عالمی سیاست کے چیلنجز اور عالمی فورمز کا کردار

دنیا  کو اس وقت داخلی اور خارجی محاذ پر بہت سے اہم چیلنجز کا سامنا ہے۔ دنیا کا کوئی بھی ملک مسائل کو سیاسی تنہائی میں حل نہیں کرسکتا اوران مسائل کا حل علاقائی اور عالمی سیاست کے معاملات اور دوطرفہ تعاون کے ساتھ ہی جڑے ہوتے ہیں۔

عمومی طور پر ہم دنیا کے مسائل کے حل میں دو طرح کے امکانات کو دیکھتے ہیں۔ اول عالمی سطح پر موجود ممالک اوربالخصوص طاقت پر مبنی ممالک کا  سیاسی، سماجی اورمعاشی طرزعمل۔ دوئم  عالمی سطح کے اہم فورمز جن میں اقوام متحدہ یعنی یو این بھی شامل ہے،  کی پالیسیوں، طرز عمل اورکردار کی بنیاد پر دنیا کے طاقت ور ممالک کو مجبور کرنا یا ان پر دباؤ ڈالنا کہ وہ عالمی سیاست میں منصفانہ اور شفافیت پر مبنی پالیسیوں کی مدد سے آگے بڑھیں۔ یہ ہی عمل جن میں دنیا کے حکمران عالمی سطح کے فورمز پر جوابدہ ہوں دنیا میں  محرومی کی سیاست اور تضادات یا ٹکراو کی سیاست کو کم کرنے کا سبب بنتا ہے۔

وزیر اعظم عمران خان نے حالیہ اقوام متحدہ کے جاری اجلاس میں اپنے ورچوئل خطاب میں دنیا کی توجہ چند اہم معاملات میں دلائی ہے۔ ان کے بقول دنیا اوراقوام متحدہ کے فورم کو افغانستان کے بحران کے حل میں افغانستان اور طالبان کی مدد، پاک بھارت تعلقات میں بہتری پیدا کرنے اور دونوں ممالک میں عملی طو رپر جنگ روکنے، مسئلہ کشمیر کا پرامن سیاسی حل، بھارت میں مسلم کشی، مقبوضہ کشمیر میں تاریخ کی بدترین انسانی حقوق کی پامالی، اسلاموفوبیا پر عالمی سطح پر مکالمہ، امیر ممالک سے کرپٹ اشرافیہ سے دولت کی وصولی اور رقوم کی واپسی کے لیے قانونی فریم ورک بنانے کی ضرورت، کرونا بدحالی کا مقابلہ کرنے کے لیے ترقی پزیر ملکوں کو فنانسنگ کی سہولت، ترقیاتی اہداف 2030پر موثر سطح کی حکمت عملی، ماحولیاتی تبدیلی میں عالمی ممالک کا تعاون جیسے اہم او رحساس معاملات پر عالمی دنیا کی توجہ دلائی ہے۔ وزیر اعظم عمران خان کے بقول ان تمام معاملات کا حل کسی ایک طاقت ور ممالک کے پاس نہیں بلکہ صورتحال کا تقاضہ ہے کہ عالمی طاقت ور ممالک اور عالمی سطح پر موجود فورمز مل کر تمام بڑے چھوٹے ممالک کے ساتھ دو طرفہ تعاون کے امکانات کو پیدا کریں۔

وزیر اعظم عمران خان نے افغان بحران کے حل میں بھی اسی فورم پر تجویز دی کہ امریکہ اور دیگر بڑی طاقتیں طالبان کے ساتھ امن کے لیے پارٹنر بنیں۔ کیونکہ ان کے بقول افغانستان میں دہشت گردی او ردہشت گردگروپس کو غیر موثر کرنے کے لیے واشنگٹن او راسلام آباد کو مل کر کام کرنا ہوگا۔ ایک دوسرے پر الزام تراشی کی سیاست یا زمینی حقایق کو پس پشت ڈال کر ماضی کی غلطیوں کو تواتر کے ساتھ دہرانے سے بھی نہ صرف افغانستان بلکہ خطہ کی مجموعی صورتحال کو ایک بڑے انتشار سے نہیں بچایا جاسکتا۔ جب تک افغانستان کی سرزمین کو کسی بھی ملک کے خلاف دہشت گردی کے لیے استعمال سے نہیں روکا جائے گا، بہتر تبدیلی ممکن نہیں۔ بنیادی طور پر وزیر اعظم عمران خان نے اقوام متحدہ کے عالمی فورم کی توجہ دلائی ہے کہ ہمارے جیسے ممالک ایک بڑی منصفانہ اور موثر تبدیلی سمیت بڑی طاقتوں کی مثبت حکمت عملی کی بنیاد پر آپ کی طرف دیکھ رہے ہیں۔

