آسیب کا سایہ
- تحریر خالد محمود رسول
- ہفتہ 25 / ستمبر / 2021
- 5090
بہت کم ایسے خوش قسمت شاعر ہوتے ہیں جن کے اشعار اس قدر زباں زدِ عام ہو جائیں کہ ضرب المثل کی حیثیت اختیار کر لیں۔ منیر نیازی ہمارے عہد کے بے مثل شاعر تھے، اپنے منفرد انداز، ڈکشن اور لہجے کے سبب اپنی زندگی ہی میں ان کے بے شمار اشعار کو ضرب المثل کی سی حیثیت حاصل ہو گئی تھی۔ ان کا ایسا ہی ایک شعر ہے:
منیر اس ملک پر آسیب کا سایہ ہے یا کیا ہے
کہ حرکت تیز تر ہے اور سفر آہستہ آہستہ
یہ شعر ہمیں اس ہفتے وزارت توانائی میں تین سالوں کے دوران آٹھویں سئینیر ترین کار پرداز کی رخصتی پر یاد آیا۔ وزیر اعظم عمران خان کے مشیر خصوصی برائے پاور اور پٹرولیم تابش گوہر نے استعفیٰ دے دیا۔ گزشتہ چند ہفتوں سے اقتدار کی راہداریوں میں یہ سرگوشیاں گردش کر رہی تھیں کہ دل کا جانا ٹھہر گیا ہے صبح گیا کہ شام گیا۔ وزیر اعظم کی موجودگی میں چند کیبنٹ اجلاسوں میں کئی ایک وزرا نے ان کی تجویز کردہ پالیسیوں کو جس انداز میں آڑے ہاتھوں لیا اور دیکھتے دیکھتے وہ جس تیزی سے اہم امور سے لاتعلق کر دیے گئے، اس کے بعد یہ استعفیٰ حیران کن نہیں تھا۔
تابش گوہر کا استعفیٰ حیران کن نہ سہی مگر وزارت توانائی میں استعفوں کا تسلسل ضرور حیران کن ہے۔ ان سے پہلے سات بڑے نامی گرامی سیاسی اور غیر سیاسی جغادری بھی اس انجام سے دوچار ہوئے۔ اس فہرست میں وفاقی وزیر غلام سرور خان، عمر ایوب خان، معاون خصوصی ندیم بابر، معاون خصوصی شہزاد قاسم سمیت دو تین سیکریٹریز بھی شامل ہیں۔ تین سالوں میں جس وزارت کے اربابِ اختیار کے اپنے پاؤں میں اس قدر چکر ہوں، اس وزارت پر ہو نہ ہو بقول منیر نیازی آسیب کا سایہ ہی ہو سکتا ہے کہ آنیاں جانیاں اس قدر مگر مسائل کا پہاڑ پہلے سے بھی اونچا۔
اپوزیشن میں رہتے ہوئے عمران خان کا ایک زوردار دعوی یہ رہا کہ ان کے پاس دو سو غیر ملکی ماہرین کا پول موجود ہے جو اپنے اپنے فیلڈ کے ماہر ہیں۔ انہیں حکومت ملی تو وہ ان عالی دماغ ماہرین سے فائدہ اٹھاتے ہوئے اس ملک کی تقدیر بدل دیں گے۔ وزارت توانائی میں ان ملکی و غیر ملکی ماہرین کو جن کا تعلق نجی شعبے کی انتہائی موقر کمپنیوں سے تھا، لانے کا مقصد اس وزارت کی تقدیر بدلنا مقصود تھا مگر افسوس ایسا ہو نہ سکا۔ کیوں؟ ہر ایک کی ناکامی یا وزیر اعظم کی ان سے ناخوشی کی اپنی اپنی وجوہات ہیں مگر ایک بات بہت واضح ہے کہ گھاس دوسری جانب سے ہمیشہ سر سبز نظر آتی ہے۔
