افغان عوام کی خاطر طالبان حکومت کو مضبوط اور مستحکم کیا جائے: وزیر اعظم

  • ہفتہ 25 / ستمبر / 2021
  • 5700

وزیراعظم عمران خان نے دنیا کو افغانستان میں منڈلاتے ہوئے بڑے انسانی بحران سے خبردار کرتے ہوئے کہا ہے کہ غیر مستحکم، افراتفری کا شکار افغانستان ایک بار پھر دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن سکتا ہے

اقوام متحدہ کی جنرل اسمبلی سے ویڈیو لنک پر خطاب میں انہوں نے کہا کہ آگے بڑھنے کا واحد راستہ یہ ہے کہ افغانستان کے عوام کی خاطر موجودہ افغان حکومت کو مضبوط اور مستحکم کیا جائے۔ جنرل اسمبلی کے 76ویں اجلاس سے ویڈیو لنک کے ذریعے خطاب میں وزیر اعظم نے افغانستان کی صورتحال، تنازع کشمیر، اسلاموفوبیا، بھارت کی جانب سے انسانی حقوق کی وسیع پیمانے پر خلاف ورزیوں، موسمیاتی تبدیلی کے چیلنجز، بدعنوانی کے مضمرات، کووڈ 19 وبا کے اثرات سمیت متعدد موضوعات پر تفصیلی اظہار خیال کیا۔

وزیر اعظم نے کہا کہ افغانستان کی موجودہ صورتحال کے لیے کسی وجہ سے امریکا میں سیاستدانوں اور یورپ کے بعض سیاستدانوں نے پاکستان کو ان واقعات کے لیے مورد الزام ٹھہرایا ہے۔اس پلیٹ فارم سے میں ان سب کو بتانا چاہتا ہوں کہ نائن الیون کے بعد دہشت گردی کے خلاف امریکی جنگ میں جب ہم شامل ہوئے تو افغانستان کے علاوہ جس ملک نے سب سے زیادہ نقصان اٹھایا وہ پاکستان ہے۔

پاکستان اور امریکا نے افغانستان کی آزادی کے لیے مجاہدین گروپوں کو لڑنے کے لیے تربیت دی، ان مجاہدین گروپوں میں القاعدہ اور دنیا بھر سے مختلف گروپس شامل تھے، وہ مجاہدین تھے، افغان مجاہدین، ان کو ہیرو تصور کیا گیا۔ صدر رونالڈ ریگن نے 1983 میں انہیں وائٹ ہاس میں مدعو کیا ان کا امریکا کے بانیان کے ساتھ تقابل کیا۔

عمران خان نے کہا کہ 1989 میں سوویت یونین چلا گیا اور اسی طرح امریکا نے بھی کیا اور افغانستان کو چھوڑ دیا گیا، پاکستان کو 50 لاکھ افغان مہاجرین کے ساتھ چھوڑ دیا گیا۔ ہمیں فرقہ ورانہ مسلح گروہوں کے ساتھ چھوڑ دیا گیا جن کا اس سے پہلے کبھی وجود نہیں تھا۔ لیکن بدترین وقت وہ تھا جب ایک سال بعد پاکستان پر امریکا نے پابندیاں لگا دیں، ایسا محسوس ہوا کہ ہمیں استعمال کیا گیا۔

نائن الیون کے فوری بعد امریکا کو ایک بار پھر پاکستان کی ضرورت پیش آئی کیونکہ اب امریکا کی قیادت میں اتحاد، افغانستان پر حملہ آور ہو رہا تھا اور یہ پاکستان کی لاجسٹک سپورٹ کے بغیر ممکن نہیں تھا۔ وہی مجاہدین جنہیں ہم نے تربیت دی تھی کہ غیر ملکی قبضے کے خلاف جنگ میں ہمارے خلاف ہو گئے، ہمیں شراکت دار کہا جانے لگا اور انہوں نے ہمارے خلاف جہاد کا اعلان کر دیا۔

