یہ ہے کہ اُن کی مستقل سکونت کسی دور دراز علاقے میں ہو۔
مفت رہائش حاصل کرنے کے لئے اپنے آبائی شہر یا گاؤں میں بھی رہائش رکھنی پڑتی ہے اور اس کا باقاعدہ ثبوت بھی فراہم کرنا پڑتا ہے۔ اوسلو یا آس پاس کے علاقے میں مستقل سکونت اختیار کرلینے کی صورت میں مُفت رہائش کا حق ختم ہوجاتا ہے۔ روزنامے کے مطابق روپستا کی اہلیہ نے اوسلو سے چند کلومیٹر کے فاصلے پر کئی سال پہلے ایک مکان خرید لیا تھا اور روپستا نے وہیں مُستقل سکونت اختیار کرلی تھی۔ مگر اُنہوں نے سرکاری مکان بھی اپنے پاس ہی رکھا اور کاغذوں میں اپنے آبائی گھر میں بھی رہتے رہے۔ پھر انہوں نے اہلیہ کا مکان کرائے پر چڑھا دیا اور بچوں سمیت سرکاری مکان میں آگئے۔ کاغذوں میں روپستا مسُلسَل دس سال سے اپنے والدین کے ساتھ اپنے آبائی گھر میں بھی رہ رہے ہیں۔
اس انکشاف کے بعد روپستا الیکشن کمپین چھوڑ چھاڑ کر پریس کانفرنس کرنے پر مجبور ہوگئے۔ انہوں نے اپنی غلطی کا نیم اعتراف بھی کیا اور معافی مانگی۔ مگر بات یہیں ختم نہ ہوئی۔ روپستا کی پارٹی الیکشن تو ہار ہی چُکی ہے۔ دائیں بازو کی مخلوط حکومت کا وقت اب ختم ہونے ہی والا ہے۔ الیکشن جیتنے والی بائیں بازو کی جماعتیں نئی حکومت تشکیل دینے پر مذاکرات میں مصروف ہیں۔ اسی دوران الیکشن کے چار روز بعد ایک نیا انکشاف سامنے آیا۔ اخباری رپورٹ میں اس مرتبہ بتایا گیا کہ روپستا اپنے والدین سے جعلی رسیدیں بنواکر ٹیکس آفس کو بھیجتے رہے ہیں۔ یہ جعلی رسیدیں ٹیکس میں چھوٹ حاصل کرنے کی غرض سے بنوائی گئی تھیں۔
اب وزیر اعظم ایرنا سولبرگ کو میدان میں اتُرنا پڑا۔ انہوں نے روپستا پر اعتماد کا اظہار کیا اور اس بات پر زور دیا کہ روپستا اِن معاملات کو دُرست کررہے ہیں اور ٹیکس آفس سے بھی رابطے میں ہیں اور جلد ہی پُرانا ٹیکس بھی واپس کردیں گے۔ روپستا ایک بار پھر لیٹ گئے اور گڑگڑائے کہ میں بہت نادم ہوں اور معافی کا طلبگار بھی۔
اُدھر عوامی پریشر شِدّت اختیار کرگیا اور کرسچن ڈیموکرٹک پارٹی کے ہی متعدد لیڈروں نے اپنے ہی صدر جماعت کی کُھلے الفاظ میں مذمت کردی۔ وزیر اعظم کی پریس کانفرنس کے فوراً بعد ہی پولیس نے بھی تحقیقات کا اعلان کردیا۔ اب روپستا کے ہم جماعت لیڈروں نے مطالبہ کرڈالا کہ پارٹی کی ساکھ بچانے کے لئے اب روپستا کو مُستعفی ہوجانا چاہئیے۔
اگلے روز روپستا نے اپنے پارٹی کارکنوں کی رائے پر اعتماد و احترام کا اظہار کیا اور وہ وزارت اور پارٹی کی صدارت سے مُستعفی ہوگئے۔ اس سارے قصِّے میں دلچسپ بات یہ ہے کہ نہ تو روپستا پرابھی تک کوئی جُرم ثابت ہُوا ہے اور نہ ہی انُ پر باقاعدہ مقدمہ کیا گیا ہے، مگر وہ پھر بھی میڈیا کی رپورٹنگ اور اپنی ہی جماعت کے مُطالبے پر مُستعفی ہوگئے۔
معلوم نہیں کہ پولیس انکوائری سے کیا کُچھ ثابت ہوپائے گا، آیا روپستا کو جُرمانہ بھرنا پڑے گا یا وہ الزامات سے بری ہوجائیں گے۔ مگر عوام کا اعتماد کھو دینے کے بعد روپستا نشان عبرت ضرور بن گئے ہیں۔