نئی مالیاتی پالیسی کا اعلان، 15 ماہ بعد شرح سود میں اضافہ

  • سوموار 20 / ستمبر / 2021
  • 3060

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے نئی مانیٹری پالیسی کا اعلان کیا ہے۔ 15 ماہ بعد پالیسی ریٹ 25 بیس پوائنٹس اضافے کے بعد 7.25 فیصد کردیا گیا ہے۔

20 ستمبر 2021 کے  پالیسی کمیٹی کے اجلاس میں پالیسی ریٹ میں اضافے کا فیصلہ کیا گیا اور کہا گیا کہ معاشی بحالی کی رفتار توقع سے زیادہ بڑھ گئی ہے۔ کمیٹی نے آنے والے دنوں میں مہنگائی کا عندیہ دیتے ہوئے کہا کہ جون سے سالانہ مہنگائی کم ہوئی لیکن بلند درآمدات سے متعلق مہنگائی کے ساتھ بڑھتی مانگ کا  دباؤ مالی سال میں آگے چل کر مہنگائی کے اعدادوشمار میں ظاہر ہونا شروع ہو سکتا ہے۔

حقیقی شرح سود مستقل بنیادوں پر منفی رہی ہے اور ممکنہ طور پر مالیاتی اعانت بتدریج سکڑے گی تاکہ وقت گزرنے کے ساتھ معتدل حقیقی شرح سود کو حاصل کیا جا سکے۔ اس سلسلے میں کہا گیا کہ گاڑیوں، پیٹرولیم مصنوعات کی فروخت، سیمنٹ کی فروخت اور بجلی کی پیداوار جیسے زیادہ بلند تعداد والے ملکی مانگ مسلسل مضبوط نمو کے عکاس ہیں اور اس نمو کی عکاسی درآمدات اور ٹیکس وصولیوں کی مضبوطی سے ہوتی ہے۔

ان رجحانات کی بنیاد پر اُمید ہے کہ افغانستان میں ابھرتی ہوئی صورتحال کے اثرات کے لحاظ سے موجود انتہائی غیر یقینی کیفیت سے قطع نظر مالی سال 22 میں شرح نمو 4 تا 5 فیصد پیش گوئی کی بالائی حد میں رہے گی۔

اسٹیٹ بینک کے اعلامیے کے مطابق ترسیلات زر مستحکم رہیں اور جولائی سے اگست کے دوران سالانہ 10.4 فیصد بڑھیں جبکہ برآمدات نے بھی اوسطاً 2.3 ارب ڈالر کے ساتھ مناسب حد تک عمدہ کارکردگی دکھائی البتہ درآمدات نے انہیں بے اثر کردیا۔

ان عوامل کے باعث مانیٹری پالیسی کمیٹی کے سابقہ اجلاس کے بعد روپے کی قدر گری ہے لیکن حال ہی میں دوسری بہت سی کرنسیوں کی قدر بھی گری ہے کیونکہ فیڈرل ریزرو کی طرف سے تخفیف کی توقعات سامنے آئی ہیں۔

مہنگائی کے حوالے سے بتایا گیا کہ جون میں مہنگائی 9.7 فیصد تھی جو جولائی اور اگست میں کم ہو کر 8.4 فیصد رہ گئی ہے۔ اگست میں شہری اور دیہی علاقوں دونوں میں مہنگائی میں کمی آئی البتہ جولائی میں قیمتوں کی رفتار نسبتاً بلند رہی۔

اسٹیٹ بینک آف پاکستان نے کورونا وائرس کے ملکی معیشت پر مرتب ہونے والے منفی اثرات کے باعث مارچ سے اپریل 2020 تک ایک ماہ کے عرصے میں 3 مرتبہ شرح سود میں کمی کا اعلان کیا تھا۔