انہوں نے کہا کہ پاکستان میں اس وقت بھی 30 لاکھ افغان پناہ گزین کیمپوں میں مقیم ہیں جو تمام پختون ہیں۔ ان سب کی افغان طالبان سے وابستگی اور ہمدردی تھی۔ وہ بھی پاکستان کے خلاف ہو گئے اور پہلی مرتبہ پاکستان میں مسلح طالبان سامنے آئے اور انہوں نے بھی حکومت پاکستان پر حملے کیے۔

عمران خان نے کہا کہ دنیا کو معلوم ہونا چاہیے کہ پاکستان میں امریکا نے 480 ڈرون حملے کیے اور ہم سب جانتے ہیں کہ ڈرون حملے اتنے زیادہ عین مطابق نہیں ہوتے اور ہدف بنائے جانے والے شدت پسندوں کے مقابلے میں زیادہ ضمنی نقصان کا باعث بنتے ہیں۔ ایسے لوگ جن کے رشتہ دار جاں بحق ہو جاتے وہ پاکستان سے بدلہ لینا چاہتے تھے۔  2004 سے 2014 کے دوران 50 مختلف مسلح گروہ ریاست پاکستان پر حملہ آور ہو رہے تھے۔

انہوں نے کہا کہ افغان سرزمین سے پاکستان پر حملے ہو رہے تھے لیکن تحسین کے بجائے الزامات لگائے گئے۔ تصور کریں ہمیں کیسا محسوس ہوتا ہے جب افغانستان میں پیش رفت پر ہمیں موردالزام ٹھہرایا جاتا ہے۔ اب پوری عالمی برادری کو سوچنا چاہیے کہ آگے بڑھنے کا راستہ کیا ہے۔ دو راستے ہیں جو ہم اختیار کر سکتے ہیں۔ اگر ہم ابھی افغانستان کو نظرانداز کر دیتے ہیں تو اقوام متحدہ کے مطابق افغانستان کے نصف لوگ پہلے ہی انتہائی غریب ہیں اور اگلے سال تک افغانستان میں تقریباً 90 فیصد لوگ خط غربت سے نیچے چلے جائیں گے۔ وہاں پر ایک بڑا انسانی بحران منڈلا رہا ہے اور اس کے نہ صرف افغانستان کے پڑوسیوں بلکہ ہر جگہ سنگین اثرات مرتب ہوں گے۔

عمران خان نے کہا کہ ایک غیر مستحکم، افراتفری کا شکار افغانستان ایک بار پھر بین الاقوامی دہشت گردوں کے لیے محفوظ پناہ گاہ بن جائے گا اور اسی وجہ سے امریکا، افغانستان آیا تھا۔ انہوں نے اس بات پر زور دیا کہ آگے بڑھنے کا ایک ہی راستہ ہے، ہمیں افغانستان کے عوام کی خاطر موجودہ حکومت کو مضبوط اور مستحکم کرنا چاہیے۔

انہوں نے طالبان کے وعدوں کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ طالبان نے وعدہ کیا ہے کہ وہ انسانی حقوق کا احترام کریں گے، ان کی ایک جامع حکومت ہوگی، وہ اپنی سرزمین دہشت گردوں کو استعمال کرنے کی اجازت نہیں دیں گے اور انہوں نے عام معافی دی ہے۔ اگر عالمی برادری انہیں مراعات دیتی ہے اور ان کی حوصلہ افزائی کرتی ہے تو اس سے ہر ایک کے لیے یکساں طور پر مفید صورتحال ہوگی۔ کیونکہ یہ وہ چار شرائط ہیں جن کے بارے میں دوحہ میں امریکا اور طالبان کے درمیان مذاکرات ہوئے۔

انہوں نے اقوام متحدہ جنرل اسمبلی کے صدر سے مخاطب ہوتے ہوئے کہا کہ وہ بین الاقوامی برادری کو متحرک کریں اور اس سمت میں آگے بڑھیں۔

