دنیا ہمیں دو رُخا کیوں خیال کرتی ہے ؟

ہمارے میڈیا میں ان دنوں کرکٹ کے حوالے سے خاصا رولا سنائی دے رہا ہے اور بات کرکٹ سے عالمی سیاست یا سازش تک پہنچائی جا رہی ہے ہمارے ایک منسٹر نے جو انفارمیشن جاری فرمائی ہے اس کے مطابق یہ وہ قیمت جو  ’ہرگز نہیں‘ کہنے کی وجہ سے چکانی پڑ رہی ہے ۔

اب اگر حقائق کی روشنی میں اس نوع کے دعوؤں کا پوسٹ مارٹم کیا جائے تو سوائے ڈرامے بازی اور سستی شہرت کے کچھ نہیں ملے گا۔ اپنے گھر بیٹھے جو کہانیاں مرضی گھڑتے رہیں اور جیسی بیان بازی چاہیں کریں کسی نے آپ کا منہ تو نہیں پکڑنا ہے ۔ اردو محاورہ ہے ناچ نہ جانے آنگن ٹیڑھا۔ کسی بھی نااہل ، اناڑی یا نکمے شخص سے جب صلاحیت کے فقدان کی وجہ سے اپنا اصل کام نہیں ہو پاتا تو پھر وہ ادھر اُدھر کی ہانکتے ہوئے دوسروں پر الزام تراشیاں شروع کرنے میں عافیت دیکھتا ہے۔ یوں اسے اپنی نااہلی کا جواز بنا کر پیش کرتا ہے اس جواز کی بھی حقائق کی کسوٹی پر پرکھ کریں تو بات ہماری خارجہ پالیسی کی کج روی پر چلی جائے گی۔ کس نے ہمیں کہا تھا ایسی غیر منطقی و منافرت بھری خارجہ پالیسی بنانے کو جس سے دنیا ہمیں دوغلا اور مشکوک کردار کا حامل سمجھے؟

بڑی بڑی ہانکنے سے کوئی انسان بڑا نہیں بن جاتا اور نہ اکڑ فوں دکھانے سے طاقتور گردانا جا سکتا ہے۔ دوسروں کو چور چور کہنا بڑا آسان ہے مگر جب معاملہ خود پر آیا تو چوری ہی نہیں سینہ زور اور ڈھٹائی کے ریکارڈ قائم کر دیے۔ اور تو اور قومی توشا خانے کو بھی نہیں بخشا گیا۔ سلائی مشینوں سے شروع ہونے والی بات قومی توشا خانے میں کروڑوں اربوں تک پہنچی تو کہا گیا کہ یہ تو قومی وقار اور راز کا معاملہ ہے، اس کی تفصیلات فراہم نہیں کی جا سکتیں۔ واہ سبحان اللہ۔ ایک طرف لمبی چوڑی بڑھکیں ہیں دوسری طرف فونوں کے رونے ہیں ۔ کبھی کہا جاتا ہے کہ ہماری اتنی اچھائیوں کے باوجود انڈین وزیر اعظم نریندرا مودی ہماری کال تک نہیں سنتا۔ کبھی اس دکھ کا اظہار کیا جاتا ہے کہ ہماری اتنی قربانیوں کے باوجود جوبائیڈن ہمیں ایک کال کے قابل بھی نہیں سمجھتا۔ اگر بائیڈن نے ہمیں کال نہ کی تو ہمارے پاس دیگر بہت سے آپشنز بھی ہیں ۔وہ آپشنز کیا ہیں ؟ ذرا ان کی بھی وضاحت ہو جاتی تو آپ کے دل کا غبار شاید ذرا کم ہو جاتا۔

