بھارت کی طرف سے پاکستان پر مقبوضہ کشمیر میں دراندازی کے نئے الزامات

  • جمعہ 24 / ستمبر / 2021
  • 5640

بھارتی حکام نے دعویٰ کیا ہے کہ ایل او سی پر تازہ ترین در اندازی کرنے والے 3 عسکریت پسند ہلاک کئے گئے ہیں۔

بھارتی فوج کے ایک اعلیٰ عہدے دار نے کہا ہے کہ اوڑی سیکٹر میں گزشتہ چھ روز کے دوران پیش آنے والا در اندازی کا یہ دوسرا واقعہ تھا۔ بھارت اور پاکستان کے درمیان نومبر 2003 میں ہونے والے فائر بندی کے سمجھوتے کی رواں برس فروری میں تجدید کے بعد ایل او سی پر پیش آنے والا یہ اپنی نوعیت کا تیسرا بڑا واقعہ ہے۔

بھارتی فوج اور مقامی پولیس ذرائع کے مطابق 18 ستمبر کو پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے مبینہ طور پر بھارت کے زیرِ انتظام کشمیر میں داخل ہونے والے مشتبہ عسکریت پسندوں کی تلاش جاری ہے۔ بھارتی فوج کی پندرہویں کور کے کمانڈر لیفٹننٹ جنرل دیوندر پرتاپ پانڈے نے نامہ نگاروں کو بتایا کہ گزشتہ سات ماہ کے دوران در اندازی کا پہلا بڑا واقعہ ضلع بانڈی پور میں پیش آیا تھا۔ لیکن اس گروپ میں شامل تمام عسکریت پسندوں کو ہلاک کر دیا گیا تھا۔

کور کمانڈر نے اعلیٰ پولیس عہدے دار انسپکٹر جنرل وجے کمار کے ہمراہ جمعرات کو پریس کانفرنس کے دوران بتایا کہ حالیہ واقعے میں تاحال تین عسکریت پسندوں کو ہلاک کیا جاچکا ہے جنہیں ضلع بارہمولہ کے گھنے جنگلات سے گھرے ہتھلنگا علاقے میں سیکیورٹی فورسز نے گھیر لیا تھا۔

سرینگر میں پریس کانفرنس کرتے ہوئے لیفٹننٹ جنرل پانڈے اور انسپکٹر جنرل پولیس کمار نے بتایا کہ جمعرات کو در اندازوں کے خلاف کیے گئے آپریشن کے دوران پانچ اے کے 47 بندوقیں، سات پستول، 38 چینی اور سات پاکستانی ساختہ دستی بم، دو انڈر بیرل گرنیڈ لانچر اور 24 گرنیڈ برآمد کیے گئے ہیں۔ اس کے علاوہ کھانے پینے کا سامان اور پاکستانی کرنسی کے 35 ہزار روپے بھی برآمد ہوئے ہیں۔

تا حال ہلاک ہونے والے عسکریت پسندوں میں سے صرف ایک کی شناخت ہو سکی ہے جو پاکستانی شہری ہے۔ ان کے مطابق پاکستان کے زیرِ انتظام کشمیر سے 18 ستمبر کو در اندازی کرنے والے عسکریت پسندوں کے ساتھ فائرنگ کے ابتدائی تبادلے میں ایک بھارتی فوجی زخمی ہوا تھا۔

اس سوال پر کہ کیا مبینہ در اندازی کے تازہ واقعے کا افغانستان یا طالبان کے ساتھ کوئی تعلق نظر آتا ہے؟ ان کا کہنا تھا کہ بھارتی فوج پوری طرح چوکس ہے۔ ہمیں اندازہ تھا کہ ستمبر میں پاکستان کے رویے میں تبدیلی آسکتی ہے اور ستمبر کے مہینے میں یا موسمِ سرما کی آمد سے پہلے ایل او سی پر دراندازی ہوسکتی ہے۔

اس سے پہلے لیفٹننٹ جنرل پانڈے نے نامہ نگاروں کو بتایا تھا کہ رواں برس فروری کے آخری ہفتے کے بعد ایل او سی پر پاکستانی فوج کی طرف سے فائر بندی کے سمجھوتے کی کوئی خلاف ورزی نہیں ہوئی۔ اس دوران اگرچہ عسکریت پسندوں کی طرف سے در اندازی کی کوششیں ہوتی رہیں لیکن وہ کامیاب نہیں ہوسکیں کیوں کہ انہیں ماضی کے برعکس پاکستانی فوج کی طرف سے فائرنگ کور فراہم نہیں کیا گیا تھا۔

پاکستان، بھارت کی جانب سے عائد کیے گئے دراندازی کے الزامات کی تردید کرتا رہا ہے۔

واضح رہے کہ فروری کے آخری ہفتے میں بھارت اور پاکستان کے ڈائریکٹر جنرلز آف ملٹری آپریشنز نے اچانک اور غیر متوقع طور پر ایک مشترکہ بیان جاری کیا تھا۔ اس بیان میں کہا گیا تھا کہ دونوں ملکوں کی افواج باہمی معاہدوں کی پاسداری کرتے ہوئے سرحدوں پر فائر بندی کے سمجھوتے پر سختی سے عمل درآمد کریں گی۔

جمعرات کو رات گئے بھارتی فوج نے سری نگر میں ایک بیان جاری کیا جس میں کہا گیا ہے اس قدر بھاری اسلحے سے لیس گروپ کی طرف سے در اندازی کرنا مقامی پاکستانی فوجی کمانڈروں کی ملی بھگت کے بغیر ممکن نہیں۔ بیان میں کہا گیا ہے کہ وادی کشمیر میں تشدد کی سطح کم ہے۔ در اندازی کی کوشش پاکستان کی طرف سے کراس بارڈر دہشت گردی کو برقرار رکھنے اور وادی میں اسلحے کی ترسیل سے پُر تشدد واقعات کی منصوبہ بندی کرنے کی کوششوں کا عندیہ ہے۔

واضح رہے کہ پاکستان بھارت کی جانب سے عائد کیے جانے والے اس طرح کے الزامات کی بارہا تردید کرتا رہا ہے۔