پاکستان افغان فوج کی تنظیم نو میں مدد کرےگا
- منگل 28 / ستمبر / 2021
- 5010
پاکستان کے اعلیٰ عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ افغانستان میں طالبان کی حکومت کے قیام کے بعد پاکستان افغان فوج کی تنظیم نو میں مدد دینے کے لیے تیار ہے اور اس سلسلے میں افغان حکام سے بات چیت بھی ہوئی ہے۔
پاکستانی فوج کے ایک سینیئر افسر نے بی بی سی کو بتایا ہے کہ پاکستان ’افغان فوج کی تنظیم نو میں مدد کرے گا۔‘ انہوں نے بتایا کہ آئی ایس آئی کے سربراہ لیفٹیننٹ جنرل فیض حمید کے حالیہ دورہ کابل کا ایک مقصد اسی معاملے پر بات چیت کرنا بھی تھا۔
تاہم عسکری ذرائع کا کہنا ہے کہ یہ پیشکش پاکستان کی جانب سے موجودہ افغان حکومت کو تسلیم کیے جانے اور افغان فوج میں تمام حلقوں کی نمائندگی سے مشروط ہے۔ پاکستانی فوج کے ایک اور اعلیٰ افسر کا کہنا ہے کہ یہ بات چیت تو ہے، تاہم فی الحال اس کا کوئی باقاعدہ روڈ میپ موجود نہیں اور ایسا کوئی بھی اقدام مستقبل قریب میں اس وقت تک ممکن نہیں جب تک کہ طالبان حکومت کو تسلیم نہیں کر لیا جاتا۔
پاکستان اس بارے میں پہلے ہی واضح کر چکا ہے کہ خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر افغانستان میں طالبان کی حکومت کو تسلیم کیا جائے گا۔ انہوں نے مزید کہا کہ اس وقت افغانستان کو کسی بیرونی قوت سے کوئی خطرہ نہیں ہے۔ انہیں ایک مضبوط پولیس اور بارڈر منیجمنٹ فورس کی ضرورت ہے، اگر ان کی تربیت کی درخواست کی گئی تو پاکستان کی حکومت اس معاملے پر فیصلہ کرے گی۔
خیال رہے کہ حال ہی میں وزیراعظم عمران خان نے بی بی سی کو دیے گئے ایک انٹرویو میں کہا تھا کہ پاکستان خطے کے دیگر ممالک کے ساتھ مل کر طالبان کی حکومت تسلیم کرنے سے متعلق حتمی فیصلہ کرے گا۔