وزیراعظم نے مقبوضہ جموں و کشمیر کی صورتحال کا ذکر کرتے ہوئے کہا کہ بھارت نے 5 اگست 2019 سے مقبوضہ وادی میں متعدد غیر قانونی اور یکطرفہ اقدامات اٹھائے۔ اس نے 9 لاکھ قابض افواج کے ذریعے دہشت کی فضا قائم کی ہوئی ہے۔ کشمیریوں کی سینئر قیادت پابند سلاسل ہے، میڈیا اور انٹرنیٹ پر سخت پابندیاں ہیں، پرامن احتجاج کو پرتشدد طریقے سے دبایا گیا۔ 13 ہزار نوجوان کشمیریوں کو اغوا کیا گیا اور ان میں سے سینکڑوں کو تشدد کا نشانہ بنایا گیا ہے۔ جعلی مقابلوں میں سینکڑوں بے گناہ کشمیریوں کو ماورائے عدالت قتل کیا گیا اور پورے پورے محلوں اور دیہات کو تباہ کرکے لوگوں کو اجتماعی سزائیں دی گئیں۔

انہوں نے جنرل اسمبلی کو بتایا کہ ہم نے مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارتی سیکیورٹی فورسز کی جانب سے انسانی حقوق کی سنگین اور منظم خلاف ورزیوں کے بارے میں ایک تفصیلی ڈوزیئر جاری کیا ہے۔ غیر قانونی کوششوں کے ذریعے جابرانہ ہتھکنڈوں کا مقصد مقبوضہ وادی میں آبادی کے تناسب کو تبدیل کرنا اور مسلمان اکثریت کو مسلمان اقلیت میں تبدیل کرنا ہے۔

ان کا کہنا تھا کہ بھارتی اقدامات جموں و کشمیر سے متعلق اقوام متحدہ کی سلامتی کونسل کی قراردادوں کی خلاف ورزی ہیں۔ قراردادوں میں واضح طور پر بیان کیا گیا ہے کہ متنازع علاقے کی حتمی حیثیت کا فیصلہ اقوام متحدہ کے تحت آزادانہ اور غیر جانبدارانہ استصواب رائے کے ذریعے اس کے لوگوں کو کرنا چاہیے۔ مقبوضہ جموں و کشمیر میں بھارت کے اقدامات چوتھے جنیوا کنونشن سمیت بین الاقوامی انسانی حقوق اور انسانیت سے متعلق قوانین کی خلاف ورزی ہیں اور جنگی جرائم اور انسانیت کے خلاف جرائم کے مترادف ہیں۔

انہوں نے کہا انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کے بارے میں دنیا کے نقطہ نظر میں یکساں برتاؤ کا فقدان ہے۔ جغرافیائی و سیاسی عوامل یا کاروباری مفادات، تجارتی مفادات اکثر بڑی طاقتوں کو ایسے ممالک کی خلاف ورزیوں کو نظر انداز کرنے پر مجبور کر دیتے ہیں۔ اس طرح کے دوہرے معیارات بھارت کے معاملے میں سب سے زیادہ واضح اور نمایاں ہیں۔ جہاں آر ایس ایس ۔ بی جے پی حکومت کو تمام تر آزادی کے ساتھ انسانی حقوق کی خلاف ورزیوں کی اجازت دی جارہی ہے۔

عمران خان نے کہا کہ پاکستان کے ساتھ بامعنی اور نتیجہ خیز رابطے کے لیے سازگار ماحول پیدا کرنے کی ذمہ داری بھارت پر عائد ہوتی ہے۔ وہ  5 اگست 2019 سے کیے گئے اپنے یکطرفہ اور غیر قانونی اقدامات واپس لے۔ کشمیری عوام کے خلاف ظالمانہ کارروائیاں اور انسانی حقوق کی خلاف ورزیاں بند کرے، مقبوضہ وادی میں آبادی کا تناسب تبدیل کرنے کے اقدامات کو روکے۔ پاکستان اور بھارت کے درمیان ایک اور تصادم کو روکنا بھی ضروری ہے۔ بھارت کی فوجی طاقت میں اضافہ، جوہری ہتھیاروں کی تیاری اور غیر مستحکم کرنے والی روایتی صلاحیتوں کا حصول دونوں ممالک کے درمیان باہمی ڈیٹرنس کو سبوتاژ کر سکتا ہے۔