یہ کہ بابا جی کنویں میں گرے ہیں اگر نہ نکالا تو بابا جی کہیں منہ کر جائیں گے۔ سوچنے والی بات ہے کہ اگر ہر دو شخصیات سے خوش قسمتی کے ساتھ کالیں مل بھی جاتیں تو پاکستان کے کون سے مسائل ہیں جو آپ نے حل کروا لینے تھے۔ کیا ڈالر کی اڑان نے نیچے آ جانا تھا یا مہنگائی کے ہاتھوں غریب کی جو کمر ٹیڑھی ہو گئی ہے وہ سیدھی ہو جانی تھی ؟ چلیں ان ہر دو لیڈران سے کال نہیں مل سکی مگر نیوزی لینڈ کی خاتون وزیر اعظم جس کی شان میں کچھ ہی عرصہ قبل قصیدے پڑھے جا رہے تھے، بہت بڑی بات ہے کہ ان کے من میں ابھی رحم کی چنگاری موجود ہے وہ مودی و بائیڈن کی طرح ظالم یا سنگ دل نہیں ہیں۔ انہوں نے اتنی دیر تک آپ کی باتیں سنیں جب تک آپ بولتے رہے۔ بلاشبہ آپ اس کھیل کے عالمی کنگ کہلاتے ہیں، اس وجہ سے مہربانوں نے آپ کو اس سنگھاسن پربٹھا رکھا ہے۔ لیکن کتنے افسوس کی بات ہے کہ آپ اس رحم دل خاتون کو اتنی بات بھی نہ سمجھا سکے کہ جتنی بڑی آپ کی فوج ہے اس سے زیادہ فورس ہم نے تمہارے کھلاڑیوں کی حفاظت پر متعین کر رکھی ہے۔ اب اس پر کس کو مطعون کیا جائے اپنے آپ کو یا غیروں کو؟

لمبی لمبی چھوڑنے سے اگر کبھی فرصت ملے تو گریبان میں جھانکتے ہوئے ہمیں اتنا غور ضرور کرنا چاہئے کہ دنیا آخر ہمی کو اس قدر سیکورٹی تھریٹ کیوں سمجھتی ہے؟ بشمول امریکہ مہذب دنیا ہمیں دوغلا کیوں خیال کرتی ہے ؟ ہم دنیا کو مطمئن کرنے کیلئے کیا کیا جتن نہیں کر رہے ہیں، اس کے باوجود ہمیں شدت پسندی کی مشکوک فہرست سے کیوں نہیں نکالا جا رہا ہے؟ دوسرے قابل احترام ممالک کی طرح ہمیں ایک نارمل ریاست کیوں نہیں مانا جاتا ؟ آج ہم نیو یارک میں جاکر پوری دنیا بالخصوص امریکا کو یہ کہہ رہے ہیں کہ اس نازک موڑ پر طالبان کو تنہا نہ چھوڑا جائے، ان کے منجمد اثاثے بحال کیے جائیں تو لازمی بات ہے دنیا یا عالمی سپر پاور ہمیں طالبان کے پشت پناہ یا سہولت کار کی حیثیت سے دیکھے گی اور ہم سے یہ تقاضا کرنے میں بھی حق بجانب ہوگی کہ طالبان افغان سوسائٹی میں جو بے اعتدالیاں کرتے ہیں۔ آئین، قانون، جمہوریت، انسانی حقوق اور آزادیوں کواپنے پاؤں تلے روندتے ہیں، اقلیتوں اور خواتین پر جو مظالم ڈھاتے ہیں، پاکستان جب ان کا اتنا بڑا ہمدرد او رپشت پناہ ہے تو نہ صرف انہیں ان زیادتیوں سے روکے بلکہ اپنے عہد کی پاسداری پر مجبور کرے۔ اس پر جب ہم منہ لٹکا کر یہ کہتے ہیں کہ حضور طالبان پر ہمارا اتنا اثر نہیں ہے تو کیا دنیا ہمیں دو رخا خیال نہیں کرے گی ؟

