چین اور امریکہ نئی سرد جنگ شروع کرنے سے گریز کریں: سیکرٹری جنرل اقوام متحدہ

  • منگل 21 / ستمبر / 2021
  • 4250

چین اور امریکہ کے درمیان سرد جنگ کے بارے میں خبردار کرتے ہوئے اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان تعلقات میں بہتری کی اشد ضرورت ہے۔ ان دو بڑی طاقتوں کے درمیان خراب تعلقات کے اثرات پوری دنیا پر پڑ سکتے ہیں۔

اقوام متحدہ کے سیکرٹری جنرل اینٹونیو گوئٹرس نے دی ایسوسی ایٹڈ کو انٹرویو دیتے ہوئے کہا کہ دنیا کی دو بڑی معاشی طاقتوں کو آب و ہوا کے بحران کو حل کرنے لیے تعاون کرنا چاہیے اور تجارت، ٹیکنالوجی، انسانی حقوق، آن لائن سیکیورٹی اور جنوبی بحیرہ چین کی خود مختاری جیسے مسائل پر آگے بڑھ کر سنجیدگی سے مذاکرات کرنا ہوں گے۔

اے پی سے انٹرویو میں گوئٹرس نے کہا کہ بد قسمتی سے اس وقت صرف تصادم کی فضا موجود ہے۔ ضرورت اس بات کی ہے کہ دونوں ملکوں کے درمیان قابلِ عمل تعلقات قائم ہوں۔ ان سپر طاقتوں کے علاوہ بین الاقوامی برادری کے درمیان تعمیری تعلقات کے بغیر بہت سے عالمی چیلنجز سے نمٹا نہیں جا سکتا۔

دو سال پہلے بھی عالمی لیڈروں کے سامنے سیکرٹری جنرل گوئٹرس نے چین اور امریکہ کے درمیان اختلافات کے نتیجے میں پیدا ہونے والے خطرے کی نشان دہی کی تھی۔ اے پی کے ساتھ اپنے اس تازہ انٹرویو میں انہوں نے اس بات کو دہراتے ہوئے کہا کہ دنیا اس کی وجہ سے دو حصّوں میں تقسیم ہو سکتی ہے۔

انہوں نے انتباہ کیا کہ جیو پولیٹکل ماحول اور فوجی حکمت عملی کے تناظر میں اس مخاصمت کو ختم کرنا ضروری ہے۔ ہر قیمت پر اس سرد جنگ سے بچنا ہو گا، کیوں کہ یہ ماضی سے مختلف ہو گی اور غالباً زیادہ ہی خطرناک ہو گی، جسے سنھالنا بہت مشکل ہو گا۔ اقوام متحدہ کے سربراہ نے کہا کہ نئی سرد جنگ پہلی کے مقابلے میں زیادہ تباہ کن ثابت ہو سکتی ہے۔  اس وقت سب کچھ غیر یقینی ہے۔ پہلی سرد جنگ میں دونوں فریقوں کو ایٹمی تباہ کاری کے خطرے کا ادراک تھا۔ فی الوقت بحران سے نمٹنے کا کسی کے پاس کوئی تجربہ نہیں ہے۔

عالمی رہنماؤں کو اس وقت دنیا کے تین بڑے مسئلوں کا سامنا ہے۔ ماحول کی بگڑتی ہوئی صورت حال، کرونا کی عالم گیر وبا اور طالبان کے تحت حکومت میں افغانستان کی غیر یقینی صورت حالل۔ افغانستان میں اقوام متحدہ کے کردار کا ذکر کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ باور کرنا خام خیالی ہو گا کہ اقوام متحدہ افغانستان کو یک دم مستحکم بنا دے یا وہاں پر کوئی ایسی حکومت بنوا سکے جس میں سبھی فریق شامل ہوں یا اس بات کی ضمانت دے کہ انسانی حقوق کا احترام کیا جائے گا یا وہاں کسی دہشت گرد کا وجود باقی نہ رہے۔

اقوام متحدہ کی محدود اہلیت ہے اور یہ افغانستان میں انسانی ہمدردی کی امداد بہم پہچانے میں ایک قائدانہ کردار ادا کر سکتا ہے۔ اقوام متحدہ طالبان کی توجہ سب کو ساتھ ملا کر حکومت کرنے، انسانی حقوق کے احترام، بالخصوص خواتین کے حقوق کی طرف طالبان کی توجہ مبذول کرا سکتا ہے۔

آب و ہوا کی تبدیلیوں اور اس کی وجہ سے پیدا ہونے والے عالمی بحران کے حوالے سے گوئٹرس نے کہا کہ بائیڈن انتظامیہ عالمی سطح پر اس مسئلے سے نمٹنے لیے آمادہ ہے اور امریکہ پیرس معاہدے میں دوبارہ شامل ہو گیا ہے۔ کرونا وبا  کے سلسلے میں اقوام متحدہ کے سربراہ کا کہنا تھا کہ اس بات کو یقینی بنانا ہو گا کہ دنیا کے ہر ملک کے ہر شہری کو ویکسین لگے اور اس کے لیے تمام ملکوں کو مل کر کام کرنا ہو گا۔