تعلیم سے تالیم تک
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 20 / ستمبر / 2021
- 19220
اِدارہ رسالت ﷺ سے جاری ہونے والے ایک فرمان کے مطابق علم حاصل کرنا ہر مسلمان پر بلا تخصیصِ تذکیر و تانیث فرض ہے ۔ شریعت کے قانون کے مطابق فرض کا تارک فاسق و فاجر ہوتا ہے۔ فسق و فجور کیا ہے؟
اس کی شرعی تعریف تو کوئی مفتی ہی کرسکتا ہے مگر ایک عام آدمی کے لیے یہ دینی اقدار سے روگردانی ہے۔ علم، عمل کا جوہر ہے۔ حضرت نور والے فرمایا کرتے تھے کہ علم ایک مثلث ہے جس کے تین ضلعے ہیں۔ ایک ضلع قول ہے جو کتاب یا شنید سے ماخوذ ہے، دوسرا ضلع عمل ہے اور عمل کا جوہر علم ہے۔ اور جب علم کے راستے پر بے غرض اور بے لوث ہو کر چلا جائے تو اخلاص پیدا ہوتا ہے۔ نُکتے کی بات یہ ہے کہ علم کے تینوں حروف ہی عمل کے تینوں حروف ہیں اور اصل میں عمل علم ہے اور علم عمل ہے۔ اسی تُکتے کی وضاحت ہمارے شاعرِ مشرق نے کی ہے:
عمل سے زندگی بنتی ہے جنت بھی جہنم بھی
اس شعر کا مصرعِ ثانی بہت پیچیدہ اور گنجھل دار ہے جسے سرِ دست طاقِ نسیاں پر ہی رکھنا موزوں ہوگا ۔ اصل بات تو علم اور عمل کی ہے جو لازم و ملزم ہیں مگر اس عہد میں ہم نے ان دونوں کو جدا کردیا ہے اور دانشوری کے نام پر علم کو قول قرار دے کر اس کا بول بالا کردیا ہے۔ اور ہم عمل سے تہی، بے لباس اور برہنہ علم کے علمبردار بن کر بے عملی کے چمپئین بن گئے ہیں۔ لیکن جب اقبال علم کو زندگی کا مترادف قرار دیتے ہیں تو معاملہ بہت سنگین ہوجاتا ہے۔ علم کو صاحبِ نہجہ البلاغہ حضرت علی کرم اللہ وجہ نے حجاب الاکبر قرار دیا ہے جس کا ایک مطلب یہ نکلتا ہے کہ جب علم حجاب ہے تو تو بے علم بے حجاب یعنی ننگا ہے۔ اور ایک بات یہ بھی ہے کہ علم بے عملی کی یونیورسٹوں، کالجوں، سکولوں اور مدرسوں سے دستیاب نہیں ہوتا کیونکہ علم ایک اُمّی بنیﷺ کا سرمایہ حیات ہے۔ علم کتابِ کائنات کے مطالعے سے حاصل ہوتا ہے۔ اور ہندوستان کی تاریخ ایک مغل بادشاہ ایسا بھی ہوا ہے جو ان پڑھ تھا مگر دنیا اُسے اکبرِ اعظم کے نام سے یاد کرتی ہے۔ لیکن اس کے برعکس ہمارے عہد میں تعلیمی اداروں کے بھرمار ہے جو دراصل کاروباری ادارے ہیں جو ڈگریاں اور سرٹفکیٹ، سندیں اور ڈپلومے فروخت کرتے ہیں اور آن لائن ایسی ایسی یونی ورسٹیاں موجود ہیں جن سے ڈگری خرید کر ایک ان پڑھ بیووقوف پی ایچ ڈی ہو جاتا ہے۔ جہالت میں پی ایچ ڈی۔ یہ لوگ تعلیم کو تالیم کہتے ہیں اور ڈینگی مچھروں کے لہجے میں انگریزی بولتے ہیں ، جو نہ خود اپنی بات سمجھتے ہیں نہ سمجھا سکتے ہیں۔
ہماری علمی بے عملی نے ہمیں کہیں کا نہیں رکھا۔ یہاں تک کہ ہم نے مذہب کو بھی ایک مسخ شدہ نظریہ بنا دیا ہے۔ اور بُرا ہو ہماری بے عملی کا کہ ہم صفائی کو نصف ایمان کہتے ہیں اور ہمارے گلی کوچے اور گفتگو غلاظت اور نجاست سے آلودہ ہیں جو ہمیں نصف ایمان سے محروم کیے ہوئے ہیں۔ نصف ایمان کا مطلب ہے نصف اسلام جس کا مطلب یہ ہے کہ ہم پچاس فی صد مسلمان ہیں۔ بے علمی کے باب میں شیخ مصلح الدین سعدی شیرازی نے جو نکتہ بیمان کیا ہے وہ کمال کا ہے۔ فرماتے ہیں:
