شفاف انتخابات اور ٹکراؤ کی پالیسی سے گریز
- تحریر سلمان عابد
- ہفتہ 25 / ستمبر / 2021
- 4490
سیاست، جمہوریت، قانون کی حکمرانی او رمنصفانہ نظام کے لیے شفاف انتخابات ناگزیر ہیں۔ کیونکہ شفاف انتخابات کی بنیاد پر ہی ہم اپنے سیاسی او رانتخابی نظام کی ساکھ قائم کرسکتے ہیں۔
المیہ یہ ہے کہ یہاں ہر انتخابات کے بعد انتخابی ساکھ پر بنیادی نوعیت کے سوالات اٹھائے جاتے ہیں جو انتخابی ساکھ کو متنازعہ بنانے کا سبب بنتے ہیں۔ماضی میں ہم نے انتخابات کی شفافیت کے لیے کئی اہم اقدامات اٹھائے لیکن مسائل حل ہونے کی بجائے اور زیادہ انتشار پیدا کرتے ہیں۔ 2014میں تمام سیاسی پارلیمانی جماعتوں کی سربراہی میں بننے والی 35رکنی کمیٹی برائے انتخابی اصلاحات کی جانب سے دی جانے والی تجاویزسمیت انتخابی دھاندلی کا جائزہ لینے والے جو عدالتی ڈیشل کمیشن کی42 کے قریب الیکشن کمیشن کو بے ضابطگیوں پر دی جانے والی تجاویز سے بھی کوئی مثبت نتیجہ برآمد نہیں ہوسکا۔
حالیہ دنوں میں ہمیں 2023کے انتخابات کی شفافیت کے تناظر میں حکومت، حزب اختلاف، الیکشن کمیشن اور نادرا کے درمیان ٹکراؤ پر مبنی پالیسی دیکھنے کو مل رہی ہے۔سیاست او رجمہوریت کی بنیادی کنجی اصلاحات کے نظام سے جڑی ہوتی ہے او راصلاحات کی بنیاد پر ہی ہم ملکی سطح پر اپنے سیاسی او رانتخابی نظام کو شفاف بناسکتے ہیں۔لیکن المیہ یہ ہے کہ یہاں حکومت، حزب اختلاف، الیکشن کمیشن اور نادرا انتخابی سطح پر اصلاحات کے مقابلے میں ایک دوسرے کے مدمقابل کھڑے ہیں۔حالانکہ مجموعی صورتحال کو مدنظر رکھ کر اصولی طور پر ان تمام فریقین یا اہم اداروں کو تصادم کی پالیسی سے گریز کرنا چاہیے تاکہ ٹکراو کی پالیسی سیاسی نظام کو کمزور کرنے کا سبب نہ بنے۔عام انتخابات سے قبل اس سطح پر ٹکراو یقینی طور پر نئے انتخابی عمل کو بھی متنازعہ بناسکتا ہے۔
الیکشن کمیشن کے بقول الیکٹرانک ووٹنگ کے استعمال سے نہ تو دھاندلی رک سکتی ہے او رنہ ووٹر کی شناخت خفیہ رہے گی او ربیلٹ پیپرز کی کسی بھی سطح مناسب رازداری او رووٹرز کی شناخت بھی گم رہے گی۔اسی طرح ووٹنگ مشین کے سافٹ ویر، اخراجات کا تخمینہ سمیت مشین کو ہیک کرنے یا ٹیمپر کرنے، ایک ہی روز میں انتخابات کے انعقاد، ووٹر کی تعلیم و تربیت جیسے سوالات کو اٹھا کرانتخابات کی شفافیت اور ساکھ پر بھی سوالات اٹھائے ہیں۔الیکشن کمیشن نے سینٹ کی قائمہ کمیٹی میں جمع کرائی گئے اپنی رپورٹ میں 37اعتراضات اٹھائے ہیں۔ اہم بات یہ کہی گئی کہ ووٹنگ مشین پر عوام کا اعتماد نہیں۔دلچسپ بات یہ ہے کہ الیکشن کمیشن کے 37نکات میں سے 27نکات کا کوئی براہ راست تعلق ووٹنگ مشین سے نہیں ہے۔جو دس نکات ووٹنگ مشین سے متعلق ہیں اس پر حکومت پہلے ہی الیکشن کمیشن کو بات چیت کی دعوت دے کر عملا مزاکرات اور تصفیہ کا دروازہ کھولا ہے۔