یہ بات تسلیم کرنی ہوگی کے اقوام متحدہ کا پلیٹ فارم تمام ممالک کو یہ موقع فراہم کرتا ہے کہ وہ اپنے اپنے معاملات پر اپنی سوچ اور فکر کو بنیاد بنا کر اپنا بیانیہ عالمی فورمز پر پیش کریں۔ اقوام متحدہ جیسے اہم فورمز کا مقصد عالمی سطح پر ممالک او ربالخصوص چھوٹے یا کمزور ممالک کے معاملات پر ایسی موثر حکمت عملی کو پیش کرنا ہے کہ جس میں عالمی دنیا کے بڑے ممالک ان اہم فورمز پر خود جو جوابدہ سمجھیں اور ان کے معاملات پر کڑی نگرانی کے بعد ان کو ہر سطح پر جوابدہ یا احتسابی عمل سے گزارہ جائے۔ یہ ہی عمل بنیادی طور پر اقوام متحدہ جیسے اہم فورمز کی سیاسی، انتظامی اور قانونی ساکھ کو قائم کرتا ہے او ردنیا میں اس اہم فورمز پر لوگوں سمیت تمام ممالک کا اعتماد بڑھتا ہے۔ کیونکہ یہ سو چ اور فکر کہ اقوام متحدہ کا فورم محض ایک ایسا فورم ہے جہاں لوگ اپنی بات تو کریں، مطالبات تو پیش کریں، قرادداد کی حمایت یا مخالفت تو کریں یا کوئی پالیسی بیان جاری کریں مگر عملی طور پر یہ دنیا کے طاقت ور ممالک کو کسی بھی سطح پر جوابدہ نہ بنائے تو ایسے فورم اپنی ساکھ قائم نہیں کرسکتے۔یہ ہی وجہ ہے کہ دنیا کی سطح پر اقوام متحدہ جیسے اہم فورم کی حمایت سے زیادہ مخالفت زیادہ ہے۔ ایک بڑا طبقہ اقوام متحدہ کے اس اہم فورم کو بڑی طاقتوں کا آلہ کار یا ان ممالک کے سامنے کمزور حیثیت سے دیکھتا ہے۔

پاکستان کے لیے اقوام متحدہ جیسے فورم کی اہمیت اس لیے بھی زیادہ ہے کہ ہم اس وقت عالمی اور علاقائی سیاست میں ایک اہم فریق کی بنیاد پر نظر آتے ہیں۔ دنیا کی توجہ ہم پر بھی ہے اور ہمیں بہت سے معاملات پر عالمی دباؤ کا سامنا بھی ہے اورایک خاص ممالک کا طبقہ عالمی سطح کی یا علاقائی صورتحال میں پاکستان کو ذمہ داد قرار دیتا ہے۔ یقینی طور پر پاکستان سے ماضی میں بے پناہ غلطیاں ہوئی ہیں اور ہم اس کا اب ہر سطح پر اعتراف بھی کرتے ہیں۔ لیکن آج کا پاکستان آگر خود کو بدلنا چاہتا ہے اوراپنی سیاسی سوچ اور فکر کو عالمی سمیت علاقائی سیاسی مفاد کے طور پر پیش کرتا ہے تو ایسے میں ہمارے ساتھ تعاون کی بجائے الزامات کی سیاست ظاہر کرتی ہے کہ ہمیں ایک مخصوص تعصب پر مبنی رویوں کی بنیاد پر دیکھا جارہا ہے۔ افغانستان کی مثال ہمارے سامنے ہے۔ اس وقت امریکہ اپنی دو دہائیوں پر مبنی جنگی، طاقت یا سیاسی حکمت عملی کی بنا پر افغانستان میں ایک بڑی ناکامی سے دوچار ہوا ہے۔ عالمی سطح پر یہ اعتراف موجود ہے کہ پاکستان نے افغان بحران کے حل میں ایک مثالی کردار ادا کیا ہے، لیکن اس کے باوجود امریکہ او راس کے اتحادی اگر دنیا کی سیاست میں پاکستان کو بنیاد بنا کر الزام تراشی کی سیاست کریں گے تو اس سے وہ ممالک بشمول پاکستان پر اس تعاون کے منفی اثرات نمایاں ہوں گے  ۔ یہ ہی وجہ ہے افغانستان او ربھارت کے تناظر میں ہم کو پاک امریکہ تعلقات میں کافی بداعتمادی دیکھنے کو ملتی ہے۔

