کرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھانے والے ووٹنگ مشین کی مخالفت کررہے ہیں: وزیراعظم
- بدھ 22 / ستمبر / 2021
- 4350
وزیراعظم عمران خان نے کہا ہے کہ ہم الیکٹرانک ووٹنگ مشینز کی صورت میں ایسا سسٹم لے کر آرہے ہیں جو پاکستان کے مسائل حل کردے گا۔
ملک میں 1970 کے بعد ہر انتخابات میں جو ہارتا ہے وہ دھاندلی کا نعرہ لگاتا ہے اب یہ مسئلہ حل ہونا چاہئے۔ اب جو لوگ الیکٹرانک ووٹنگ کی مخالفت کررہے ہیں جو کرپٹ نظام سے فائدہ حاصل کررہے ہیں۔
وفاقی وزرا کے ساتھ کارکردگی کے معاہدوں پر دستخط کرنے کی تقریب سے خطاب کرتے ہوئے عمران خان نے کہا کہ ہمارے لیے بہترین موقع اس لیے ہے کہ ہم تمام مافیاز کے سامنے کھڑے ہیں۔ اس ملک میں جو طبقہ تبدیلی نہیں چاہتا وہ مخالفت کررہا ہے اس سے زیادہ کیا چیز ہوسکتی ہے کہ الیکٹرانک مشینوں کی مخالفت کررہے ہیں۔
انہوں نے کہا کہ ای وی ایمز سے ہمیں کیا فائدہ ہے؟ آج تک ہر انتخابات متنازع ہوتے ہیں حتیٰ کے سینیٹ کے انتخابات جہاں تقریباً صرف 1500 ووٹس پڑتے ہیں وہ بھی متنازع ہوجاتے ہیں لیکن آج تک آنے والی حکومتوں نے یہ نہیں بتایا کہ اسے کس طرح ٹھیک کرنا ہے۔
کیا یہ سلسلہ اسی طرح چلتا رہے گا، باقی دنیا میں انتخابات پر شور کیوں نہیں مچتا۔ پہلی مرتبہ امریکا میں شور اٹھتا دیکھا لیکن سسٹم اتنا ٹھیک ہے کہ وہ بھی ختم ہوگیا۔ ان کا کہنا تھا کہ یہ کسی کو فائدہ نہیں پہنچا سکتا، یہ سادی سی چیز ہے الیکشن ہوا، بٹن دبایا اور نتیجہ آگیا۔ جبکہ ہمارے ہاں سارے مسائل پولنگ ختم ہونے کے بعد سامنے آتے ہیں لیکن اگر لوگ اس کی مخالفت کررہے ہیں تو سمجھیں کہ یہ ہمارے لیے کتنا بڑا چیلنج ہے۔
انہوں نے کہا کہ کون ہے جو اس ملک کو تبدیل نہیں ہونے دیتا۔ یہ کچھ لوگ ہیں جن کا ذاتی مفاد ہے جو کرپٹ سسٹم سے فائدہ اٹھاتے ہیں اور وہ ہمارے سب سے بڑے دشمن ہیں۔ حکومت کے آخری 2 سال ہمارے لیے انتہائی اہم ہیں۔ پہلا سال تو ہم نے سروائیو کیا، دوسرے سال میں کورونا آگیا اور معیشت کو سنبھالا۔ میں نہیں سمجھتا کہ ہم نے ٹھیک طریقے سے اس کا کریڈٹ لیا ہے۔ ہم بہت مشکل وقت سے نکل کر یہاں آئے ہیں۔ وزیراعظم نے کہا کہ اب اگر اس سال محنت کرلیں تو اس مقام پر پہنچ جائیں گے کہ اراکین اسمبلی کو دیے گئے ترقیاتی فنڈز نہیں بلکہ ہم حکومت کی کارکردگی کی بنیاد پر انتخابات جیتیں گے۔ اصل معرکہ پنجاب کا ہے لوگ یہ نہیں دیکھیں گے کہ ہم نے کتنی تبدیلیاں کیں، سب یہ یاد رکھیں گے کہ 5 سال میں آپ نے نتائج دیے یا نہیں دیے، گورننس سسٹم بہتر کیا؟
2018 میں حکومت ملنے کے بعد جتنا میں نے ان 3 برسوں میں سیکھا ہے زندگی میں کبھی اتنے کم وقت میں اتنا زیادہ نہیں سیکھا کیوں کہ سب سے زیادہ مشکل وقت یہ تھا۔ انہوں نے کہا کہ انسان کا امتحان ہی مشکل وقت میں ہوتا ہے، میں نے مشکل وقت میں پوری کابینہ کو دیکھا ہوا ہے اور تمام وزرا کو چیک کر رکھا ہے کہ مشکل پڑنے پر کس پوائنٹ پر کون کب گھبرا جاتا ہے۔ لیکن جتنا آپ مشکل وقت کا سامنا کرتے ہیں آپ کی مشکلات کا سامنا کرنے کی صلاحیت بڑھ جاتی ہے۔
وزیراعظم نے کہا کہ کوئی بھی پیدائشی عظیم آدمی نہیں ہوتا۔ لوگ مشکلات، مخالفت، ناکامیوں کا سامنا کر نے کے بعد سیکھ کر عظیم بنتے ہیں۔ بہت ضروری تھا کہ حکومت کے آخری 2 برسوں میں ہم اپنے آپ کو متحرک کریں، واضح اہداف مقرر کریں اور انہیں پانے کے لیے سہ ماہی بنیادوں پر اس کی نگرانی کریں۔
ان کا کہنا تھا کہ کابینہ میری ٹیم ہے اس سے پہلے کرکٹ کی ٹیم تھی جس میں مجھے بہت دلچسپ تجربہ ہوا۔ میں نے 2 طرح کے کھلاڑی دیکھے ایک وہ جو بہت ٹیلنٹڈ تھے لیکن زیادہ کامیاب نہیں ہوتے تھے اور ٹیم میں آکر وہیں رہ جاتے تھے کیوں کہ ان کا مقصد صرف ٹیم میں آنا تھا۔ میں نے اپنی زندگی میں ان کھلاڑیوں کو کامیاب ہوتے دیکھا ہے جن میں ٹیلنٹ زیادہ نہیں ہوتا تھا لیکن ان کا جذبہ بڑا ہوتا تھا وہ اپنے آپ کو متحرک رکھتے تھے، نئی نئی چیزیں سوچ رہے ہوتے تھے۔
ان کا کہنا تھا کہ ٹیم وہ کامیاب ہوتی تھی جو ہر وقت اپنا جائزہ لیتی رہتی تھی، اچھی ٹیمیں ہارنے کے بعد اپنا جائزہ لیتی تھیں لیکن عظیم ٹیمیں جیت کے بعد اپنا جائزہ لیتی تھیں۔ انہوں نے کہا کہ میری زندگی کا تجربہ یہ ہے کہ جب تک آپ خود ہار نہیں مانتے، شکست آپ کو ہرا نہی سکتی۔