طالبان جس طرح آئین، قانون، جمہوریت یا طے شدہ معاہدے کو روندتے ہوئے بندوق کے زور پر برسراقتدار آئے ہیں اس پر ہماری سب سے بڑی حکومتی ذمہ داری پر براجمان شخص یہ کہے کہ طالبان نے غلامی کی زنجیریں توڑ دی ہیں تو دنیا ہمارے کردار کو شک بھری نظروں سے کیوں نہیں دیکھے گی؟ دنیا میں کیا کوئی ایک بھی ایسا ملک ہے جو بن لادن کو عالمی دہشت گرد نہ مانتا ہو؟ اس کی حوالگی کے مسئلے پر نائن الیون کے بعد طالبان کی پہلی حکومت کا خاتمہ ہوا تھا۔ بشمول سعودی عرب پوری مسلم ورلڈ بن لادن کی دہشت گردی پر یک زبان ہے مگر ہماری ہینڈسم قیادت پارلیمینٹ کے فلور پر اسے شہید قرار دیتے ہوئے ذرا نہیں شرماتی۔

اس کے ساتھ ہی جب ہم دعویٰ کرتے ہیں کہ ہم دہشت گردی کے خلاف امریکہ اور عالمی برادری کے اتحادی ہیں تو دنیا ہمیں کیوں دوغلا یا دورخا خیال نہیں کرے گی ؟ جب عالمی دہشت گرد کو پوری دنیا میں تلاش کیا جا رہا تھا کہ وہ کہاں چھپا بیٹھا ہے اسے زمین کھا گئی یا آسمان نے اچک لیا، عین اس وقت وہ کہاں تھا؟ کس کی حفاظتی پناہ میں تھا اور بالآخر کہاں سے برآمد ہوا؟ اگر ایک پختون ڈاکٹر نے خالص انسانی و اخلاقی ذمہ داری کے تحت دہشت گرد کی تلاش میں امریکا یا مہذب دنیا بلکہ اس کی زخم خوردہ دکھی انسانیت کی معاونت کی تو یہ ایسا کونسا جرم تھا جس کی پاداش میں آپ نے ڈاکٹر شکیل آفریدی کو گزشتہ طویل برسوں سے جیل میں ڈال رکھا ہے۔ اس تاریخی انسانی کارنامے پر تو ڈاکٹر صاحب کو نشان امتیاز ملنا بنتا تھا مگر آپ اسے  طرح طرح کی اذیتیں دے رہے ہیں ۔ کیا امریکی و یورپی عوام ہماری اس غیر انسانی حرکت سے بے خبر ہیں؟ جب وہ سب ہمارا یہ دوغلا رویہ دیکھیں گے کہ ایک طرف خود کو دہشت گردی کے خلاف چیمپئن قرار دلوانے کیلئے ایڑی چوٹی کا زور لگاتے ہیں، دوسری طرف ہماری انٹیلی جنس کا سربراہ شدت پسند سٹوڈنٹس کی حکومت سازی میں معاونت کیلئے کابل میں سرگرمیاں دکھا رہا ہوتا ہے تو اس پر تعلیم یافتہ مہذب دنیا ہمیں دو رخا کیوں خیال نہ کرے گی؟

جی چاہ رہا ہے یہاں اپنی کھوکھلی و منافقانہ خارجہ پالیسی کا پوسٹ مارٹم کرتے ہوئے انڈیا اور کشمیری ٹنٹے پر بھی بات کی جائے مگر فی الحال اتنے پر اکتفا کرتے ہوئے اپنے ذمہ داران کی خدمت میں التماس ہے کہ اس ملک اور اس میں بسنے والے کروڑوں انسانوں پر رحم فرمائیں۔ وہ عزت سکون اور خوشحالی کی زندگی کے خواستگار ہیں، وہ آپ کی ان نظریاتی تنگناؤں اور گھٹیا سٹریٹیجی سے جان بخشی چاہتے ہیں۔ وہ دنیا میں امن و سلامتی اور ترقی کے آرزو مند ہیں۔ وہ بشمول انڈیا تمام اقوام سے منافرتوں اور دشمنیوں کا خاتمہ چاہتے ہیں۔ وہ جیو اور جینے دو کے اصول پر عمل پیرا ہونا چاہتے ہیں۔ براہ کرم آپ ان کے دکھوں کا ادراک کرتے ہوئے معصوم عوام کی جان بخشی فرما دیں۔