نئے قانون سے یورپ کے لئے پاکستانی برآمدات مشکل ہوسکتی ہیں

  • ہفتہ 25 / ستمبر / 2021
  • 4000

یورپی کمیشن نے کم آمدنی والے ممالک میں پائیدار ترقی کو فروغ دینے کے لیے مصنوعات کی درآمد پر ڈیوٹی ہٹانے یا کم کرنے کے لیے نئی یورپی یونین جنرلائزڈ اسکیم آف ترجیحات (جی ایس پی)  پر قانون سازی کی تجویز منظور کی ہے۔

پاکستان 2014 سے موجودہ جی ایس پی پلس اسکیم کا سب سے زیادہ فائدہ اٹھا رہا ہے۔ موجودہ ریگولیشن کے تحت کئی سو مصنوعات پر صفر فیصد ڈیوٹی ہے جو 31 دسمبر 2023 کو ختم ہو جائے گی۔ یورپی پارلیمنٹ اور کونسل اب نئی تجویز پر تبادلہ خیال کریں گے۔ ان تجویز پر عملدرآمد سے نیا جی ایس پی ریگولیشن یکم جنوری 2024 سے لاگو ہوگا۔

اسلام آباد میں یورپی کمیشن نے جی ایس پی پر نئی قانون سازی کی تفصیلات جاری کیں۔2023 میں ختم ہونے والی جی ایس پی پلس کے تحت یورپی کمیشن 27 بین الاقوامی کنونشنز کے نفاذ میں پاکستان سمیت دیگر ممالک کی مسلسل پیش رفت کا جائزہ لے رہا ہے۔ گزشتہ مانیٹرنگ رپورٹس میں کچھ پیش رفت کو مثبت طور پر دیکھا کیا گیا جبکہ چائلڈ لیبر، تشدد، میڈیا کی آزادی اور انصاف تک رسائی کے حوالے سے خدشات کا اظہار کیا گیا تھا۔

موجودہ جی ایس پی پلس اسکیم میں پاکستان کی پوزیشن اور نئی اسکیم میں شمولیت کے امکانات پر تبصرہ کرتے ہوئے پاکستان میں یورپی یونین کی سفیر اندرولا کمینارا نے کہا کہ 2014 میں جی ایس پی پلس کا درجہ ملنے کے بعد سے یورپی مارکیٹ تک ترجیحی رسائی سے پاکستان کی معیشت کو بہت فائدہ ہوا۔

پاکستان کی برآمدات میں 60 فیصد اضافہ ہوا جس سے یورپی یونین پاکستانی سامان کے لیے سب سے اہم مقام بن گیا۔ تاہم 2023 سے آگے جی ایس پی پلس کے تحت تجارتی ترجیحات کو برقرار رکھنے کے لیے پاکستان کو اپنے بین الاقوامی کنونشنز کو حقیقی طور پر تبدیل کرنا ہوگا۔

نئے جی ایس پی پلس سسٹم کے تحت کیس کو مؤثر بنانے کے لیے پاکستان کو کسی دوسرے ممکنہ فائدہ اٹھانے والے ملک کی طرح یورپی یونین کے اراکین پارلیمنٹ اور رکن ریاستی حکومتوں کو قائل کرنے کے لیے ٹھوس پیش رفت کا مظاہرہ کرنا ہوگا۔