لاہور ہائی کورٹ نے نابالغ لڑکی کا قبول اسلام جائز قرار دیا

  • ہفتہ 25 / ستمبر / 2021
  • 6860

لاہور ہائی کورٹ نے ایک فیصلہ میں کہا ہے کہ مسلم فقہا بچے کی ذہنی صلاحیت کو اسلام قبول کرنے کے لیے انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔

جسٹس طارق ندیم نے عیسائی برادری کے ایک رکن کی جانب سے دائر درخواست خارج کرتے ہوئے ریمارکس دیے کہ مذہب کی کوئی واضح تعریف نہیں ہے، یہ عقیدے کا معاملہ ہے۔ رکشہ ڈرائیور گلزار مسیح نے اپنی بیٹی کی بازیابی کی درخواست دائر کی تھی جس نے اسلام قبول کرنے کے بعد ایک مسلمان شخص سے شادی کرلی تھی۔

فیصل آباد کے گلزار مسیح نے الزام لگایا تھا کہ اس کی نابالغ بیٹی چشم کنول کو محمد عثمان اور اس کے ساتھیوں نے اغوا کیا تھا۔ پولیس نے لڑکی کو بازیاب کرا لیا لیکن والدین کی تحویل میں دینے سے انکار کر دیا کہ اس نے اسلام قبول کرلیا اور عثمان کے نکاح میں ہے۔ گلزار مسیح نے کہا کہ اس نے فیصل آباد کی ایک مقامی عدالت سے رجوع کیا لیکن عدالت نے بیٹی کی بازیابی کے لیے ان کی درخواست خارج کر دی۔

جسٹس طارق ندیم نے فیصلہ میں لکھا ہے کہ سپریم کورٹ نے قرار دیا ہے کہ آئین کا آرٹیکل 20 شہریوں کو اپنے عقیدے کی تبلیغ کا حق دیتا ہے لیکن یہ حق کسی کو مذہب تبدیل کرنے کی اجازت نہیں دیتا۔ جبری تبدیلی یا دوسروں پر عقائد مسلط کرنا مذہب کی آزادی کے حق کی خلاف ورزی ہے۔

انہوں نے ریمارکس دیے کہ قرآن پاک اور نہ ہی حضرت محمد مصطفیٰ صلی اللہ علیہ وسلم کی کسی حدیث میں اسلام قبول کرنے کی کم از کم عمر کا تعین کیا گیا ہے۔ حضرت علی رضی اللہ عنہ صرف 10 برس کے تھے جب انہوں نے اسلام قبول کیا۔ مسلم فقہا بچے کی ذہنی صلاحیت کو اس کے تبدیلی مذہب کے وقت انتہائی اہمیت کا حامل سمجھتے ہیں۔

جسٹس طارق ندیم نے ریمارکس دیے کہ ہائی کورٹ، آئین کے آرٹیکل 199 کے تحت اپنے دائرہ اختیار کا استعمال کرتے ہوئے حقائق پر مبنی تحقیقات نہیں کر سکتی کیونکہ یہ سوال کہ آیا تبدیلی مذہب فاسد ہوگئی یا دوسری صورت میں شواہد ریکارڈ کیے بغیر اس کا تعین نہیں کیا جا سکتا۔

درخواست گزار نے ایف آئی آر میں اپنی بیٹی کی عمر 17 سال بتائی ہے اور یہ ریکارڈ سے الگ ہو گیا ہے کہ اس نے مدعا علیہ سے شادی کی تھی اور فوجداری ضابطہ کی دفعہ 164 کے تحت جوڈیشل مجسٹریٹ کے سامنے اپنا بیان بھی ریکارڈ کرایا تھا۔

جسٹس طارق ندیم نے کہا کہ لڑکی نے اپنے بیان میں کہا تھا کہ وہ اپنے فیصلے میں خود مختار ہے اور اپنی مرضی سے اور بغیر کسی جبر کے اسلام قبول کیا تھا اور کسی نے اسے اغوا نہیں کیا تھا۔ بعد ازاں عدالت نے گلزار مسیح کی جانب سے دائر درخواست خارج کردی۔