افغان حکومت کو تسلیم کرنے کے لئے عالمی برادری روڈ میپ تیار کرے: شاہ محمود قریشی
- جمعرات 23 / ستمبر / 2021
- 5760
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی کا کہنا ہے کہ پاکستان حقیقت پسندی اور صبر کا مظاہرہ کر رہا ہے۔ اور ہمسایہ ملک افغانستان کو مکمل طور سے تنہا نہ کرنے کی حکمت عملی پر عمل کررہا ہے۔
وزیر خارجہ شاہ محمود قریشی نے بدھ کے روز اقوام متحدہ میں عالمی رہنماؤں کے اجلاس کے موقع پر ایسوسی ایٹڈ پریس کو انٹرویو دیتے ہوئے اس خیال کا اظہار کیا۔ انہوں نے کہا کہ پاکستان نے تجویز دی ہے کہ بین الاقوامی برادری ایک روڈ میپ تیار کرے جو افغان طالبان کی سفارتی پہچان کا باعث بنے۔ اس میں ان کی ضروریات کو پورا کرنے کے لیے مراعات ہوں اور پھر آمنے سامنے بیٹھ کر گروپ کے رہنماؤں سے بات کریں۔
وزیر خارجہ نے بتایا کہ اگر وہ ان توقعات پر پورا اترتے ہیں تو وہ اپنے لیے آسانی پیدا کریں گے۔ انہیں تسلیم کیا جائے گا جو پہچان کے لیے ضروری ہے۔ اس دوران بین الاقوامی برادری کو بھی یہ سمجھنا ہوگا کہ متبادل کیا ہے؟ اختیارات کیا ہیں؟ یہ حقیقت ہے اور کیا وہ اس حقیقت سے منہ موڑ سکتے ہیں؟
انہوں نے کہا کہ پاکستان ایک پرامن، مستحکم افغانستان دیکھنا چاہتا ہے جس میں دہشت گرد عناصر کے قدم جمانے کی گنجائش نہ ہو اور طالبان اس بات کو یقینی بنائیں کہ افغان سرزمین دوبارہ کسی ملک کے خلاف استعمال نہ ہو۔ ہم کہہ رہے ہیں اپنے نقطہ نظر زیادہ حقیقت پسندانہ بنائیں۔ ان کے ساتھ مشغول ہونے کا ایک جدید طریقہ آزمائیں، جس طرح سے ان کے ساتھ نمٹا گیا تھا وہ اب کام نہیں کر رہا ہے۔
انہوں نے کہا افغان حکومت کو کئی دہائیوں کی جنگ کے بعد اب بحالی میں مدد کے لیے ترقی، معاشی اور تعمیر نو کی امداد حاصل کر کے حوصلہ افزائی کی جاسکتی ہے۔ وزیر خارجہ نے امریکا، بین الاقوامی مالیاتی فنڈ اور دیگر ممالک پر زور دیا کہ فوری طور پر رقم جاری کی جائے تاکہ افغانستان میں معاملات عمومی طور پر چل سکیں۔ انہوں نے اس عزم کا اظہار کیا کہ پاکستان، طالبان کے ساتھ مواصلاتی چینلز کھولنے میں تعمیری، مثبت کردار ادا کرنے کے لیے تیار ہے کیونکہ یہ بھی امن اور استحکام سے فائدہ اٹھاتا ہے۔
انہوں نے کہا کہ اچھی خبر یہ ہے کہ طالبان سن رہے ہیں اور وہ پڑوسیوں اور عالمی برادری کی جانب سے کہی جانے والی باتوں سے منہ نہیں موڑ رہے۔ جب سوال کیا گیا کہ کیسے معلوم ہے کہ وہ سن رہے ہیں تو ان کا کہنا تھا کہ عبوری حکومت جو زیادہ تر افغانستان کے غالب پشتون نسلی گروہ پر مشتمل ہے، نے منگل کو کچھ تبدیلیاں کیں اور اس میں ملک کی نسلی اقلیتوں، تاجک، ازبک اور ہزارہ کے نمائندوں کو شامل کیا گیا۔
انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ طالبان کو آنے والے دنوں اور ہفتوں میں ایسے فیصلے کرنے چاہئیں جس سے ان کو تسلیم کیے جانے میں آسانی ہو۔ شاہ محمود قریشی نے کہا کہ بین الاقوامی برادری میرے خیال میں ایک ساتھ بیٹھ کر ایک روڈ میپ تیار کر سکتی ہے اور اگر وہ ان توقعات پر پورا اترتے ہیں تو عالمی برادری ان کی معیشت کو مستحکم کرنے میں ان کی مدد کر سکتی ہے۔
واضح رہے کہ گزشتہ روز اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل انتونیو گوتریس نے اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کے پانچ مستقل ارکان کے اجلاس کے بعد کہا تھا کہ پانچوں ممالک امریکا، چین، برطانیہ، روس اور فرانس، افغانستان میں امن و استحکام چاہتے ہیں جہاں انسانی امداد بغیر مسائل اور امتیاز کے تقسیم کی جا سکے۔ شاہ محمود قریشی نے چیزیں مستحکم ہو رہی ہیں۔ 15 اگست کو طالبان کے اقتدار پر قبضے کے چھ ہفتوں سے بھی کم عرصے بعد پاکستان کو یہ اطلاع ملی ہے کہ امن و امان کی صورتحال بہتر ہوئی ہے، لڑائی بند ہو گئی ہے اور بہت سے اندرونی بے گھر افغان اپنے گھر جا رہے ہیں۔ وزیر خارجہ کا کہنا تھا کہ یہ ایک مثبت علامت ہے۔
ان سے سوال کیا گیا کہ 6 ماہ میں افغانستان کو کہاں دیکھتے ہیں تو انہوں نے انٹرویو لینے والے سے سوال کیا کہ کیا آپ مجھے اگلے چھ مہینوں میں امریکی رویے کی ضمانت دے سکتے ہیں۔