انہوں نے کہا کہ  اسلاموفوبیا ایک خطرناک رجحان ہے۔ اس کی روک تھام کرنے کی ضرورت ہے۔ نائن الیون کے دہشت گرد حملوں کے بعد دہشت گردی کو بعض حلقوں کی طرف سے اسلام کے ساتھ منسوب کیا گیا ہے۔ اس سے دائیں بازو، زینو فوبک اور پرتشدد قومیت پرستی، انتہا پسندی اور دہشت گرد گروپوں کے مسلمانوں کو ہدف بنانے کے رجحان میں اضافہ ہوا ہے۔ ہم امید کرتے ہیں کہ سیکریٹری جنرل کی رپورٹ میں اسلاموفوبیا اور دائیں بازو کے انتہا پسندوں سے درپیش دہشت گردی کے ان نئے خطرات پر توجہ مرکوز کی جائے گی۔

عمران خان نے اقوام متحدہ کے سیکریٹری جنرل پر زور دیا کہ وہ اسلاموفوبیا کےخلاف عالمی مکالمے کا اہتمام کریں۔ بین المذاہب ہم آہنگی کے فروغ کے لیے کوششیں ہونی چاہئیں۔

وزیراعظم عمران خان نے کہا کہ ترقی پذیر دنیا میں ان کے کرپٹ حکمران اشرافیہ کی جانب سے لوٹ مار کی وجہ سے امیر اور غریب ممالک کے درمیان فرق خطرناک رفتار سے بڑھ رہا ہے۔ احتساب، شفافیت اور سالمیت کے بارے میں سیکریٹری جنرل کے اعلیٰ سطح کے پینل نے تخمینہ لگایا ہے کہ 7 ٹریلین ڈالر کے چوری شدہ اثاثہ جات دوسرے ملکوں میں جمع ہیں۔ یہ منظم چوری اور اثاثہ جات کی غیر قانونی منتقلی ترقی پذیر اقوام پر گہرے منفی اثرات مرتب کرتی ہے۔

وزیر اعظم نے کہا کہ جنرل اسمبلی کو اس انتہائی پریشان کن اور اخلاقی طور پر ناگوار صورتحال کے تدارک کے لیے بامقصد اقدامات اٹھانے چاہئیں۔

عمران خان نے کہا کہ موسمیاتی تبدیلی کرہ ارض کے وجود کو لاحق خطرات میں سے ایک ہے۔ پاکستان کا عالمی سطح پر مضر گیسوں کے اخراج میں حصہ نہ ہونے کے برابر ہے، پھر بھی ہم دنیا میں موسمیاتی تبدیلی کے اثرات کے 10 انتہائی متاثر ممالک میں شامل ہیں۔

ان کا کہنا تھا کہ کورونا وبا، اقتصادی مندی اور موسمیاتی ایمرجنسی کے سہ جہتی بحران سے نبرد آزما ہونے کے لیے ہمیں ایک جامع حکمت عملی درکار ہے جو تین امور پر محیط ہونی چاہیے۔ ویکسین میں مساوات ہو، ہر ایک کو، ہر جگہ کووڈ کے خلاف جتنی جلدی ممکن ہو سکے ویکسین فراہم کی جانی چاہیے۔

ترقی پذیر ممالک کو مناسب سرمایہ دستیاب ہونا چاہیے۔ قرضوں کی جامع ری اسٹرکچرنگ، توسیع شدہ او ڈی اے، استعمال شدہ ایس ڈی آرز کی تقسیم نو اور ایس ڈی آرز کا وسیع تر حصہ ترقی پذیر ممالک کو مختص کرنے اور کلائمیٹ فنانس کی فراہمی کے ذریعے یقینی بنایا جا سکتا ہے۔