قائدِ اعظم کے مجسمے کا قتل
- تحریر مسعود مُنّور
- سوموار 27 / ستمبر / 2021
- 14390
گوادر کی میرین ڈرائیو پر نصب بانی پاکستان کے مجسمے کو حال ہی میں دھماکہ خیز مواد سے تباہ کردیا گیا ہے اور عالمی میڈیا کے مطابق اس واردات کی ذمہ دار ی بلوچ ری پبلکن آرمی نے قبول کر لی ہے۔
یوں تو پاکستان کے سیاسی کعبے میں اور بھی مجسمے ہیں لیکن ان میں شاعرِ مشرق علامہ سر محمد اقبال اور بانی پاکستان حضرت قائد اعظم محمد علی جناح کے مجسمے سرِ فہرست ہیں ۔ جہاں تک قائداعظم کے مجسمے کی اہانت کا معاملہ ہے تو یہ اپنی نوعیت کی پہلی واردات نہیں ہے۔ ایسی بے حُرمتی پہلی بار نہیں کی گئی بلکہ سب سے پہلے 1958 میں فیلڈ مارشل ایوب خان نے مارشل لا کا ہتھوڑا مار کر سیاسی صنم خانے میں رکھا قائد اعظم کا مجسمہ چکنا چور کردیا تھا۔ یہ ایک سول معاشرے کو فوجیا کر اُسے جمہوریت کے راستے سے بھٹکانے کا مکروہ اقدام تھا۔ دوسری بار یہ مجسمہ 1971 میں جنرل یحیٰ خان کی رہنمائی میں توڑا گیا اور مجسمے کا آدھے سے زیادہ دھڑ خلیج بنگال میں ڈبو کر غرق کردیا گیا جس کے نتیجے میں بنگلہ دیش وجود میں آ گیا۔ یہ نظریہ پاکستان کے سر پر ایک کاری ضرب تھی ، جو اس بات کی غماز تھی کہ دو قومی نظریے کے علمبرداروں نے خود ہی اس نظریے کی تنسیخ کردی تھی جس کے مطابق بر صغیر میں جن دو قوموں کی نشان دہی کی گئی تھی کہ اُن کے مذہبی کلچر الگ ا الگ ہیں جس کی بنا پر وہ ایک ساتھ نہیں رہ سکتے، سو فی صد درست نہیں تھا بلکہ یہ ایک جزوی صداقت تھی۔ چنانچہ 1971 کے دسمبر میں پتہ چلا کہ برِ صغیر کی دوسری قوم جسے مسلمان کہا جاتا ہے ، ملی وحدت سے محروم ہے اور آپس میں مل کر نہیں رہ سکتی اور بنگلہ دیش کا وجود اُس کا جیتا جاگتا ثبوت تھا اور ہے۔
مشرقی پاکستان کے کالعدم قرار پانے کے بعد ہم پاکستانی پاکستان کا نصف رہ گئے تھے یعنی نصف نظریہ پاکستان کے نصف پاکستانی جسے ہم نے سو فی صد قرار دے لیا اور اب یہ نصف قوم اپنے صفائی سے تہی نصف ایمان کے ساتھ دو قومی نظریے کی بلا شرکتِ غیرے داعی اور شارح بنی ہوئی ہے ، حالانکہ وہ نہیں جانتی کہ بچے کھچے پاکستان کے جغرافیائی ساخت میں دو قومی نظریے کا اونٹ کس کروٹ بیٹھا ہے۔ ایسے لگتا ہے کہ قائد اعظم کا دوقومی نظریہ تحلیل ہو کر ایک نئی صورت اختیار کر گیا ہے جس کے مطابق پاکستان میں اب بھی دو قومیں آباد ہیں۔ ان دو قوموں کے دو ہی پاکستان ہیں۔ سول پاکستان اور عسکری پاکستان۔ یہ دونوں اگرچہ ایک ہی صفحے پر ہونے کے دعویدار ہیں مگر حقیقت کچھ اور ہے۔ جس کی اجمالی صورتِ احوال یہ ہے کہ ایک طرف ووٹ کی عزت کی دعویدار جمہوریت ہے جس میں ووٹر کی کوئی عزت نہیں۔ ووٹر بے چارہ سیاسی شطرنج کا وہ پیادہ ہے جس سے اُس کا لباس یعنی ووٹ چھین لیا جاتا ہے اور اُسے نا مساعد معاشی حالات کے سرد و گرم میں برہنہ پھینک دیا جاتا ہے۔ ایسے میں اقبال اور قائد اعظم وہ شو پیس بنا دیے گئے ہیں جنہیں دھات میں حنوط کر کے چوہتر سالہ تاریخ کے عجائب گھر میں نصب تو کردیا گیا ہے مگر ان کے تحفظ کی کوئی ضمانت نہیں اور یہ مجسمے جئے سندھ، بلوچستان لبریشن آرمی ، ٹی ٹی پی اور پشتونستان کے انتہا پسندوں اور شورہ پشتوں کی ہِٹ لسٹ پر رہتے ہیں ۔ یہ ہر عہد کے مسلمان کا المیہ رہا ہے کہ وہ قومی اور علاقائی تحریکوں کے تیروں سے چھلنی ہو کر ہمیشہ زخموں سے چور رہا ہے۔ ہر مسلمان کی پہلی شناخت مذہب یا نظریہ نہیں بلکہ علاقائی شناخت ہے جس کی زہرناکی کو محسوس کرتے ہو ئے اقبال نے کہا تھا:
نہ افغانیم و نے ترک و تتاریم
چمن زادیم و از یک شاخساریم
تمیزِ رنگ و خون بر ما حرام است
کہ ما پروردہ ء یک نو بہاریم
اور آج کے پاکستان کا ا لمیہ یہ ہے کہ مسلمان خود کو علاقائیت کے حوالے سے شناخت کرتا ہے۔ وہ بلوچی پہلے ہے اور مسلمان بعد میں۔ اور یہ عصبیت اسلام کے ساتھ ہی پیدا ہوئی اور پروان چڑھی اور وقت کے ساتھ عربی و عجمی کی تقسیم فروغ پاتی اور جڑیں پکڑتی گئی ۔ مذہبی فرقوں نے ملی وحدت کو کو ہمیشہ پارہ پارہ کیے رکھا اور تازہ ترین المیہ یہ ہے کہ اب بچے کھچے پاکستان کے سکہ بند اور محبِ وطن پاکستانیوں کے دل بھی ایک ساتھ نہیں دھڑکتے ۔ تاریخ گواہ ہے کہ ہم پاکستانی ایک متحد، منظم اور صاحبِ ایمان قوم نہیں بن سکے۔ اور قائد اعظم کے مجسمے کے حالیہ قتل سے یہ عندیہ ملتا ہے کہ ہم منتشر الخیال اور راہِ استقامت سے منحرف ہیں۔ گوادر کے ڈپٹی کمشنر میجر (ریٹائرڈ) عبدالکریم خان زرگوں نے میڈیا کو بتایا ہے کہ قائد اعظم کے مجسمے کو بارودی مواد سے اُڑانے اور نیست و نابود کرنے کے معاملے کی اعلیٰ سطح پر تحقیق کی جا رہی ہے اور اب تک کی موصولہ معلومات کے مطابق پاکستان کے عسکریت پسند، سیاح بن کر اس علاقے میں داخل ہوئے تھے۔ ڈپٹی کمشنر کا کہنا ہے کہ تا حال مجسمے کا کوئی قاتل گرفتار نہیں ہو سکا۔ تا ہم اُمید کی جا رہی ہے کہ ایک دو روز میں تحقیقات مکمل ہو جانے کے بعد کاروائی کی جائے گی ۔ ڈپٹی کمشنر کے مطابق معاملے کا ہر پہلو سے جائزہ لیا جا رہا ہے اور اُمید ہے کہ ملزمان جلد گرفت میں آ جائیں گے۔
اس طرح کی وارداتیں دیکھتے آسمان کی آنکھیں دکھنے لگی ہیں اور منتظموں کے بیانات سن سن کر کان پک گئے ہیں اور پاکستانی نہیں جانتے کہ اُن کے نظریے کے ساتھ کیا بیت رہی ہے۔ وہ نظریہ جو نہ صرف ان کا آدرش ہے، بلکہ جیتا جاگتا وط ن ہے۔ یہ نظریہ ہی پاکستان ہے ۔ مگر عام پاکستانی اندھیرے میں بھٹک رہے ہیں۔ اور میں سوچ رہا ہوں:
اس اندھیرے میں کسی جگنو کے آنسو ہی ملا
یہ وہ بستی ہے جہاں شب کی سحر کوئی نہیں
عرصہ ء نفرت میں ہیں ہم دشمنوں کے درمیاں
اس وطن میں اب محبت کا شجر کوئی نہیں۔
اور یہ ڈھکی چھپی بات نہیں ہے کہ موجودہ پاکستانی معاشرہ متحارب سیاسی، عسکری اور مذہبی قوتوں کا اکھاڑہ بنا ہوا ہے، جہان ہر شخص ہر شخص کا دشمن ہے اور یہ دشمنی اب ایک قومی روزمرہ، ملی عادت اور نفسیاتی بیماری بن چکی ہے اور وہ یگالگنت اور وحدت جو قوم کی تعمیر کے لیے لازمی ہوتی ہے کہیں کسی بھی سطح پر موجود نہیں۔ سب کچھ زبانی جمع خرچ کا کچا چٹھا ہے جس کی کوئی ٹھوس بنیاد نہیں۔ اور اگر اس صورتِ حال کا تدارک نہ کیا گیا تو قائد اعظم کے مجسموں کی حفاظت کرنے والا کوئی نہ ہوگا اور اس صورتِ حال کی ذمہ داری ہم سب پر ہوگی کیونکہ ہم سب قومی وحدت اور متحد پاکستان کے نادان علمبردار ہیں اور نہیں جانتے ہم کیا کر چکے ہیں، کیا کر رہے ہیں اور ہمارے کرتوتوں کا انجام کیا ہوگا۔ اور اب اقبال کا ایک شعر یاد آیا ہے جو میرے دردِ دل کی تفسیر ہے:
نہ سمجھو گے تو مٹ جاؤ گے اے ہندوستاں والو
تمہاری داستاں تک بھی نہ ہوگی داستانوں میں