اپوزیشن لیڈر عمران خان کو شاید توانائی کے شعبے کی پیچیدگیوں، ٹیکنیکل معاملات کی باریکیوں اور مفادات کی پھیلی ہوئی طویل اور وسیع جڑوں کا اندازہ ہی نہ تھا۔ کنٹینر پر کھڑے ہو کر بجلی کے نرخوں میں ہونے والے اضافے کو حکومتی سربراہ کی چوری سے تعبیر کرنا آسان تھا، مگر زمینی حقائق بہت سنگین اور کہیں زیادہ گنجلک ہیں۔ بجلی، گیس، پٹرولیم اور قدرتی وسائل کی وزارتوں میں مدتوں سے سرمایہ کاری اور ٹیکنیکل سروسز کے بڑے بڑے مگر مچھ قابض رہے ہیں۔ بے نظیر بھٹو کے دوسرے دور کی پاور پالیسی سے لے کر موجودہ دور تک اس لنکا میں جو بھی آیا باون گز کا ہی آیا۔ کیسپیسٹی چارجز، بجلی جنریشن کے یکطرفہ معاہدے اور ہر معاہدے میں انٹرنیشنل کورٹ کی رسائی جیسی دفعات سے ان گرگوں نے ملک کو اندر سے کھوکھلا اور وزارت کو باندھ کے رکھ دیا ہے۔
دور کیا جانا، سرکلر ڈیبٹ پر الزامی میچ پی پی پی حکومت، مسلم لیگ ن حکومت اور اب پی ٹی آئی حکومت کے دوران شدّ و مد سے جاری رہا اور اب بھی جاری ہے۔ مگر سرکلر ڈیبٹ کل ختم ہوا نہ آج اور شاید کبھی ختم ہو بھی نہ ۔ مسلم لیگ ن حکومت کے دور میں سرکلر ڈیبٹ ایک ہزار روپے تک پہنچا جو اب اڑھائی ہزار ارب روپے کے نزدیک پہنچ چکا ہے۔ بجلی کے ساتھ ساتھ پاکستان گیس کی قلت کا بھی شکار ہے۔ ملک میں موجود گیس کے ذخائر ملکی ضروریات کے لئے ناکافی ہیں۔ دنیا میں بھارت اور جاپان سمیت بہت سے ممالک ہیں جو گیس امپورٹ کرتے ہیں۔ گیس کی خریداری ٹیکنیکل اور مالیاتی اعتبار سے پیچیدہ عمل ہے جس کا دارو مدار کئی دیکھے ان دیکھے عالمی مارکیٹ فیکٹرز پر ہوتا ہے۔ درآمد ی ممالک نے اس ضمن میں رسک کنٹرول کرنے کے لئے مختلف پالیساں بنا رکھی ہیں۔
ن لیگ کی حکومت کے زمانے میں ملک میں گیس کی بڑے پیمانے پر امپورٹ کی سپلائی چین قائم ہوئی، قطر کے ساتھ ایک طویل مدت خریداری معاہدہ بھی کیا گیا۔ پی ٹی آئی نے اس سارے عمل میں کئی سو ارب روپے کی کرپشن کا الزام لگایا۔ نیب نے مقدمات بنائے۔ ابھی تک ایک بھی مقدمہ منطقی انجام کو نہیں پہنچا مگر فیصلہ سازی کے مشکل فیصلوں سے اب حکام کی جان جاتی ہے۔ الزامات اور اندھا دھند کیسز بنانے کے جنون نے فیصلہ سازی کے عمل کو نقصان پہنچایا ہے اور ذمہ داری سے گریز کو فروغ دیا ہے۔ دونوں صورتوں میں نقصان ملک اور عوام کا ہورہا ہے اور الزامات کی تپش پی ٹی آئی کو پہنچ رہی ہے۔ کچھ یہی تماشا تیل کی امپورٹ اور قیمتوں کے تعین میں ہو رہا ہے۔ رہی سہی کسر روپے ڈالر کی شرح مبادلہ نے نکال دی۔
حکومت آئی ایم ایف کے ساتھ اگلے ماہ مذاکرات کی تیاری کر رہی ہے، سبسیڈیز کم کرنے اور بجلی گیس کی قیمتیں بڑھانے کا مقدمہ ایک بار پھر سرِ فہرست ہو گا۔ تابش گوہر کو گلہ تھا کہ دیگر وزرا کی مسلسل مداخلت نے ان کے لئے مسائل کھڑے کئے جبکہ ادھر اُدھر کی سرگوشیوں کے مطابق ان کی پالیسیوں کا حتمی مقصد کچھ بااثر سرمایہ کاروں فائدہ پہنچانا تھا، لہذا تکرار کے سوا چارہ نہ تھا۔ اللہ ہی جانے حقیقت کیا تھی مگر تین سالوں میں وزارت توانائی میں 8ویں سینئیر کارپرداز کے استعفیٰ کی اصل وجہ کہیں یہ تو نہیں کہ وزارت توانائی پہ آسیب کا سایہ ہے! اس کا علاج تو درست تشخیص، منظم اور حقیقت پسند پالیسیوں، تحمل اور ٹھہراؤ کے دَم درود سے ہی ہو گا، صرف تعویذ گنڈا بدلنے سے کہاں کام چلے گا۔