حکومت ہر صورت الیکٹرانک مشینوں پر ہی انتخابات کروائے گی: شبلی فراز
- سوموار 20 / ستمبر / 2021
- 4110
پاکستان کے وفاقی وزیر برائے سائنس و ٹیکنالوجی شبلی فراز کا کہنا ہے کہ انتخابی اصلاحات کا بل پارلیمنٹ کے مشترکہ اجلاس سے منظور کرایا جائے گا جس کے بعد الیکشن کمیشن بھی اس قانون پر عمل درآمد کا پابند ہو گا۔
اُن کا کہنا تھا کہ حکومت اپنی بنائی ہوئی الیکٹرانک ووٹنگ مشین (ای وی ایم) واپس لینے کو تیار ہے۔ بے شک جہاں سے بھی، مرضی کی مشین لے لیں کیوں کہ مستقبل صرف ٹیکنالوجی کا ہے۔ اسلام آباد میں وائس آف امریکہ کو دیے گئے خصوصی انٹرویو میں شبلی فراز کا کہنا تھا کہ اپوزیشن ساتھ چلنا چاہے تو مرضی لیکن ہم شفاف انتخابات کے لیے ای وی ایم لے کر آئیں گے۔ اور وزارت سائنس کی بنی مشین سے 100 فی صد شفاف انتخابات ہوں گے۔
خیال رہے کہ پاکستان میں 2023 میں شیڈول عام انتخابات کے لیے وزارتِ سائنس و ٹیکنالوجی نے الیکٹرانک ووٹنگ مشین متعارف کرائی ہے۔ حکومت کا دعویٰ ہے کہ اس سے انتخابات میں دھاندلی کی شکایات کا ازالہ اور شفافیت آئے گی۔ لیکن پاکستان میں حزبِ اختلاف کی سیاسی جماعتیں اور الیکشن کمیشن آف پاکستان نے اس پر اعتراضات اُٹھائے ہیں۔
شبلی فراز کا کہنا تھا کہ الیکشن کمیشن سے تصادم نہیں چاہتے، معاملات حل کرنا چاہتے ہیں لیکن اصولوں پر سمجھوتہ نہیں کریں گے۔ ای وی ایم مشین متنازع نہیں۔ لیکن جو سیاسی جماعتیں نہیں چاہتیں کہ الیکشن صاف اور شفاف ہو، وہ اس کو متنازع بنا رہی ہیں۔ ان لوگوں نے اب تک یہ مشین دیکھی بھی نہیں اور نہ ہی ٹیسٹ کیں لیکن وہ اسے متنازع بنا رہے ہیں۔
شبلی فراز نے کہا کہ الیکشن کمیشن کی ٹیکنیکل ٹیم نے اس مشین سے متعلق ہم سے جو بھی معلومات طلب کیں ہم نے من و عن فراہم کیں۔ البتہ سورس کوڈ اور ڈیزائن سے متعلق بعض معلومات اس موقع پر فراہم نہیں کر سکتے۔ لیکن اگر ہم ٹینڈر میں آئے تو وہاں ہم یہ بھی فراہم کر دیں گے۔
اس مشین میں کسی خرابی کے امکان کے بارے میں وزیر سائنس وٹیکنالوجی کا کہنا تھا کہ صرف خرابی کے ڈر سے ٹیکنالوجی کو مسترد نہیں کیا جا سکتا۔ مشین خراب ہو سکتی ہے لیکن اس کے لیے ہم 50 ہزار مشینیں زائد بنائیں گے۔ ہر ڈویژن میں زائد مشینیں موجود ہوں گی اور کسی خرابی کی صورت میں آدھے گھنٹے میں متبادل مشین پہنچ جائے گی۔
انہوں نے کہا کہ کسی مشین کو صرف اس وجہ سے مسترد نہیں کیا جا سکتا کہ اگر وہ خراب ہو گئی تو کیا ہو گا۔ الیکشن ایکٹ میں کہا گیا تھا کہ ای وی ایم کے استعمال کے لیے پائلٹ پراجیکٹ ہوں گے اور ضمنی انتخاب میں اسے استعمال کیا جائے گا، لیکن الیکشن کمیشن نے اسے استعمال نہیں کیا۔
اُن کے بقول الیکٹرانک ووٹ کے ساتھ ساتھ بیلٹ پرچی بھی ہو گی جب کہ بار کوڈ کے ذریعے اس کی تصدیق بھی ممکن ہو گی اور اس میں ووٹر کی سیکریسی بھی برقرار رکھی جائے گی۔
ایک سوال کے جواب میں شبلی فراز نے کہا کہ الیکشن کمیشن ایک آئینی ادارہ ہے، اس ادارے کی بھی ذمے داریاں ہیں۔ کوئی بھی ادارہ اختلاف کر سکتا ہے لیکن زبردستی ڈیمانڈ نہیں کر سکتا۔ انہوں نے اعظم سواتی کے بیان کے بارے میں کہا کہ پارلیمنٹ میں جو بات ہوتی ہے کوئی کسی وجہ سے اپ سیٹ ہے یا ریزرویشن ہے تو اس کا حق ہے کہ وہ اظہار کرے۔ اب اعظم سواتی اور فواد چوہدری کو طلب کیا گیا ہے لہذا میں ابھی تبصرہ نہیں کرنا چاہتا، لیکن ہم ایسا نہیں چاہتے کہ آئینی ادارے سے تصادم ہو۔
اُن کا کہنا تھا کہ ہماری کوشش ہے کہ اصولوں پر سمجھوتہ کیے بغیر قانون کے مطابق الیکشن کمیشن کے ساتھ اچھے تعلقات ہوں۔ اگر ہمارے پاس اکثریت ہے تو قانون بننے سے کوئی نہیں روک سکتا اور قانون بن جائے تو تمام ادارے ماننے کے پابند ہیں۔