عمران خان ہمارے خیر خواہ ہیں، ان کے بیان افغانستان کے معامالت میں مداخلت نہیں: ذبیح اللہ مجاہد

  • منگل 21 / ستمبر / 2021
  • 7030

طالبان حکومت کے نائب وزیر اطلاعات ذبیح اللہ مجاہد نے کہا ہے کہ پاکستان اور ایران، افغانستان کے داخلی اُمور میں مداخلت نہیں کر رہے۔ ہم ملک کی بہتری کے لیے ان ممالک کے مشوروں کا خیر مقدم کرتے ہیں۔

کابل میں عبوری کابینہ میں توسیع کے اعلان کے سلسلے میں پریس کانفرنس سے خطاب کرتے ہوئے انہوں استحکام اور جامع افغان حکومت کے لیے وزیراعظم عمران خان کی کوششوں کو سراہا۔ ان کا کہنا تھا کہ طالبان نے افغانستان کے حوالے سے وزیر اعظم عمران خان کے مثبت بیانات کو اپنے اندرونی معاملات میں مداخلت کے طور پر نہیں دیکھا۔

ذبیح اللہ مجاہد نے افغانستان میں استحکام کے لیے پاکستان، قطر، چین کے فعال کردار کو تسلیم کیا اور اپنا کردار ادا کرنے کے خواہشمند دیگر ممالک کا خیرمقدم کیا۔

 برطانوی نشریاتی ادارے بی بی سی کی اردو سروس کے مطابق ترجمان طالبان کا مزید کہنا تھا کہ سفارتی سطح پر ایسے ادارے موجود ہیں جو چاہتے ہیں کہ افغانستان میں امن قائم ہو اور اور وہ اس حق میں نہیں ہیں کہ کہ ہمارے داخلی کاموں میں مداخلت کریں یا داخلی سطح پر رکاوٹیں پیدا کریں۔ بلکہ یہ ممالک خیر خواہ ہیں۔

خیال رہے کہ چند روز قبل وزیر اعظم عمران خان نے ایک بیان میں کہا تھا کہ انہوں نے افغانستان میں مختلف برادریوں کی نمائندگی کرنے والی جامع حکومت کے قیام کے لیے طالبان سے مذاکرات کا آغاز کیا ہے۔

اس دوران طالبان نے عبوری کابینہ میں توسیع کا اعلان کیا ہے۔ بین الاقوامی تنقید کے باجود کسی خاتون کو کابینہ میں شامل نہیں کیا گیا۔ عالمی برادری نے خبردار کیا تھا کہ وہ طالبان کو ان کے اقدامات سے پرکھے گی اور طالبان حکومت کو تسلیم کرنے کا فیصلہ ان کے خواتین اور اقلیتوں کے ساتھ روا رکھے گئے سلوک سے منسلک ہوگا۔

طالبان حکومت کے ترجمان ذبیح اللہ مجاہد نے منگل کے روز کی جانے والی پریس کانفرنس میں کابینہ میں اضافہ کا دفاع کرتے ہوئے کہا کہ اس میں نسلی اقلیتوں مثلاً ہزارہ کے اراکین بھی شامل ہیں اور ہوسکتا ہے بعد میں خواتین کو بھی شامل کرلیا جائے۔

ان کا کہنا تھا کہ اقوامِ متحدہ کی ذمہ داری ہے کہ ہماری حکومت کو تسلیم کرے اور دیگر ممالک بشمول یورپی، ایشیائی اور مسلمان ممالک ہم سے سفارتی تعلقات قائم کریں۔ طالبان نے اپنی موجودہ کابینہ کو عبوری حکومت قرار دیا ہے جس کے مطلب یہ ہے کہ اس میں تبدیلی اب بھی ممکن ہے لیکن یہ نہیں بتایا کہ کیا کبھی انتخابات کروائے جائیں گے۔

ذبیح اللہ مجاہد سے خواتین اور لڑکیوں پر نافذ حالیہ پابندیوں کے بارے میں سوال کیا گیا جس میں چھٹی سے 12ویں جماعت کی طالبات کو فی الوقت اسکول جانے کی اجازت نہ دینا شامل ہے۔ انہوں نے کہا کہ یہ عارضی فیصلہ ہے۔ اس بات کا اعلان جلد کیا جائے گا کہ وہ کب اسکول جاسکتی ہیں۔ انہیں اسکولز جانے کی اجازت دینے کے لیے منصوبہ تیار کیا جارہا ہے تاہم اس کی مزید وضاحت نہیں کی۔

ترجمان طالبان حکومت نے وزارت امور خواتین کے بارے میں بھی کوئی بات نہیں کی جسے گزشتہ ہفتے وزارت امر بالمعروف و نہی عن المنکر میں تبدیل کردیا گیا تھا یعنی نیکی کا حکم، دینا اور برائی سے روکنا۔

کابینہ میں مزید شمولیت کا اعلان کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ یہ عہدے امارات کے کام کرنے کے لیے اہم ہیں۔

سرکاری ملازمین کو کئی ماہ سے تنخواہوں کی عدم ادائیگی اور مہنگائی پر ذبیح اللہ مجاہد نے کہا کہ ہمارے پاس فنڈز موجود ہیں لیکن ان پر کام کرنے کے لیے وقت درکار ہے۔ طلوع نیوز کے مطابق ملک کی معاشی صورتحال کے حوالے سے ان کا کہنا تھا کہ مقامی ریونیو بنیادی ضروریات پوری کرنے کے لیے کافی ہے لیکن ہم افغان اثاثوں کو غیر منجمد کرنے کے لیے تمام سفارتی ذرائع استعمال کررہے ہیں۔

میڈیا کے بارے میں بات کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ میڈیا اہم ہے اور ہم اس کی حمایت کرتے ہیں، صوبوں میں کچھ مسائل ہیں جنہیں دور کیا جارہا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ کابل ایئرپورٹ کے مرکزی ریڈار کو بری طرح نقصان پہنچایا گیا ہے جس کی مرمت کے بعد بین الاقوامی کمرشل پروازیں بحال ہوجائیں گی۔