مسلم دنیا کو جو آج بڑے چیلنجزکا سامنا ہے اس میں اقوام متحدہ کا یہ فورم کوئی بڑا مثالی کردار ادا نہیں کرسکا۔ اسلامو فوبیا کے حوالے سے بھی اس اہم ادارے کی جانب سے کوئی موثر حکمت عملی دیکھنے کو نہیں مل سکی۔ انسٹیوٹ آف گلوبل چینج کی ایک حالیہ تحقیق کے مطابق دنیا بھر میں مذہبی انتہا پسندی پر مبنی جرائم کا احاطہ کیا جائے تو یہ واضح ہوتا ہے کہ ایسے جرائم کی شرح امریکہ میں 23فیصد، برطانیہ میں  40 اورکینڈا میں 83فیصد بڑھی ہے۔ اسی طرح صرف مسلم دشمنی پرمبنی واقعات کو دیکھیں ایسے حملوں کی شرح میں امریکہ 18.07فیصد، برطانیہ میں یہ شرح 26فیصدبڑھی ہے۔ لیکن ان اہم او رحساس معاملات کو سمجھنے کے لیے اقوام متحدہ جیسے فورمز کے پاس بھی کوئی حل نظر نہیں آتا جو بلاوجہ مغرب او راسلام میں دوریاں پیدا کرنے کا سبب بنتا ہے۔ اس میں مغربی میڈیا کا کردار بھی سمجھنے کی ضرورت ہے جو انتہا پسند یا دہشت گرد عناصر کو انفرادی سطح پر پیش کرنے کی بجائے ان کو محض اسلام کے ساتھ جوڑ کر پیش کرتا ہے جو مسلم دنیا میں ردعمل کی سیاست کو جنم دینے کا سبب بنتا ہے۔

اس لیے اگر اقوام متحدہ کو اپنا کردار محض تقریروں تک محدود کرنا ہے تو اس سے دنیا کے چھوٹے یا کمزور ممالک کو کوئی بڑا فائدہ نہیں ہوگا بلکہ یہ تاثر اور زیادہ مضبوط ہوگا کہ کمزور ممالک عالمی طاقت ور ممالک کے ساتھ ساتھ ان عالمی فورم کے دوہرے معیارات، تضادات اور ٹکراؤ یا تعصب پر مبنی پالیسیوں کا شکار ہیں۔ اس لیے اقوام متحدہ کو دنیا کے اہم معاملات پر روائتی، فرسودہ یا عالمی طاقتوں کے دباؤ میں خود کو رکھ کر فیصلے کرنے کی بجائے سے

غیر معمولی صورتحال میں غیر معمولی اقدامات کی طرف توجہ دینی ہوگی۔ اسے ہر صور ت میں بڑے ممالک کی سیاست سے باہر نکل کر چھوٹے اورکمزور ملکوں کی آواز کو بھی سننا ہوگا اور عملی اقدامات بھی کرنے ہونگے، یہ ہی سب کے مفاد میں ہے۔