سزائے موت اور ہاتھ کاٹنے کی سزائیں بحال کی جائیں گی: طالبان

  • جمعہ 24 / ستمبر / 2021
  • 5160

طالبان کے بانی رہنما اور امورِ جیل خانہ جات کے وزیر ملا نورالدین ترابی نے کہا ہے کہ طالبان  ملک میں سزائے موت اور ہاتھ کاٹنے جیسی سزاؤں پر عمل درآمد کیا جائے گا۔

خبر رساں ادارے 'ایسوسی ایٹڈ پریس' کو ایک انٹرویو کے دوران ملا ترابی نے کہا کہ اس مرتبہ طالبان کی حکومت میں ججز مقدمات کی سماعت کریں گے جن میں خواتین بھی شامل ہوں گی۔ البتہ افغانستان کے قانون کی بنیاد قرآن ہو گا۔ طالبان کی جانب سے ماضی میں کھلے میدان میں سرِ عام سزائیں دینے پر ہونے والی تنقید کو مسترد کرتے ہوئے انہوں نے کہا کہ دنیا افغانستان کے معاملات میں مداخلت سے باز رہے۔

انہوں نے کہا کہ کھلے میدان میں سزائیں دینے پر ہر کسی نے ہم پر تنقید کی لیکن ہم نے سزاؤں سے متعلق کسی بھی ملک کے قانون پر کچھ نہیں کہا۔ کسی کو یہ بتانے کی ضرورت نہیں کہ ہمارے قوانین کس قسم کے ہونے چاہیئں۔ ملا ترابی نے کہا کہ ہم اسلام کی پیروی کریں گے اور اپنے قوانین قرآن کے مطابق بنائیں گے۔

یاد رہے کہ ماضی میں طالبان کی جانب سے کابل اسپورٹس اسٹیڈیم یا عیدگاہ گراؤنڈ میں عام شہریوں کے سامنے دی جانے والی سزاؤں پر بین الاقوامی برادری مذمت کرتی رہی ہے۔

ملا ترابی کا ماضی کی سزاؤں پر دوبارہ عمل درآمد کرنے سے متعلق کہنا تھا کہ کابینہ فی الحال اس پر غور کر رہی ہے کہ آیا سزا پر عمل درآمد سرِ عام کیا جائے یا اس حوالے سے کوئی پالیسی بنائی جائے۔ اے پی کی خاتون صحافی کو انٹرویو کے دوران ملا ترابی نے کہا کہ ماضی کے مقابلے میں اس مرتبہ ہم میں تبدیلی آئی ہے۔

انہوں نے کہا کہ طالبان اب ٹی وی، موبائل فونز، تصاویر اور ویڈیوز کی اجازت دیں گے۔ کیوں کہ ان کے بقول یہ لوگوں کے لیے ضروری ہیں اور ہم اس بارے میں سنجیدہ ہیں۔ طالبان نے دیکھا ہے کہ پیغام رسائی کے لیے میڈیا بہت اہم ہے اور ہم سمجھتے ہیں کہ اس کی مدد سے ہم چند سو لوگوں کے بجائے لاکھوں افراد تک پہنچ سکتے ہیں۔

انہوں نے کہا کہ اگر سرِ عام سزا دی جاتی ہے تو لوگوں کو ویڈیوز اور تصاویر بنانے کی اجازت ہو گی جس کا بڑے پیمانے پر اثر ہو گا۔ اس طرح کی سزاؤں کا دفاع کرتے ہوئے ملا ترابی نے کہا کہ ہاتھ کاٹنا سیکیورٹی کے لیے بہت ضروری ہے اور اس کے بڑے پیمانے پر اثرات ہیں۔