طالبان کی حکومت تسلیم کرنے کی جلدی نہیں ہے: شاہ محمود قریشی
- منگل 21 / ستمبر / 2021
- 5940
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ اگر طالبان چاہتے ہیں کہ انہیں تسلیم کیا جائے اور جنگ زدہ ملک کی تعمیر نو میں مدد کی جائے تو انہیں حساس اور بین الاقوامی رائے و اصولوں کو کھلے دل سے قبول کرنا ہوگا۔
شاہ محمود قریشی اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس میں شرکت کے لیے نیویارک میں موجود ہیں۔ انہوں نے کہا کہ دنیا دیکھ رہی ہے کہ افغانستان میں حالات کس طرح تبدیل ہوتے ہیں۔ میڈیا سے بات کرتے ہوئےان کا کہنا تھا کہ 'میں نہیں سمجھتا کہ اس موقع پر کسی کو بھی تسلیم کرنے کی جلدی ہے اور طالبان کو اس پر نظر رکھنی چاہیے'۔
وزیر خارجہ نے کہا کہ پاکستان کا مقصد افغانستان میں امن و استحکام ہے۔ اوراس کے لئے انہیں حکومت میں سب کو شامل کرنا ہوگا۔ ابتدائی بیانات سے یہ اشارہ ملتا ہے کہ وہ اس خیال کے مخالف نہیں ہیں، لہٰذا دیکھتے ہیں کیا ہوتا ہے۔
شاہ محمود قریشی نے اُمید ظاہر کی کہ افغان طالبان اپنے وعدے کو پورا کریں گے اور لڑکیوں و خواتین کو اسکول، کالجز اور جامعات جانے کی اجازت دی جائے گی۔ انہوں نے امریکا اور دیگر ممالک پر زور دیا کہ وہ سابق افغانستان کی منجمد رقم جاری کریں کیونکہ یہ افغان عوام کا پیسہ ہے جو ان پر خرچ ہونا چاہیے۔
انہوں نے کہا کہ فوری ترجیح افغانستان کے معاشی بحران کو روکنا ہے جس سے انسانی بحران جنم لے سکتا ہے۔ ان کا کہنا تھا کہ اثاثے منجمد کرنے سے صورتحال کو بہتر بنانے میں مدد نہیں ملے گی۔ میں عالمی طاقتوں پر زور دوں گا کہ وہ اس پالیسی پر نظرثانی کریں اور اثاثے بحال کریں۔
انہوں نے کہا کہ یہ اقدام اعتماد سازی بھی کرے گا اور مثبت رویے کے لیے حوصلہ افزائی ہوگی۔ واضح رہے کہ امریکا نے افغانستان کی مرکزی بینک کے ساڑھے 9 ارب ڈالر منجمد کر دیے تھے جبکہ بین الاقوامی قرض دہندگان نے بھی فنڈز فراہم کرنے سے انکار کر دیا۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی منگل کو علی الصبح پانچ روزہ دورے پر نیویارک پہنچے تھے۔ دفتر خارجہ کے بیان میں کہا گیا کہ وزیر خارجہ نیویارک میں قیام کے دوران، اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے اجلاس میں شرکت کے لیے آنے والے مختلف ممالک کے وزرائے خارجہ سے ملاقاتیں کریں گے۔