طالبان امن میں امریکا کے شراکت دار ہوسکتے ہیں: عمران خان
- جمعہ 24 / ستمبر / 2021
- 3440
وزیر اعظم عمران خان کا کہنا ہے کہ افغانستان کے نئے حکمران طالبان خطے میں امن کے لیے امریکا کے شراکت دار ہوسکتے ہیں۔
بین الاقوامی جریدے کو انٹرویو دیتے ہوئے ان کا کہنا تھا کہ امریکی انخلا کے بعد افغانستان کو گزشتہ 20 سالوں سے امریکی نیٹو کے تعاون سے چلنے والی گورننس کی منتقلی میں مشکلات کا سامنا ہے۔ ایسا لگتا ہے کہ طالبان نے 40 سالوں میں پہلی بار پورے ملک پر کنٹرول حاصل کر لیا ہے۔ اس لیے ایک امید ہے کہ پورے افغانستان میں سکیورٹی قائم ہو سکتی ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ ایک پرامن افغانستان پاکستان کے لیے فائدہ مند ہوگا اور تجارت اور ترقیاتی منصوبوں کے امکانات کھولے گا۔ تاہم کووڈ 19، تنازعات اور سابقہ حکومتوں کی ناکامیوں کی وجہ سے افغانستان کو انسانی بحران کا سامنا ہے۔ اس کو ترجیحی بنیاد پر حل کیا جانا چاہیے۔ اس کے علاوہ ہمیں کابل میں حکام کے ساتھ مل کر کام کرنے کی ضرورت ہے تاکہ افغانستان میں موجود دہشت گرد گروہوں بالخصوص تحریک طالبان پاکستان (ٹی ٹی پی) کو بے اثر کیا جا سکے۔
امریکہ کے افغانستان کے حوالے سے اقدام سے اس کی ساکھ اور اثر و رسوخ کے متاثر ہونے کے بارے میں سوال کے جواب میں وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ امریکا نے اپنی ذمہ داری، مہنگی ترین فوجی مداخلت کو ختم کر دیا ہے جو کہ امریکی صدر نے خود تسلیم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ پاکستان اور امریکا دونوں کو افغانستان سے دہشت گردی کو روکنے کی ضرورت ہے۔ اس مقصد کے لیے ہمیں اس ملک میں انسانی بحران سے نمٹنے اور اس کی معاشی بحالی کی حمایت کرتے ہوئے افغانستان کے استحکام میں مدد کے لیے تعاون کرنا چاہیے۔ انہوں نے کہا کہ یقیناً امریکا کا کابل سے افراتفری میں انخلا کی وجہ سے فوری طور پر منفی اثرات مرتب ہو سکتے ہیں۔ امریکا نے افغانستان سے اپنی مرضی سے انخلا کیا ہے لہذا مجھے نہیں لگتا کہ امریکی انخلا طویل المدت طور سے عالمی سطح پر امریکی ساکھ کو ختم کرے گا۔
وزیر اعظم کا کہنا تھا کہ جہاں تک چین کا تعلق ہے اگر چین افغانستان کو معاشی مدد فراہم کرتا ہے تو یہ فطری بات ہے کہ افغانی اسے قبول کر لیں گے۔ طالبان نے چین پاکستان اقتصادی راہداری (سی پیک) میں شامل ہونے اور چین کے ساتھ قریبی تعلقات قائم کرنے کے امکانات کا خیر مقدم کیا ہے۔
ان کا کہنا تھا کہ امریکا بھی افغانستان میں انسانی امداد فراہم کر کے افغانستان کی بحالی اور تعمیر نو میں حصہ ڈال کر اور افغانستان سے دہشت گردی پر قابو پانے میں تعاون کر کے افغانستان میں ایک اہم اور مثبت کردار ادا کر سکتا ہے۔ مجھے یقین ہے کہ امریکا افغانستان میں نئی حکومت کے ساتھ مل کر مشترکہ مفادات اور علاقائی استحکام کو فروغ دے سکتا ہے۔
پاکستان کے اسلامی امارات افغانستان کو تسلیم کرنے کے حوالے سے سوال کے جواب میں عمران خان کا کہنا تھا کہ طالبان نے ایک 'قائم مقام حکومت' قائم کر رکھی ہے اور اس میں کوئی شک نہیں کہ بعد میں حکومت کے مزید مستقل ڈھانچے کا اعلان کریں گے۔ پاکستان اس بات کا پابند ہے کہ وہ افغانستان میں ڈی فیکٹو حکام کے ساتھ مشاورت کرے تاکہ پڑوسی ملک میں معاشی اور انسانی بحران اور دہشت گردی کی بحالی کو روکا جا سکے۔
انہوں نے کہا کہ ایک بار جب کابل میں حکومت پورے ملک پر کنٹرول قائم کر لے گی تو وہ قانونی طور پر تسلیم کرنے کی اہل ہو جائے گی تاہم پاکستان افغانستان کے دیگر پڑوسیوں کے ساتھ مل کر نئی حکومت کو تسلیم کرنے کے حوالے سے کسی فیصلے تک پہنچنے کو ترجیح دے گا۔