ایک بات سب کو سمجھنی ہوگی کہ الیکشن کمیشن کا کام انتخابات کے انعقاد کا ہوتا ہے۔ انتخابات کے تناظر میں قانون سازی کرنا پارلیمنٹ کا کام ہوتا ہے۔یہ عمل حکومت اور حزب اختلاف کے درمیان باہمی تعاون سے ہی ممکن ہوتا ہے۔اس لیے اگر الیکشن کمیشن پارلیمنٹ سے خود کو عملا سپریم بنانے کی کوشش کرے گی تو یقینی طور پر یہ حکومت، پارلیمنٹ اور اداروں کے درمیان ٹکراؤ کا سبب بن سکتا ہے۔الیکشن ایکٹ 2017 کی دفعہ103کے تحت الیکٹرانک ووٹنگ مشین کے لیے آئین میں ترمیم کی ضرورت نہیں، پارلیمنٹ ایکٹ کے زریعے اس ابہام کو دور کیا جاسکتا ہے۔ اس کے لیے حکومت پارلیمنٹ کا مشترکہ اجلاس بلا کر بھی اس مسئلہ کا حل نکال سکتی ہے۔ اسی طرح یہ کوشش بھی ہورہی ہے کہ حکومت حزب اختلاف کے بعض جماعتوں او رارکان کی مدد یا حمایت سے یہ نیا نظام لاسکتی ہے۔
سوال یہ ہے کہ الیکشن کمیشن نے جو اعتراضات میڈیا کے سامنے پیش کیے ہیں وہ کیونکر حکومت او رالیکشن کمیشن تک محدود نہیں ہوسکے۔ کیوں ہمیں الیکشن کمیشن اور حکومت کے درمیان ٹکراو نظر آتا ہے۔یہ بات تو کافی حد تک درست ہے کہ الیکشن کمیشن حکومت کو ڈکٹیشن دے کر خود بھی اختیارات سے تجاوز کررہا ہے۔اسی طرح حکومت او رالیکشن کمیشن کے درمیان بیان بازی او رایک دوسرے پر الزام تراشی کی سیاست بھی مناسب نہیں اور یہ جتنی جلدی ختم ہوگی اتنا ہی یہ سب کے مفاد میں ہوگا۔ویسے جو لوگ الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر اعتراض کررہے ہیں ان کو یہ بنیادی بات تو سمجھنی ہوگی کہ ہمیں آج نہیں تو کل یقینا اسی فارمولے کو اختیار کرنا ہوگا۔ کیونکہ دنیا جس تیزی سے ڈیجیٹل دنیا میں جارہی ہے اس کو مدنظر رکھ کر ہمیں مستقبل کی منصوبہ بندی کرنی چاہیے۔بحث ایکٹرانک ووٹنگ پر نہیں بلکہ اس کے طریقہ کار پر ہونی چاہیے اور جو بھی ان پر اعتراضاف اٹھائے جارہے ہیں اس پر تمام فریقین کے درمیان بات چیت او رکسی متفقہ فیصلہ پر پہنچنا ہی مسئلہ کا حل ثابت ہوگا۔ اگر ہم آنکھیں بند کرکے اور وہی روائتی یا فرسودہ سوچ و خیالات کو اپنی انا کا مسئلہ بنا کر کھڑے رہیں گے تو ہمیں جدیدیت کی بنیاد پر وہ بڑے فیصلے نہیں کرسکیں گے جو ہماری مستقبل کی ضرورت بنتے ہیں۔
الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر تو گنتی یا ووٹ کو جانچنے کا عمل دو دفعہ ہوگا ایک مشین کی مدد سے اور دوسرا کاغذ بیلٹ کی بنیاد پر یعنی ووٹوں کی گنتی کا کاؤنٹر چیک موجود رہے گا۔اصولی طور پر تو الیکشن کمیشن کو الیکٹرانک ووٹنگ مشین پر جو تحفظات ہیں ان کو دور کرنے کی بات پر زیادہ زور دینا چاہیے تھا، مگر اس کو مجموعی طور پر مسترد کرنے سے حکومتی سخت ردعمل بھی سمجھ میں آتا ہے۔ ویسے حکومت کو چاہیے کہ اس برس خیبر پختونخواہ اور اگلے برس ابتدائی سہہ ماہی میں پنجاب میں مقامی حکومتوں کے انتخابات کی طرف بڑھ رہے ہیں۔ بہتر ہوگا کہ حکومت اگر ان دونوں صوبوں میں مکمل نہیں تو کم ازکم ایک خاص حصہ کو بنیاد بنا کر الیکشن کمیشن کی مدد سے ان صوبوں میں مقامی حکومتوں کے انتخابات میں ہم الیکٹرانک ووٹنگ مشین کا تجربہ کرسکتے ہیں، تاکہ بہتر نتائج کوجانچااور آگے کی طرف پیش قدمی کی جاسکے۔الیکشن کمیشن محض حکومت سے ہی نہیں بلکہ وہ نادرا کے ساتھ بھی ٹکراو کی سیاست کا حصہ بن گیا ہے۔نادرا کے مقابلے میں الیکشن کمیشن کا رویہ نادرا کے بارے میں کافی سخت گیر ہے جو عملا ردعمل کی سیاست کو جنم دینے کا سبب بن رہا ہے۔
پاکستان میں انتخابات کی نگرانی میں کام کرنے والے اہم ادارہ فری اینڈ فیئر الیکشن نیٹ ورک)فافن(بھی ہے۔ ان کے بقول اصولی طور پر کسی بھی طرز کی انتخابی اصلاحات کا عمل تمام فریقین کی مشاورت سے ہونا چاہیے۔تاکہ انتخابی اصلاحات کا عمل متنازعہ نہ بن سکے۔ فافن کا موقف ہے کہ انتخابی اصلاحات ایک جامع پیکج ہے او رمحض اس عمل کو الیکٹرانک ووٹنگ یا سمندر پار پاکستانیوں کو ووٹ دینے کے حق تک ہی محدود نہ کیا جائے۔یہ بات درست ہے کہ اس وقت بحث کا محور ترمیمی بل 2021پر ہورہی جس میں الیکٹراک ووٹنگ اور سمندر پار لوگوں کو ووٹ کا حق دینے پر ہے۔لیکن انتخابی اصلاحات کے تناظر میں اور بھی بہت سی خرابیاں ہیں جن میں خود سیاسی جماعتوں کے ایکٹ میں کافی ترامیم کرنا ہوگی۔کیونکہ سیاسی جماعتوں کا اپنا داخلی نظام شفاف انتخابات کے عمل میں رکاوٹ ہے۔ اسی طرح پیسوں کی بنیاد پر انتخابی نظام کا یرغمال ہونا او رکارپوریٹ انتخابی نظام کا عمل ہی شفاف او رمنصفانہ انتخابات میں رکاوٹ کا سبب بنتا ہے۔الیکشن کمیشن کی خود مختاری او ر ان سے جڑی شفافیت کیسے ممکن ہوگی او رجب بھی انتخابی عمل ہوتا ہے تو سب سے زیادہ شکایات کا عمل انتخابی دھاندلی سمیت انتخابی سطح کی بے ضابطگیوں کی صورت میں سامنے آتا ہے۔اچھی بات یہ ہے کہ اب حکومت اور حزب اختلاف اسپیکر قومی اسمبلی کی سربراہی میں مشترکہ پارلیمانی کمیٹی کی تشکیل پر متفق ہوگئی ہیں او رخود الیکشن کمیشن نے معاملات میں مفاہمت کا رویہ اختیار کیا ہے۔ کیونکہ یہ معاملات اصولی طور پر پارلیمنٹ میں ہی طے ہونے ہیں او راچھا ہوگا کہ تمام فریقین مل کر شفاف انتخابات کے عمل کو یقینی بنائیں تاکہ اس ملک میں دھاندلی کی عملی سیاست کا خاتمہ ہو۔ یہ ہی عمل ملک میں انتخابات کی سیاسی ساکھ کو قائم کرنے اورسیاسی و جمہوری عمل کو مضبوط بنانے میں معاون ثابت ہوگا۔