کہ بے علم نتواں خُدا را شناخت۔ کہ بے علم آدمی خُدا کو پہچان ہی نہیں سکتا۔ اور بے علمی کے سارے دریا ہمارے مدارس کی جھیل مانسرور سے نکلتے ہیں اور مدارس کے ان مہاتماؤں نے اس واضح حکم کے باوجود کہ علم حاصل کرنا لڑکوں اور لڑکیوں پر یکساں فرض ہے، ایک زمانے تک لڑکیوں کی تعلیم کو ممنوع قرار دیے رکھا ہے۔ اُن بے چاریوں کو چولہا چونکا یونیورسٹی تک ہی محدود رکھا اور یہ کبھی نہ سوچا کہ ان پڑھ ماؤں کی گود میں پلنے والے بچے علم کی کسی شاخ میں اپنا لوہا کیا منوائیں گے۔ آج اس بے علمی کا حاصل یہ ہے کہ ہماری نئی اور پرانی دونوں نسلیں جہالت کی دلدل میں پڑی کراہ رہی ہیں، جہاں اُن کی جون ہی بدل گئی ہے۔ ہمارے شہروں، قصبوں اور دیہات میں ایک ایک ایسی اُمت پل کر جوان ہوئی ہے جو بنیادی انسانی اخلاقیات سے محروم ہے اور ہر قسم کی جنسی درندگی کر کے انسانی جانوں سے کھیل رہی ہے۔
آج کی ایک ویڈیو میں دکھایا گیا ہے کہ ایک شخص جو بکری سے جنسی عمل کرتے ہوئے رنگے ہاتھوں پکڑا گیا تھا، پبلک میں تماشا بنا ہوا ہے، وہ تن برہنہ ہے، اس کے دونوں ہاتھ پشت سے بندھے ہیں ااور بکری کی رسی اُس کے پشت پر بندھے ہاتھوں میں اُڑس دی گئی ہے اور گالیوں، قہقہوں اور تمسخر آمیز جملوں کی بوچھاڑ میں اُس کا جلوس نکل رہا ہے جس میں ہر عمر کے مرد و زن شریک ہیں۔ سبحان اللہ۔ یہ بھی ہماری زندگی کی کتاب کی ایک تصویر ہے جسے دیکھ کر ہمیں شرم تو نہیں آتی البتہ اس بد اخلاقی سے لطف اندوز ہونے کے جملہ حقوق ہمارے معاشرے کے نام محفوظ ہیں۔ آج دوسری خبر ایک خاتون کی ہے، جس کے گھر میں گھس کر اُس کی اجتماعی عصمت دری کی گئی اور پھر اس کو ادھ موا چھوڑ کر ڈاکو گھر کا سامان لوٹ کر نو دوگیارہ ہو گئے۔ اس طرح کے واقعات اتنی کثرت سے ہونے لگے ہیں کہ گمان ہوتا ہے کہ یا تو اس ملک میں کوئی حکومت ہی نہیں یا ساری قوم ناقابلِ حکومت بن چکی ہے جہاں گلی کوچوں ڈاکوؤں کے ساتھ آورہ کتوں کا راج ہے جو صرف بچوں کو ہی نہیں ہر عمر کے رہگیروں کو کاٹ لیتے ہیں اور اس لشکرِ سگاں کی عملداری میں پورا معاشرہ غیر محفوظ ہو کر رہ گیا ہے۔
یہ سا ری صورتِ حال عوام کے لیے ہے جب کہ اس ملک کے عسکری، مذہبی، سول اور بیوروکریسی کے راج دُلارے کرپشن کی بانسری بجا رہے ہیں۔ اقتدار اور کرسی کے لیے لڑ رہے ہیں اور کسی کو ان بچوں بچیوں اور خطِ غربت سے نیچے موت کی دہلیز پر بیٹھے لوگوں سے عملی ہمدردی نہیں ہے۔ اور انہی عوام کو ڈھال بنا کریہ لوگ اپنی اپنی لڑائی لڑ رہے ہیں۔ یہ وہ کیفیت ہے جسے پنجابی کی ایک کہاوت میں یوں بیان کیا گیا ہے:
روندی یاراں نوں لے لے ناں بھراواں دے
عوام کا نام لے لے کے کرسی سے محرومی کا ماتم کرنے والے اور اقتدار کی کرسیوں پر بیٹھ کر حکومت نہ کر سکنے والے اصل میں ایک ہی ہیں دو نہیں۔ ان کی شان میں ایک غزل پیش کر رہا ہوں:
غزل
بات نُکتے کی ہے جو یاد آئی
تو تماشا ہے میں تماشائی
تختِ غم پر ہوں میں سریر آرا
میری خلعت ہے میری رسوائی
چلتی پھرتی قبور کن کی ہیں
مجھ کو تقدیر کس جگہ لائی
سولہ صدیاں پرانے مذہب میں
اب نہ نکہت ہے اور نہ رعنائی
عشق کی مارکیٹ میں ہر سو
پھر رہی ہے برہنہ مہنگائی
یہ کرپشن کے اونچے اونچے پہاڑ
اُن کو لگتے ہیں دانہ ء رائی
ہے سیاست کی زال کا مسعود
ایک سے بڑھ کے ایک سودائی